واشنگٹن میں کار جیکنگ کے دوران پاکستانی جاں بحق

  • سوموار 29 / مارچ / 2021
  • 5480

امریکہ میں کار چھیننے کی ایک واردات کے دوران جاں بحق ہونے والے پاکستانی ڈرائیور محمد انور کی آخری رسومات اور اہلِ خانہ کی مدد کے لیے سات لاکھ ڈالر سے زائد رقم اکھٹی کی گئی ہے۔

محمد انور کی ہلاکت کا واقعہ امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں گزشتہ ہفتے اس وقت پیش آیا تھا جب دو کم عمر مسلح لڑکیوں نے ان سے گاڑی چھیننے کی کوشش کی تھی۔  میٹروپولیٹن پولیس ڈپارٹمنٹ  کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق یہ واقعہ واشنگٹن ڈی سی کی وین اسٹریٹ پر 23 مارچ کو پیش آیا تھا۔ کار چھیننے کی کوشش کے دوران 66 سالہ شخص محمد انور پر اسٹن گن سے حملہ کیا گیا۔ وہ جاں بر نہیں ہوسکے۔

پولیس نے واقعے کے بعد دو کم عمر لڑکیوں کو گرفتار کر لیا تھا جن پر قتل اور کار چھیننے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔  پولیس رپورٹ کے مطابق دونوں لڑکیوں کی عمریں 13 اور 15 برس ہیں۔ تیرہ سالہ لڑکی کا تعلق ساؤتھ ایسٹ ڈی سی سے بتایا جاتا ہے جب کہ 15 سالہ لڑکی فورٹ واشنگٹن میری لینڈ سے تعلق رکھتی ہے۔

واضح رہے کہ ہفتے کو مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں محمد انور کو کار میں موجود افراد سے بحث کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ محمد انور کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ "یہ چور ہیں، یہ میری کار ہے۔" ٹوئٹر پر وائرل ویڈیو میں دیکھا گیا ہے کہ کار میں موجود دو مشتبہ لڑکیوں نے گاڑی کو تیزی سے بھگایا، اس دوران محمد انور گاڑی سے لٹکے رہے، جس کے بعد گاڑی آگے جا کر ٹکرانے کے بعد الٹ گئی۔

گاڑی الٹنے کے بعد دونوں لڑکیاں اس میں سے باہر نکلیں اور محمد انور سڑک کے ایک کنارے زخمی حالت میں پڑے رہے۔ پولیس کا کہنا تھا کہ محمد انور کو قریب واقع اسپتال لے جایا گیا تھا جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ایم پی ڈی کے ترجمان نے نیوز ویک کو بتایا کہ ان کا ڈپارٹمنٹ ٹوئٹر پر شیئر ہونے والی ویڈیو سے باخبر ہے۔ لیکن اس پر مزید کچھ نہیں کہہ سکتے۔

کار چھیننے کی اس واردات میں ڈرائیور کی ہلاکت کے بعد ان کی آخری رسومات اور اہل خانہ کی مدد کے لیے 'گو فنڈ می' نامی ویب سائٹ پر عطیات جمع کرنے کی ایک مہم شروع کی گئی ہے۔ 'گو فنڈ می' پیج پر محمد انور کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ ان کا تعلق ریاست ورجینیا کے علاقے اسپرنگ فیلڈ سے تھا۔ وہ انہیں ایک محبت کرنے والے شوہر، باپ، دادا، انکل اور دوست تھے۔

چار روز قبل شروع کی گئی عطیات جمع کرنے کی مہم میں سات لاکھ 17 ہزار ڈالر سے زائد کا فنڈ اکٹھا کیا جا چکا تھا۔ اس پیج پر ایک خاتون لہرا بوگینو نے لکھا کہ محمد انور اُن کے شوہر کے انکل تھے۔ اُن کے بقول محمد انور ایک محنتی پاکستانی پناہ گزین تھے، جو اپنی اور اہل خانہ کی بہتر زندگی کے لیے امریکہ آئے تھے اور اوبرایٹس کے ڈیلیوری ڈرائیور کے طور پر کام کرتے تھے۔

محمد انور اپنے اہلِ خانہ کے واحد کفیل تھے اور 'گو فنڈ می' سے جمع ہونے والے عطیات ان کی اسلامی طریقے سے آخری رسومات کی ادائیگی اور ان کے اہل خانہ کی مالی مدد کے لیے استعمال ہوں گے۔ ٹیکسی سروس اوبر کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ "ہم اس افسوس ناک خبر پر غم زدہ ہیں اور اس مشکل وقت میں ہمارے دل محمد انور کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں۔"