عبدالحفیظ شیخ کو عہدے سے ہٹا دیا، حماد اظہر نئے وزیر خزانہ ہوں گے

  • سوموار 29 / مارچ / 2021
  • 4320

وزیرِ اعظم عمران خان نے  وزیرِ خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو اُن کے عہدے سے سبکدوش کر کے اُن کی جگہ حماد اظہر کو وزیرِ خزانہ تعینات کر دیا ہے۔

حماد اظہر پہلے ہی وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار کے عہدے پر کام کررہے ہیں۔  پی ٹی آئی کے تقریباً پونے تین سالہ دورِ حکومت میں ملک کے سب سے بڑے مالیاتی عہدے پر یہ تیسری تعیناتی ہے۔  اس سے قبل اسد عمر کو وفاقی وزیرِ خزانہ بنایا گیا تھا، جنہیں ہٹا کر عبدالحفیظ شیخ کو تعینات کیا گیا۔  اب حماد اظہر کو لایا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کے مطابق عبدالحفیظ شیخ کو مہنگائی پر قابو نہ پانے کی وجہ سے ہٹایا گیا ہے۔ عبدالحفیظ شیخ اس سے پہلے وزیرِ اعظم کے مشیر برائے خزانہ تھے، جنہیں بعد میں وزیرِ اعظم عمران خان نے  وزیر تعینات کر دیا تھا۔  اسی دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ بھی آیا تھا کہ غیر منتخب اشخاص حکومتی کمیٹیوں کی سربراہی نہیں کر سکتے۔

پاکستانی آئین کے تحت وزیرِ اعظم کسی غیر منتخب شخص کو چھ ماہ کے لیے وزیر تعینات کر سکتے ہیں۔  دسمبر 2020 میں وزیر تعینات ہونے والے عبدالحفیظ شیخ کے لیے یہ حد جون 2021 تک تھی۔  عبدالحفیظ شیخ کو اس عہدے پر برقرار رہنے کے لیے انتخاب میں حصہ لے کر کامیابی حاصل کرنا تھی۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے مارچ میں ہونے والے سینیٹ انتخاب میں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ کے امیدوار سابق وزیرِ اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے مقابلے میں اُنہیں اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔  وہ تین مارچ کو ہونے والے یہ انتخاب ہار گئے تھے۔

حماد اظہر وزیرِ صنعت و پیداوار بننے سے قبل وفاقی وزیر برائے اقتصادی اُمور تھے۔  اپریل 2020 میں چینی بحران پر تحقیقاتی رپورٹ آنے کے بعد جب حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تو وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی خسرو بختیار سے اُن کا قلمدان لے کر اُنہیں وفاقی وزیر برائے اقتصادی اُمور بنا دیا گیا تھا۔ جبکہ حماد اظہر کو اقتصادی اُمور کی وزارت سے تبدیل کر کے وزیرِ صنعت و پیداوار بنا دیا گیا تھا۔  حماد اظہر اس سے قبل مالی سال 2019 تا 2020، اور 2020 تا 2021 کے لیے بجٹ بھی پیش کر چکے ہیں۔