طالبان پورے افغانستان پر قبضہ کرسکتے ہیں: امریکی ایجنسیاں
- ہفتہ 27 / مارچ / 2021
- 4280
امریکی خفیہ ایجنسیوں نے جوبائیڈن حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ اگر امریکی فوجی دستوں کو فریقین کے درمیان تقسیم اقتدار کے معاہدے کے بغیر واپس بلایا گیا تو 2 سے 3 سال کے عرصے میں طالبان افغانستان کے زیادہ تر حصوں پر قبضہ کرسکتے ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس قسم کے ٹیک اوور سے افغانستان میں القاعدہ کو دوبارہ منظم ہونے میں مدد ملے گی۔ امریکی صدر جو بائیڈن اس بات کا فیصلہ کررہے ہیں کہ کیا ساڑھے 3 ہزار امریکی فوجیوں کے انخلا کے لیے یکم مئی کی ڈیڈ لائن پر عمل کیا جائے جو ان کے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس فروری میں طالبان کے ساتھ معاہدے میں طے کی تھی۔
اخبار نے لکھا ہے کہ کچھ امریکی عہدیداران جو کہ افغانستان میں امریکی فوجی رکھنے کے حامی ہیں، خفیہ اداروں کی رپورٹ کو استعمال کر کے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ فوجیوں کو ڈیڈ لائن کے بعد بھی افغانستان میں موجود رہنا چاہیے۔ وائٹ ہاؤس نے رپورٹ پر کسی قسم کے تبصرے سے انکار کیا ہے۔
یہ کلاسیفائیڈ انٹیلیجنس جائزہ گزشتہ برس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ جو بائیڈن نے بھی وائٹ ہاؤس میں اپنے پہلی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ فوجیوں کے انخلا کی ڈیڈ لائن پر عمل کرنا انتہائی مشکل ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اگلے برس امریکی فوجیوں کی ملک میں موجودگی کا 'تصور نہیں کرسکتے'۔
قبل ازیں طالبان نے کہا تھا کہ اگر غیر ملکی افواج ڈیڈ لائن کے بعد بھی افغانستان میں موجود رہیں تو وہ دوبارہ ان پر حملے شروع کردیں گے۔ یہ حملے امریکا طالبان معاہدے کے بعد روک دیے گئے تھے۔
خیال رہے کہ امریکا اور طالبان رہنماؤں کے مابین مذاکرات کے طویل دور کے بعد فروری 2020 میں امن معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت امریکا نے اپنی افواج کے انخلا جبکہ طالبان نے افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی کروائی تھی۔