پنجاب کے متاثرہ شہروں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کا اعلان

  • سوموار 29 / مارچ / 2021
  • 4950

پاکستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر شدت اختیار کرتی جا رہی ہے جس کے بعد حکام نے مزید پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا جارہا ہے۔

اتوار کو اپنے ایک مختصر ویڈیو بیان میں وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ کورونا کی تیسری لہر، پہلی اور دوسری لہر سے زیادہ خطرناک ہے۔ پاکستان میں کورونا وبا کے حوالے سے قائم ادارے 'نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر' (این سی او سی) کے مطابق اس وقت پاکستان میں کورونا کے 46 ہزار متحرک کیس ہیں۔

این سی او سی کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ اموات صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوئی ہیں۔ اس کے بعد صوبہ پنجاب میں اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ این سی او سی کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 41 افراد کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہوئے ۔

اعدادوشمار کے مطابق پاکستان بھر میں سب سے زیادہ کیسز صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں 22 فی صد، سوات میں 23 فی صد، نوشہرہ میں 19 فی صد، مالا کنڈ اور صوابی میں 12 فی صد ریکارڈ ہوئے ہیں۔ پنجاب کے شہر لاہور میں 17 فی صد، فیصل آباد اور راولپنڈی میں 15 فی صد، ملتان، سرگودھا اور سیالکوٹ میں 12 فی صد جب کہ گوجرانوالہ میں کیسز مثبت آنے کی شرح 10 فی صد تک جا پہنچی ہے۔

صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیرِ تعلیم شہرام خان نے کیسز بڑھنے پر صوبے کے مزید چھ اضلاع میں اسکولوں کو 11 اپریل تک بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد صوبہ بھر میں مجموعی طور پر 16 اضلاع میں اس وقت تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں۔

کیسز میں اضافے کے باعث حکومتِ پنجاب کی کورونا کابینہ کمیٹی نے صوبے میں سخت مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسمارٹ لاک ڈاؤن 12 فی صد سے زائد کورونا مثبت آنے والے شہروں میں لگایا جائے گا۔ کمیٹی کا اجلاس وزیرِ اعلٰی پنجاب عثمان بزدار کی زیرِ صدارت لاہور میں ہوا۔  اجلاس کے بعد وزیراعلٰی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ لاک ڈاؤن یکم اپریل سے 11 اپریل تک جاری رہے گا، تاہم کابینہ کمیٹی سات روز بعد اس کا ازسرِ نو جائزہ لے گی۔

عثمان بزدار نے کہا کہ اجلاس میں حکومتِ پنجاب نے لاہور میں پبلک ٹرانسپورٹ، میٹرو بسیں اور اورنج لائن ٹرین بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ صوبے بھر میں تمام کاروباری مراکز شام چھ بجے بند کر دیے جائیں گے۔ تمام تفریح گاہیں، پارکس، ہوٹل اور ریستوران بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کے مطابق ریستورانوں سے صرف ٹیک اوے اور پارسل کی سہولت ہو گی۔ تمام پابندیوں کا ااطلاق یکم اپریل سے ہو گا۔ صوبہ بھر میں ماسک پہننے پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر قیصر سجاد کہتے ہیں کہ حکومت کو احکامات جاری کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر سختی سے عمل درآمد کرانا ہو گا۔ اُن کے بقول اگر صورتِ حال مزید بگڑ گئی تو پاکستان میں کورونا وائرس کی مزید لہریں آنے کا بھی اندیشہ رہے گا۔