پیٹرولیم بحران پر وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر سے استعفی لے لیا گیا
- جمعہ 26 / مارچ / 2021
- 4480
گزشتہ سال ملک میں پیدا ہونے والے پیٹرولیم بحران کے پیش نظر وزیر اعظم عمران خان نے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر کو عہدہ چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ پیٹرول کا بحران پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا تاہم حالیہ واقعے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے بحران سے متعلق فیصلہ کیا کہ اس کی تحقیقات کی جائیں۔ اس کی ذمے داری ایف آئی اے کو دی گئی جنہوں نے ایک رپورٹ تیار کی جو چند ماہ قبل کابینہ میں پیش کی گئی۔
فیصلہ کیا گیا کہ کابینہ کی کمیٹی بنائی جائے گی جو اس رپورٹ کا مطالعہ کرے گی اور پھر اپنی سفارشات مرتب کر کے وزیر اعظم کو دے گی۔ اسد عمر نے بتایا کہ اس کمیٹی میں شفقت محمود، شیریں مزاری، اعظم سواتی اور وہ خود شامل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے تین مختلف حصوں میں سفارشات ترتیب دیں۔ سب سے پہلے مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف ثبوت لائے جائیں گے تاکہ ذمہ داروں مقدمات چلائے جا سکیں۔ اس سلسلے میں ایف آئی اے فارنزک انویسٹی گیشن کرے گی اور 90 دن کے اندر اپنی رپورٹ مکمل کرے گی جس کی بنیاد پر پروسیکیوشن کا کم شروع کیا جا سکے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ تیل کی غیر قانونی فروخت میں جو بھی ملوث ہے اس کا بھی اس رپورٹ میں احاطہ کیا گیا ہے اور اس کا بھی فارنزک کیا جائے گا۔ جب تک ایف آئی اے 90 دن میں فارنزک مکمل کرے گا، وزیر اعظم نے اس دوران معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔ اسی طرح سیکریٹری پیٹرولیم کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں وزیراعظم کے معاون خصوصی یا سیکریٹری پیٹرولیم سے متعلق کوئی غیرقانونی اقدام نظر آیا ہے۔ لیکن وزیر اعظم نے یہ فیصلہ کیا تاکہ کوئی تحقیقات کے دوران فیصلوں پر اثرانداز نہ ہوسکے۔
انہوں نے کہا کہ دوسری چیز انتظامی کارروائی ہے۔ آپریشنل فیصلوں میں کمزوری تھی، انتظامی عہدوں پر بیٹھے کچھ لوگوں کے بارے میں کہا گیا کہ وہ ان عہدوں کے اہل نہیں تھے۔ پیٹرولیم ڈویژن کو تمام آپریشنل فیصلے دیکھنے اور جلد از جلد ان فیصلوں کے حوالے سے وزیر اعظم کو رپورٹ کرنے کا کہا گیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس کا تیسرا اور آخری پہلو یہ ہے کہ جس قانون کے تحت پیٹرولیم کا سارا نظام چلتا ہے اس میں دو کلیدی شعبے ہیں۔ ایک پیٹرولیم ڈویژن ہے جو ایگزیکٹو برانچ کی نمائندگی کرتا ہے اور دوسرا اوگرا ہے جو ریگولیٹر ہے۔ جو قانون سازی کی گئی ہے اس میں ابہام ہے کہ مختلف کارروائیوں میں اوگرا کی کیا ذمے داری ہے اور پیٹرولیم ڈویژن کی کیا ذمے داری ہے۔ اس ابہام کو ختم کرنے کے لیے قانون بنایا جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال یکم جون کو حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد ملک میں پیٹرول کا بحران پیدا ہوگیا تھا جس پر حکومت اور اوگرا کے نوٹس کے باوجود قلت پر قابو نہیں پایا جا سکا تھا۔ 26 جون 2020 کو جیسے ہی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 25 روپے 58 پیسے اضافہ کیا ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت ختم ہوگئی تھی۔
ملک میں پیٹرول کی قلت اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث کمپنیوں کا پتا لگانے کے لیے وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن نے 8 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔