رؤف کلاسرا کی نئی دلچسپ کتاب
- تحریر مظہر چوہدری
- جمعہ 26 / مارچ / 2021
- 11760
رؤف کلاسرا صاحب کی نئی کتاب " شاہ جمال کا مجاور " پڑھنے بیٹھا تو ارادہ یہی تھا کہ 40 صفحات پر پھیلی ہوئی کتاب کی ٹائٹل کہانی اچھی طرح پڑھنے کے بعد پانچ دس مزید کہانی نما تحریریں پڑھ کر تفصیلی تبصرہ کر دوں گا۔
لیکن یقین کیجئے گا کہ ٹائٹل کہانی " شاہ جمال کا مجاور " پڑھنے کے بعد آگے آنے والی ہر تحریر میں کسی نہ کسی ایسے کردار کی کہانی ملتی جو دل و دماغ پر شاہ جمال کے مجاور ہی کی طرح چھا جاتا ۔ بس پھر کیا تھا، ایک ایک کر کے تقریباً ساری کہانی نما تحریریں پڑھتا گیا۔ ٹائٹل کہانی سمیت دیگر کہانی نما تحریروں کے کرداروں اور نفس مضمون پر بات کرنے سے پہلے اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ مجھے کلاسرا صاحب کی یہ کتاب سابقہ بیسٹ سیلر کتاب " گمنام گاؤں کا آخری مزار " سے زیادہ دلچسپ، بامقصد اور فکر انگیز لگی ہے ۔ خاص طور پر ٹائٹل کہانی میں کلاسرا صاحب نے جس طرح کی خوب صورت اور رواں نثر لکھی ہے، اس کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے انہوں نے انگریزی ادب کے ساتھ ساتھ اردو ادب میں بھی ماسٹر کر رکھا ہے ۔
کلاسرا صاحب نے جس طرح کہانی میں شامل چیزوں اور واقعات کو پھیلایا ہے، اس کے بعد مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ کلاسرا صاحب ایک بہترین ناول لکھنے کے سارے گن جان چکے ہیں ۔ شاہ جمال کا مجاور نامی ٹائٹل کہانی پڑھنے کے بعد آپ جہاں ایک طرف مزاروں پر مجاوروں کی تبدیلی کے پیچھے چھپے حقائق جان سکیں گے، وہیں کلاسرا صاحب کی اپنی مٹی سے مضبوط جڑت محسوس کر سکیں گے ۔ اس کہانی سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ آج سے دہائیوں پہلے مزاروں پر بیٹھے اصل مجاوروں کو بذریعہ طاقت ہٹانے کی سازشیں شروع ہو گئی تھیں۔
اگرچہ کلاسرا صاحب کی کہانی میں مزار کے بزرگ شاہ جمال اپنے مجاور سے سچے قلبی و روحانی تعلق کی بنا پر دو دفعہ عہدے پر بحال کرا دیتے ہیں لیکن بزرگ شاہ جمال کے مجاور کو علاقے کے بااثر افراد کی جانب سے دو بار ہٹانے کی سازشوں میں ہی اس کہانی کی ساری ٹریجڈی اور کلائمیکس چھپا ہے۔ بزرگ شاہ جمال کے مزار کی تاریخ بیان کرتے ہوئے مزار کے پیچھے ایک صدیوں پرانے مینار کا پس منظر کلاسرا صاحب نے کمال خوب صورتی سے واضح کیا ہے۔ مینار کی کہانی پڑھتے پڑھتے قاری دو تین صفحات میں یہ بھی جان لیتا ہے کہ 12 ہزار فوج کے ساتھ ظہیر الدین بابر، کس طرح ابراہیم لودھی کی سوا لاکھ آرمی کو ناکوں چنے چبوا دیے اور پھر شیر شاہ سوری کیسے مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر کے نالائق ولی عہد ہمایوں کو شکست سے دو چار کرکے ہندوستان کا بادشاہ بننے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
کلاسرا صاحب کی اپنی مٹی سے جڑت قابل ستائش ہے۔ وہ برسوں سے اسلام آباد جیسے مصروف شہر میں رہ کر بھی اپنے گاؤں اور اس سے جڑیں یادوں کو نہیں بھولے۔ گھر، گاؤں اور دوست احباب سے متعلق ان کی کہانیاں پڑھ کر لگتا ہے کہ جیسے وہ اپنے ماضی کے سفر کو مکمل کر رہے ہوں۔ کلاسرا صاحب اپنے بارے میں بالکل درست ہی کہتے ہیں کہ " لگتا ہے کہ ان کے اندر صدیوں پرانی نامعلوم اداس روح قید ہے جو ہر دکھی انسان کو دیکھ کر نہ صرف بے چین ہو جاتی ہے بل کہ انہیں مجبور کر دیتی ہے کہ وہ ان کے دکھوں اور غم کو کاغذ پر اتار دیں "۔
اس کتاب میں 12 صفحات پر مشتمل " شکار اور شکاری " کے عنوان سے لکھی گئی کہانی پڑھ کر آپ جان جائیں گے کہ انسان تو انسان، جانوروں کے معاملے میں بھی کلاسرا صاحب کی ہمدردیاں ہمیشہ مظلوم کے ساتھ رہی ہیں ۔ " قصہ سو برس کا " نامی کہانی میں بھی مصنف اپنے پیاروں اور گاؤں سے جڑیں یادوں کو اتنے دلچسپ اور سحر انگیز انداز میں بیان کرتے ہیں کہ پڑھنے والے خود کو اسی ماحول میں محسوس کرتے ہیں۔ مصنف کے ذاتی دکھوں اور المیوں کو بیان کرتی ’ایک پرانا وعدہ‘ نامی کہانی پڑھ کر بڑے سے بڑے سخت دل والے فرد کی بھی آنکھیں بھیگ جائیں گی۔ اسی طرح کی ایک اور پرسوز کہانی آپ کو ’ماں اور ملتان‘ نامی تحریر میں ملے گی۔ اس تحریر میں دو ایسی ماؤں کی کہانی پڑھ کر آپ کا دل پسیج جائے گا جنہیں اپنی موت کے وقت بھی اپنے بچوں کی فکر ہوتی ہے ۔
کتاب کا مجموعی طور پر جائزہ لیں تو ہر دوسری نہیں بل کہ چند ایک کے علاوہ ہر تحریر میں ہی سدا بہار نوعیت کی ایسی کہانی موجود ہے جسے بار بار پڑھنے سے بھی بوریت محسوس نہیں ہوتی ۔ آپ شاہ جمال کے مجاور کی کہانی کے ٹرانس سے نکلے نہیں ہوتے کہ اس سے اگلی تحریر میں لندن میں مقیم پاکستانی والدین کے ہاتھوں اپنی بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کی کہانی آپ کو دم بخود کر دیتی ہے ۔ اس سے اگلی کہانی میں لندن کے تاجر اور کتاب کے مصنف کے درمیان ہونے والے مکالمے نہایت ہی شان دار ہیں ۔" مسلمان ہونے کی کہانی " نامی تحریر برطانوی خاتون صحافی کی کہانی ہے جو طالبان کے کہنے پر قران کا مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ دنیا میں اگر کسی مذہب نے عورت کو حقوق دیے ہیں تو وہ اسلام ہے لیکن مسلمان ہونے کے بعد اسے مسلمان مردوں سے وہ حقوق حاصل کرنے کے لیے قانونی جنگ لڑنا پڑی جو اسلام عورت کو دیتا ہے ۔
’دلی کی ایک اداس شام‘ نامی تحریر پڑھنے کے بعد سامنے آنے والی ایک بوڑھی ماں کی کہانی آپ کی آنکھوں میں آنسو لے آئے گی ۔ یہ کہانی پڑھ کر یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ تقسیم کے وقت صرف مسلمانوں کا ہی قتل عام نہیں ہوا بل کہ مسلمانوں کی صف میں بھی ایسے شرپسندوں کی کمی نہیں تھی جنہوں نے پاکستان میں موجود ہندوؤں کو جانی و مالی نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ کتاب میں اس سے ملتی جلتی اور بھی بھی متعدد کہانیاں ہیں جن میں یا تو کوئی نہ کوئی ٹریجیڈی آپ کو غم زدہ کر دیتی ہے یا پھر انسانیت سے محبت کرنے والے کسی کردار سے آپ حوصلہ اور تحریک حاصل کرتے ہیں ۔ کئی ایک تحریروں کی کہانیوں میں ایسے شاہکار جملے بھی جا بجا موجود ہیں جو اعلی پایہ کے اردو ادب کا ہی خاصہ سمجھے جاتے ہیں ۔ مثال کے طور پر " خوابوں کی موت " نامی تحریر کا آخری اقتباس ملاحظہ فرمائیں ۔ " سردیوں کی اداس کر دینے والی دھوپ میں خاموش بیٹھا سوچ رہا ہوں کہ کیا ہماری زندگی اس دن ختم ہو جاتی ہے جس دن ہم کوئی اپنا پہلا بڑا خواب نہیں پاتے؟ یا اس دن ہی دراصل ہماری نئی زندگی کی نئی اور اصل کہانی شروع ہوتی ہے جس دن ہمارا پہلا بڑا خواب ٹوٹ کر بکھرتا ہے؟ "۔
اسی طرح ماں اور ملتان نامی تحریر میں ایک عمومی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے " گزرے وقت سے سب ہی محبت کرتے ہیں ۔ مشکل وقت حال کا لگتا ہے اور مستقبل سے سب خوف زدہ رہتے ہیں۔" آزادی یا محبت کے عنوان سے لکھی گئی کہانی میں یہ جملہ آپ کو کافی دیر سوچنے سمجھنے پر مجبور کرتا رہے گا ۔ ’ بعض دفعہ اچھی زندگی اگر چار دیواری یا زنجیروں میں گزر رہی ہو تو پھر آزادی اہم ہو جاتی ہے‘۔