آصف زرداری نے پنجاب میں اسٹبلشمنٹ کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی تجویز دی تھی: مریم نواز
- ہفتہ 27 / مارچ / 2021
- 4130
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ پپیپلز پارٹی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے چھوٹے سے عہدے کے لیے 'باپ' سے ووٹ لے لیے۔
لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ دیکھا کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کو حکومتی ارکان نے سلیکٹ کیا۔ باپ کے ارکان، یعنی سب جانتے ہیں کہ آپ اپنے ’باپ‘ کے کہے بغیر کسی کو ووٹ نہیں دیتے۔ جب باپ کا حکم ہوتا ہے وہ حکومتی نشستوں پر نظر آتے ہیں اور جب حکم ہوتا ہے تو اپوزیشن میں آجاتے ہیں۔
مریم نواز نے پیپلز پارٹی کے قائدین کو اگرعہدہ چاہیے تھا تو مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے مانگ لیتے۔ نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی کو سینیٹر بننے کے لیے ووٹ دیا تھا۔ آپ بات کرتے تو نواز شریف آپ کو 17 کے 17 ووٹ دے دیتے۔ مریم نواز نے کہا کہ 'خوشی ہے کہ صف بندی ہوگئی'۔
انہوں نے کہا کہ صف بندی ہونے سے واضح ہوگیا کہ ایک طرف جمہوریت کے لیے قربانی دینے والے کھڑے ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے بلا خوف و خطر جدوجہد کررہے ہیں۔ دوسری طرف وہ جماعت کھڑی ہے جو چھوٹے سے عہدے یا فائدے کے لیے اصولوں کو قربان کرکے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ یہ مسلم لیگ (ن) کی شکست نہیں بلکہ ان لوگوں کی شکست ہے جنہوں نے عہد شکنی کی اور اصولوں کی قربانی دی۔ پیپلز پارٹی کا کردار عوام کے سامنے آچکا ہے۔ مریم نواز نے پیپلز پارٹی کی قیادت کو مشورہ دیا کہ اگر آپ کو سلیکٹ ہونا ہے تو وزیراعظم عمران خان کی طرح ہوں جو پوری ایمانداری سے حکم بجا لاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کھل کر تسلیم کریں کہ آپ نے باپ کے احکامات کو تسلیم کیا اور اب آپ عوامی قوت کھو چکے ہیں۔ حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے مسلم لیگ، مولانا فضل الرحمٰن اور دیگر جماعتیں موجود ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے ایک اجلاس میں آصف علی زرداری نے تجویز دی تھی کہ اگر مسلم لیگ (ن) اور پی ڈی ایم چاہے تو پنجاب میں وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی جگہ کسی اور کو لاسکتے ہیں کیونکہ سلیکٹ کرنے والے بھی یہ ہی چاہتے ہیں۔ لیکن نواز شریف نے سابق صدر کی تجویز کو مسترد کردیا تھا۔
خیال رہے کہ پی ڈی ایم میں شامل 2 بڑی جماعتوں کے درمیان سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کی نامزدگی کے معاملے پر اختلافات کھل کر سامنے آئے ہیں۔ دونوں جماعتوں نے اس سلسلے میں لابی بھی شروع کردی ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اس ضمن میں چھوٹی جماعتوں کے سربراہان سے بات چیت بھی کی ہے۔
پیپلز پارٹی نے تسلیم کیا تھا کہ چیئرمین سینیٹ کے عہدے پر یوسف رضا گیلانی کی نامزدگی کے بدلے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ مسلم لیگ (ن) کو دینے پر اتفاق ہوا تھا لیکن دعویٰ کیا کہ شکست کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔