مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں افطار کے اجتماعات، اعتکاف پر پابندی
- سوموار 29 / مارچ / 2021
- 7850
سعودی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں افطار کے اجتماعات اور اعتکاف کی اجازت نہیں ہو گی۔
دونوں مساجد کے امور کے سربراہ شیخ عبد الرحمٰن السدیس نے کہا کہ مسجد الحرام میں نمازیوں کو افطاری کے لیے تیار کھانا فراہم کیا جائے گا جبکہ مسجد نبوی میں سحری کی اجازت نہیں ہو گی۔ دونوں مساجد کے احاطے اور صحن میں کسی کو بھی کھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سب کو انفرادی طور پر کھانا فراہم کیا جائے گا۔
آبِ زم زم کے کولر بھی دستیاب نہیں ہوں گے۔ روزانہ کی بنیاد پر 2 لاکھ آب زم زم کی بوتلیں فراہم کی جائیں گی۔ جو لوگ مسجد الحرام میں روزہ کھولنے کے خواہاں ہوں گے، انہیں صرف اپنے لیے کھجور اور پانی لانے کی اجازت ہو گی اور کسی بھی فرد سے شیئر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
شیخ عبدالرحمٰن السدیس نے اس سال رمضان کے حوالے سے منعقدہ سالانہ اجلاس میں منصوبے اور اقدامات کا اعلان کیا۔ اجلاس کے دوران عبدالرحمٰن السدیس نے کہا کہ رمضان کے دوران احتیاطی تدابیر کے ذریعے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے پر توجہ دی جائے گی۔ ان تدابیر میں ویکسین لگوانا، سماجی فاصلہ رکھنا اور ماسک پہننا شامل ہے تاکہ زائرین اور نمازیوں کی صحت اور حفاظت کا خیال رکھا جا سکے۔
تیاریوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے شیخ عبدالرحمٰن السدیس نے کہا کہ مطاف صرف عمرہ زائرین کے لیے کھولا جائے گا۔ نماز ادا کرنے کے لیے مسجد الحرام اور اس کے مشرقی صحن کے اندر پانچ علاقے مقرر ہوں گے جبکہ خصوصی افراد کے لیے ایک علیحدہ حصہ ہو گا۔
عبدالرحمٰن السدیس نے کہا کہ ان سب تدابیر کا مقصد اللہ کے مہمانوں کو انوکھے تجربہ فراہم کرنا ہے جہاں وہ اپنی صحت کی حفاظت یقینی بناتے ہوئے عبادات کر سکیں گے۔ میں کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں آنے والے تمام مہمانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ کووڈ-19 کی ویکسین لگوا لیں تاکہ وہ اپنی اور دیگر نمازیوں اور زائرین کی حفاظت یقینی بنا سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک میں 10 ہزار سے زائد ملازمین نمازیوں اور زائرین کی خدمت پر مامور ہوں گے۔ اس سے قبل سعودی گزٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے 17 مئی تک بین الاقوامی پروازیں معطل کردی ہیں کیونکہ رمضان کے دوران بیرون ملک سے زائرین عمرہ ادا نہیں کرسکیں گے۔