مسلم لیگ نون: مفاہمت یا مزاحمت کی کشمکش
- تحریر سلمان عابد
- منگل 30 / مارچ / 2021
- 4670
مسلم لیگ ن کے ساتھ جو کچھ پیپلز پارٹی نے کیا وہ ہونا ہی تھا۔ جو لوگ بھی سیاست کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ان کو اندازہ تھا کہ یہ دونوں سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو سیاسی طور پر استعمال کرکے اقتدار میں حصہ داری چاہتی ہیں۔
اس لیے مسلم لیگ ن اب پیپلز پارٹی کے خلاف سیاسی ماتم کررہی ہے۔ حالانکہ وہ ناتجربہ کاری یاجذباتیت کی وجہ سے پیپلز پارٹی سیاسی چالوں کو سمجھنے سے قاصر رہی ہے۔مسلم لیگ ن کو ایک سیاسی دھچکہ پیپلزپارٹی سے لگا ہے او راس پر مسلم لیگ ن کا بڑا ردعمل بھی جائز ہے۔ لیکن مستقبل میں کچھ ایسا ہی زخم ان کو مولانا فضل الرحمن سے بھی مل سکتا ہے۔ کیونکہ اگر پیپلزپارٹی پی ڈی ایم کو اپنے مفادمیں استعمال کرسکتی ہے تو یہ ہی کام مولانا فضل الرحمن بھی کرسکتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ ن کی تنقید اپنی اتحادی جماعتوں پر جائز ہے، یقینا نہیں۔ کیونکہ خود مسلم لیگ ن بھی پس پردہ اسٹبلیشمنٹ سے اپنے معاملات کو طے کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے، یہ عمل اب بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔لیکن اسٹبلیشمنٹ سے عملی طور پر مفاہمت نہ ہونے کی وجہ سے وہ سیاسی طور پر تنہائی کا شکار ہے۔اتحادی سیاست کا عملی تجربہ یہ ہی بتاتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اتحادکے مقاصد سے زیادہ اپنے جماعتی یا ذاتی مفادکو اہمیت دیتی ہیں۔بہرحال پیپلز پارٹی کے سیاسی کارڈ کے بعد اب کافی حد تک مسلم لیگ ن جوابی سیاسی حکمت عملی کے تحت خود کو حقیقی حزب اختلاف اور سیاسی سول بالادستی کی جنگ کے بیانیہ سے جوڑ رہی ہے۔اس کے بقول وہ پیپلزپارٹی کے بغیر بھی یہ سیاسی جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
مسلم لیگ ن کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ پی ڈی ایم میں رہتی ہے یا اس کے ساتھ چلتی ہے تو اسے مزاحمت کو مفاہمت کے انداز میں تبدیل کرنا ہوگا۔کیونکہ ایسی صورت میں پیپلز پارٹی کا مفاہمتی کارڈ زیادہ غالب ہوگا۔ لیکن اگر مسلم لیگ ن کو پیپلز پارٹی کے بغیر پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے حکومت مخالف تحریک چلانی ہے تواس کا ایک انحصار مولانا فضل الرحمن پر ہوگا اور دوسرا اس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی خود کو حقیقی حزب اختلاف کے طور پر پیش کرنے کے لیے کچھ چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملا کر متبادل حزب اختلاف کے طور پر سامنے آسکتی ہے۔یعنی مستقبل کی ایک جھلک یہ دیکھنے کو بھی مل سکتی ہے کہ کون حقیقی حزب اختلاف ہے اور کون اسٹبلیشمنٹ کے سہارے خود کو حزب اختلاف کے طور پر پیش کررہا ہے۔
مسلم لیگ ن نے اگر اپنی جماعتی سیاسی طاقت کی بنیاد پر ”بیانیہ کی جنگ“ لڑنی ہے تو اس کا ایک مسئلہ اس کا جماعتی داخلی بحران ہے۔ اگرچہ مسلم لیگ ن متحد ہے او راس میں کوئی بڑی تقسیم نہیں۔لیکن یہ بات بھی واضح ہے کہ مسلم لیگ ن سے جڑے اہم رہنماؤں میں حکمت عملی کی بنیاد پر تقسیم موجود ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں پارٹی میں نواز شریف اور شہباز شریف کے حامیوں کی حکمت عملی کے درمیان واضح فرق دیکھنے کو ملتا ہے۔شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز شریف واضح طور پر او رکھل کر نواز شریف اور مریم نواز کی سیاسی حکمت عملی جو ان کے بقول ٹکراؤ پر مبنی ہے، سے اختلاف رکھتے ہیں۔فی الحال ہمیں نواز شریف او رمریم نواز پیپلزپارٹی کی جانب سے استعفے نہ دینے پر کافی برہم نظر آتے ہیں۔لیکن اول تو یہ بات کافی حد تک یقینی ہے کہ مسلم لیگ ن اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا کارڈ کھیل کر سیاسی خود کشی نہیں کرے گی، لیکن اگر اس نے اس کارڈ کو کھیلنے کی کوشش کی تو اسے خود اپنی جماعت کے اندر سے مزاحمت دیکھنے کو ملے گی۔کیونکہ مسلم لیگ ن میں ایک بڑا دھڑا استعفوں کی کسی بھی صورت حمایت نہیں کرے گا۔
اصل میں اسٹبلیشمنٹ کے خلاف اگر واقعی سیاسی جماعتوں بشمول مسلم لیگ ن نے کوئی بڑی تحریک چلانی ہے تو اس کے لیے پہلے ان کو اپنے داخلی نظام کی کمزوریوں کا ضرور تجریہ کرنا چاہیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ایک کمزور سیاسی و جماعتی ڈھانچہ اور مختلف سطحوں پر تضادات کی موجودگی میں کسی بڑی تحریک کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ایسی صورت میں جب نواز شریف او رمریم نواز کھل کر اسٹبلیشمنٹ سے ٹکراؤ اور پارٹی کے صدر شہباز شریف مفاہمت کی سیاست کو بنیاد بنانا چاہتے ہیں تو پھر حکمت عملی کا یہ تضاد ہی ان کی سیاسی ناکامی کے لیے کافی ہے۔مریم نواز، نواز شریف کے متبادل کے طور پر خود کو پیش کرتی ہیں او ران کی مقبولیت بھی کافی بہتر ہے۔ ان کے بقول اگر کسی نے نواز شریف کے بعد پارٹی سے بات کرنی ہے تو اسے مجھ سے ہی بات کرنا ہوگی او رمیں ہی فیصلہ کا اختیار رکھتی ہوں۔یہ سوچ یقینی طور پر شہباز شریف کو قبول نہیں ہوگی۔
مریم نواز کی مقبولیت کے باوجود ان کی جذباتیت پر مبنی سیاست اور فوری ردعمل دینے کی حکمت عملی نے ان کو فائدہ کم او رنقصان زیادہ پہنچایا ہے۔اسی طرح نواز شریف او رمریم نواز کی اداروں او ران کے سربراہان پر براہ راست تنقید پر ان کی اپنی پارٹی سمیت پی ڈی ایم میں شامل کئی جماعتوں کے تحفظات ہیں۔ ان کے بقول مریم نواز کا یہ انداز پاپولر کارڈ رتو ہوسکتا ہے لیکن اس سے سیاسی طو رپر ان کو بھی او ران کے اتحادیوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔اب اگر پیپلزپارٹی سے مسلم لیگ ن فاصلے رکھتی ہے یا اسے پی ڈی ایم سے علیحدہ کرنا چاہتی ہے تو ایسی صورت میں حکومت گرانا یا عمران خان کو گھر بھیجنا کم از کم پارلیمنٹ میں تو ممکن نہیں ہوگا۔ جہاں تک ایسی سیاسی تحریک کا عملی منظر پیش کرنا جو حکومت کی رخصتی کا سبب بن سکے، اس کا امکان بھی کسی ایک پارٹی کے بس میں نہیں۔ایسی صورت میں حکومت کا جانا اسی صورت ہی ممکن ہوگا جب اسٹبلیشمنٹ کچھ تبدیل کرنا چاہے گی۔
مسلم لیگ ن اگر یہ سمجھتی ہے کہ وہ پوری پی ڈی ایم کو ڈکٹیشن پر چلاسکتی ہے تو یہ بھی ممکن نہیں۔پہلے ہی مولانا فضل الرحمن کو گلہ ہے کہ وہ پی ڈی ایم کے سربراہ ہیں لیکن اس اتحادکی سیاسی اجارہ داری میں پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ ن پیش پیش ہیں۔ اور ان کو بہت سے امور میں سیاسی طور پر تنہا رکھا جاتا ہے۔اس لیے پیپلز پارٹی کو باہر نکال کر بھی پی ڈی ایم کو اپنے ایجنڈے پر چلانا مسلم لیگ ن کے لیے کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔ جو لب ولہجہ نواز شریف او رمریم نواز کا ہے اس پر ماسوائے فضل الرحمن کے باقی ساری پی ڈی ایم کی قیادت کافی فاصلے پر ہے۔
عملی طور پر مسلم لیگ ن مفاہمت او رمزاحمت کے درمیان پھنس کر رہ گئی ہے۔ پی ڈی ایم کی کامیابی دو بڑی سیاسی جماعتوں کا باہمی اشتراک تھا۔ لیکن اب پیپلز پارٹی کے بعد یہ اشتراک کمزور بھی ہوا ہے اور اپنی اہمیت کھورہا ہے۔ ایسے میں مسلم لیگ ن کے سیاسی آپشن محدود ہیں۔ اسے تن تنہا کوئی جنگ کرنا ہوگی، لیکن یہ جنگ داخلی تضاد کو ختم کیے بغیر جیتنا ممکن نہیں ہوگا۔