امریکہ نے ماحولیات پر سربراہی اجلاس میں پاکستان کو مدعو نہیں کیا
- ہفتہ 27 / مارچ / 2021
- 4840
امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے ماحولیاتی تبدیلیوں پر سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لئے روس کے صدر ولادی میر پیوٹن اور چین کے صدر ژی جن پنگ کو بھی دعوت دی ہے۔ اس اجلاس میں دیگر اڑتیس ممالک کے سربراہوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ پاکستان ان میں شامل نہیں ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے بائیڈن انتظامیہ کے عہدیداروں نے کہا کہ امریکہ کو امید ہے کہ اس اجلاس سے زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی سے متعلق کاوشوں کو سمت دینے اور ان میں تیزی پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ دنیا کے چالیس ممالک کو جمعہ کے روز اس اجلاس کے دعوت نامے ارسال کئے گئے ہیں جو 22 اپریل کو ورچوئیل انداز میں منعقد ہو گا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں کو بھیجے گئے اس دعوت نامے سے صدر بائیڈن اس پلیٹ فارم کو بحال کرنا چاہتے ہیں، جس کی بنیاد صدر جارج ڈبلیو بش اور پھر صدر باراک اوباما نے رکھی تھی۔ کورونا وائرس کی وجہ سے یہ اجلاس ورچوئیل ہوگا اور اسے عوام کے لیے براہ راست نشر کیا جائے گا۔ بائیڈن انتظامیہ کو امید ہے کہ اس فورم سے عالمی لیڈروں کو موقع ملے گا کہ وہ اپنے اپنے ممالک کی جانب سے زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی سے متعلق سخت اہداف مقرر کرنے کا اعلان کریں۔
نومبر میں سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام عالمی ماحولیاتی کانفرنس منعقد ہو گی۔ واضح رہے کہ امریکہ دوبارہ پیرس معاہدے میں شامل ہو گیا ہے اور نومبر کانفرنس میں شریک ہوگا۔ وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق ایسے 17 ممالک کے رہنماؤں کو مدعو کیا گیا ہے جو قریب 80 فیصد کاربن کے عالمی اخراج اور عالمی پیداوار کے ذمہ دار ہیں۔
صدر نے ان ملکوں کے سربراہان کو بھی مدعو کیا ہے جنہوں نے مضبوط کلائمیٹ لیڈرشپ کا مظاہرہ کیا ہے، جو ماحولیاتی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں یا اپنی معیشت کو کاربن کے صفر اخراج کی طرف لے جانے کے لیے نئے طریقے استعمال کر رہے ہیں۔ سمٹ میں چھوٹے پیمانے پر کاروباری اور سول سوسائٹی کے رہنما بھی شرکت کریں گے۔
صدر بائیڈن نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی، بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ، برطانوی وزیراعظم بورس جانسن، ترک صدر طیب اردوغان، سعودی حکمران سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو، فرانس کے صدر میکخواں، یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈرلائن سمیت دیگر رہنماؤں کو مدعو کیا ہے۔ جرمن چانسلر اینگلا مرکل اور کینیڈا کے صدر جسٹن ٹروڈو کے علاوہ جنوبی افریقہ، ویتنام، جنوبی کوریا، نائجیریا، میکسیکو، کینیا، انڈونیشیا، بھوٹان اور برازیل کے رہنماؤں کو بھی ورچوئل شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پر اس خبر کے ردعمل میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ پاکستان کو اس فہرست میں شامل کیوں نہیں کیا گیا اور ورچوئل اجلاس میں وزیر اعظم پاکستان کو دعوت کیوں نہیں دی گئی۔ مائیکل کوگلمین نے لکھا کہ ’پاکستان میں کئی لوگ خوش نہیں کہ عمران خان اجلاس کے شرکا میں نہیں ہوں گے۔‘
صحافی حامد میر نے سوال کیا کہ ’صدر بائیڈن نے ایسے ملک کو کیوں نظر انداز کیا ہے جس نے بلین ٹری سونامی کا منصوبہ شروع کیا؟‘