پاکستان پرامن اور خودمختار افغانستان کی حمایت جاری رکھے گا: وزیر خارجہ

  • منگل 30 / مارچ / 2021
  • 5650

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان خودمختار اور خوشحال افغانستان کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ افغان امن عمل کو آسان بنانے کے علاوہ پاکستان، افغانستان کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہا ہے۔

 پاکستان نے افغانستان کی ترقی اور تعمیر نو کے لیے ایک ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ہم نے دوطرفہ اور ٹرانزٹ تجارت کو آسان بنانے کے لیے پانچ بارڈر کراسنگ پوائنٹس بھی کھولے ہیں۔ وزیر خارجہ نے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں منعقدہ 9ویں ہارٹ آف ایشیا استنبول پراسیس وزارتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات افغانستان کے ساتھ بامعنی تعلقات استوار کرنے کی پاکستانی خواہش کا عملی ثبوت ہیں۔

 شاہ محمود قریشی پاکستان کے وفد کی سربراہی کر رہے ہیں جس میں سیکریٹری خارجہ سہیل محمود، تاجکستان میں پاکستان کے سفیر عمران حیدر اور دفتر خارجہ کے دیگر عہدیدار بھی شامل تھے۔ اپنے خطاب کے دوران شاہ محمود قریشی نے  کہا کہ ہارٹ آف ایشیا استنبول عمل افغانستان میں امن، استحکام اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں شریک ممالک کو اکٹھا کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔

پاکستان افغانستان کا ایک اہم ہمسایہ اور برادر ملک ہے جس کے ساتھ مضبوط تاریخی روابط ہیں۔ کوئی دوسری قوم افغانستان کے ساتھ  ایسے تعلقات رکھنے کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔ کوئی بھی قوم پاکستان سے زیادہ افغانستان میں امن کی خواہش مند نہیں۔ افغان امن عمل ایک اہم فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ 40 سالوں سے تنازعات اور عدم استحکام کا سامنا کرنے کے بعد افغانستان کبھی بھی امن کے اتنا قریب نہیں رہا۔

وزیر خارجہ نے ستمبر 2020 میں افغان رہنماؤں کے اجتماع اور اس سال کے اوائل میں جنوری میں دوحہ امن معاہدے کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اب تک ہونے والی پیش رفت نے افغان قیادت کے لیے ایک جامع، وسیع البنیاد اور جامع مذاکرات کے حامل سیاسی تصفیے کے حصول کا تاریخی موقع پیدا کیا ہے۔ ہم اس یقین کے ساتھ اس مرحلے پر پہنچے ہیں کہ افغانستان کے تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر افغان رہنماؤں تک رسائی کی کوششوں کے سلسلے میں پاکستان نے مستقل طور پر ان پر زور دیا ہے کہ وہ کسی مثبت نتیجے کو حاصل کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھیں۔ ہمارا انہیں پیغام ہے کہ اس عمل کو ٹھوس اور نتیجہ خیز مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھایا جائے۔