پاکستان کی اِسلامی معیشت
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 29 / مارچ / 2021
- 13460
خُدا تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شُکر ہے کہ ہم بالآخر مدینہ کی ریاست کے قیام کے لیے کمر باندھے لفظوں، تقریروں، بیانات اور پریس کانفرنسوں کی گاڑیوں میں سوار مدینے کی طرف رواں دواں ہیں۔ اس سفر کی جب بھی بات ہوتی ہے تو مجھے جنرل ضیا کے زمانے کا اسلامی سفر یاد آتا ہے جس پر تبصرہ کرتے ہوئے مرحوم عبدالوالی خان نے کہا تھا کہ اسلام اگر مدینے سے گدھے پر بھی سوار ہو کر پاکستان کی طرف نکلتا تو دس برس میں اسلام آباد پہنچ گیا ہوتا ۔
لیکن ہماری بد قسمتی کہ قدرت نے جنرل ضیا کو ہم سے نہ صرف چھین لیا بلکہ اُس کی لاش کو بھی اس قابل نہ رہنے دیا کہ قوم اُس مردِ حق کا آخری دیدار بھی کر سکتی۔ عالمِ اسلام کی حالت یہ ہے کہ قدرت کے بے شمار وسائل کے ہوتے ہوئے یہ ممالک نہ تو اسلامی اتحاد قائم کر سکے اور نہ ہی کوئی ایسا بین الاسلامی اقتصادی فنڈ ہی قائم کر سکے جس کے ذریعے وہ اسلامی بلاک کے غریب اور ترقی پذیر ممالک کو آئی ایم ایف کے پنجہ استبداد اور اقتصادی غلامی سے نجات دلا سکتے۔ پاکستان کے حکمران پچھلے بہتر سال سے ایک غریب قوم اور اس کے ملک کو گروی رکھ آئی ایم ایف اور عالمی بنک سے قرضے لے لے کر ملکی آزادی کا سودا کر کے بیٹھے ہیں اور عام آدمی بیچارہ غربت کے گیس چیمبر میں اُکھڑی اُکھڑی سانسیں لے رہا ہے۔ لیکن حکمران بدستور عالمی سامراج کے گماشتے بنے اُن کے لیے لوٹ مار کر کے اُن کی تجوریاں بھر رہے ہیں اور معاوضے کے طور عیاشی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
ایک زمانہ تھا کہ برطانیہ براہِ راست برِ صغیر پاک و ہند پر حکمران تھا اور نو آبادیوں کی ساری دولت اور وسائل اُس کے قبضے میں تھے لیکن اب طریقِ کار دوسرا ہے کہ غریب ملکوں کے حکمران ملکی دولت سمیٹ کر برطانیہ میں لے آتے ہیں اور اس طرح برطانیہ عالمی وسائل سے استفادہ کر کے اپنی معیشت کا توازن برقرار رکھتا ہے۔ اگر آسان لفظوں میں کہوں کہ اب برطانوی جہاز ران سر فرانسس ڈریک لوٹ مار نہیں کرتا بلکہ سامراج کے ایجنٹ دوسرے ملکوں کے وسائل لوٹ کر یورپ امریکہ اور گلف کی ریاستوں میں لا رکھتے ہیں، جہاں سے عالمی سرمایہ داری کے ٹھیکیدار اُس کو اپنے اقتصادی جال میں پھانس کر ہڑپ کر لیتے ہیں۔ سرمایہ دار دنیا کا پیسہ مکر و فریب سے دنیا بھر کے پیسے کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے اور پاکستان جیسا غریب ملک جس کے بارے میں سیاست دان گپیں ہانکتے ہیں کہ اللہ نے اسے وسائل سے مالا مال کیا ہوا ہے، اللہ کے فضل سے یہ ملک ہمیشہ قائم رہنے کے لیے بنا ہے اور یہ کہتے ہوئے اُنہیں نہ تو بنگلہ دیش ہی یاد آتا ہے اور نہ ہی اپنی شہ رگ کا خیال آتا ہے جو پچھلے بہتر سال سے پنجہ ہنود میں ہے جسے نہ تو کوئی فیلڈ مارشل ہی چھڑا سکا اور نہ کوئی مردِ حق ہی رہائی دلا سکا ۔
اور اب یہ حال ہے کہ کرونا کے عذاب کے ان دنوں میں لوگ مہنگائی، بیروزگاری اور ویکسین کی کمی کی وجہ سے خُون کے آنسو رو رہے ہیں لیکن سیاستدانوں کو اپنی اپنی پڑی ہے کہ ہائے کسی طرح سے کھویا ہوا اقتدار اُن کو دوبارہ مل جائے۔وہ اس کے لیے عوام کے مسائل کی دہائی تو دیتے ہیں مگر کسی کو اتنی توفیق نہیں کہ وہ عوام کے مسائل کے حل کے لیے عوام کے دُکھ میں عملاً شریک ہوں۔ میں کرونا ویکسین کی مثال لیتا ہوں۔ اگر حکومت سب لوگوں کے لیے ویکسین درآمد کرنے میں ناکام رہی ہے تو یہ اپوزیشن کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اپنی پارٹیوں کے طرف سے ویکسین فنڈ قائم کریں اور جلسے جلوسوں پر کروڑوں کا فنڈ خرچ کرنے اور سیاسی جلوسوں میں شامل گاڑیوں پر گل پاشی کی فضول خرچی کرنے کے بجائے اپنے غریب کارکنون کے لیے کرونا ویکسین خرید کر اُن کے دل جیتیں۔ وہ لوگ جو پچھلے چالیس سال سے روٹی کپڑا مکان تعلیم اور طبی امداد بہم پہنچانے کے وعدے پر بر سرِ اقتدار آتے رہے ہیں، وہ اپنا وعدہ پورا نہیں کر سکے اور لوگ آج پہلے سے بھی کہیں زیادہ روٹی کپڑے اور مکان کی عدم دستیابی کا عذاب سہ رہے ہیں۔ اس ملک کے لوگوں نے چار مارشل لاؤں کا مزا چکھا اور تقریباً اتنے ہی سال جی ایچ کیو کی بنائی مسلم لیگوں نے حکمرانی کی لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔
کروڑوں لوگ اب بھی دو وقت کی عزت کی روٹی کو ترستے ہیں اور کروڑوں بچے تعلیم سے محروم جنسی درندوں کا شکار بننے کے لیے سڑکوں پر آوارگی کرتے ہیں، جھوٹے برتن دھوتے اور جوتے پالش کرتے ہیں اور مدینے کی ریاست کے سر بر آواردہ لوگ یہ سب کچھ دیکھتے ہیں لیکن انہیں کچھ بھی نظر نہیں آتا ۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم پندرہ صدیوں میں اسلام کے معاشی نظام کو وضع کر کے رائج اور نافذ نہیں کرسکتے۔ قرآنِ حکیم نے دولت کی تقسیم کے جو اصول وضع کیے ہیں اُن کو بنیاد بنا کر ہمارے ماہرینِ معاشیات وہ سسٹم بنا ہی نہیں سکے جسے اسلامی کہہ کر، اور اُس کے ثمر سے بہرہ مند ہو کر یہ کہہ سکیں کہ یہ ہے اسلامی معاشی نظام۔ اگر ہمارے ماہرین ِ معاشیات نے سچ مچ اس طرف توجہ دی ہوتی تو شاید کارل مارکس کو داس کیپیٹال لکھنے کی حاجت ہی نہ ہوتی لیکن ہمارا اسلامی نظام جو درسِ نظامی کے از کار رفتہ ستونوں پر کھڑا، ایک ایسا طبقہ تو پیدا کرسکتا ہے جو نمازوں کی امامت، نکاح اور نمازِ جنازہ کے انعقاد کا بوجھ تو اُٹھا سکے مگر وہ اُمت کی امامت نہیں کرسکتا۔ اقبال نے کہا تھا:
قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے
اس کو کیا سمجھیں یہ بے چارے دو رکعت کے امام
ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم اسلامی اصطلاحات کو اُن کے حقیقی مفہوم میں سمجھ ہی نہیں پائے۔ اور اُس کی وجہ یہ کہ اسلام پیغمبرِ اسلام ﷺکے ظہور کے ساتھ اس دنیا میں آیا اور خلافتِ راشدہ کے زمانے میں شان و شوکت سے آگے بڑھا اور پھر کربلا کے میدان میں دنیا سے اُس شکل میں رُخصت ہو گیا جس شکل میں آیا تھا اور پھر کربلا کے بعد امویوں نے خطبات میں حضرت علی ؓ کے اور اُن کے خاندان کے خلاف جس ہرزہ سرائی کو رواج دیا اس کا حاصل یہ تھا کہ اسلامی مزاج فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھ گیا۔ اور پھر قرآنِ حکیم کے واضح احکامات کے باوجود کچھ موضوع حدیثوں کے زیرِ اثر فرقہ واریت کی پرورش کی گئی جس نے اسلامی وحدت کو پارہ پارہ کردیا۔ لوگ اس فرقہ واریت میں اس قدر الجھے ہیں کہ مسلمان کا دوسرے مسلمان سے رشتہ ہی باقی نہیں رہا۔ لوگ فرقوں کی عینک سے ایک دوسرے کو دیکھتے اور نفرت کرتے ہیں۔ اور نفرت کی فضا میں خُدا کا دین پنپنے کے بجائے زوال کی طرف گامزن رہتا ہے۔ ہماری مساجد اور مکاتب میں جس دین کی تبلیغ ہو رہی ہے اُس میں اتنی سکت نہیں کہ اُمت کو اخلاقی بلنندی کے منصب پر فائز کرسکے۔
دوسری طرف کرپشن نے ہماری قومی غیرت کا جنازہ نکال کر رکھ دیا ہے۔ اور اب تو ایسے سیاست دان بھی دیکھنے میں آتے ہیں جو کھاتا ہے تو لگاتا بھی ہے کے نظریے کو باقاعدہ فروغ دے رہے ہیں۔ اب پاکستان میں سیاست دان کی ایک ہی کوالی فکیشن رہ گئی ہے کہ وہ کرپشن اکے ا مور میں ید، طولیٰ رکھتا ہو۔ ابھی کچھ دن پہلے حضرت احسن اقبال فرما رہے تھے کہ کرپشن کہا ں نہیں ہوتی، بنگلہ دیش میں بھی ہوتی ہے، بھارت میں بھی ہوتی ہے لیکن ملک ترقی بھی تو کرتے ہیں۔ اس فرضی ترقی کا جھنجھنا بجا کر کرپشن کو حلال قرار دینے کی سیاسی روایت نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا۔ جب کہ سچ تو یہ ہے کہ کرپشن اور اسلام ایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔ کرپشن میں اسلام کے سرخاب کا پر لگا کر اُمت کو گمراہ کرنے کا کام وہی لوگ کرتے ہیں جو خود گمراہ ہوتے ہیں اور ہم ان گمراہوں کی قیادت میں دن بدن خُدا سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
خُدا جانے یہ کرپشن کا راستہ ہمیں کہاں لے کر جائے گا کیونکہ جب فساد کرنے والے خود کو اصلاح کرنے والے قرار دینے لگیں تو وہ خُدا کے عذاب سے نہیں بچ سکتے۔ لیکن کون ہے جو اس صورتِ حال کا ادراک کرے۔ یہاں تو ہر شخص اپنے کفر کو اسلام کہتا ہے اور اپنے قتدار کو خلافتِ راشدہ کا حقیقی عکس۔ اور ہم من حیث القوم ان غلط فہمیوں میں پڑے خُدا سے دور ہوتے چلے جا رہے ہیں۔