ایف آئی اے نے جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے کے خلادف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر لیا
- بدھ 31 / مارچ / 2021
- 5360
پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ جہانگیر خان ترین اور ان کے بیٹے نے ایک غیر ملکی کمپنی میں تین ارب روپے سے زائد کے حصص غیر قانونی طور پر منتقل کیے ہیں جو کہ منی لانڈنرنگ کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس کے علاوہ منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ممالک رقم منتقل کرنے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
جہانگیر ترین نے نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز سے اس بارے میں خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے اور میرے خاندان کے خلاف تمام الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں، میرا سب کچھ ڈکلیئر ہے، یہ ہمارے خلاف سوچی سمجھی سازش ہے۔ حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے ہمارے خلاف مہم چلائی جارہی ہے۔
اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک غیر ملکی کمپنی میں مبینہ طور پر شیئرز منتقل کرنے کے معاملے کی تحقیقات کچھ عرصے سے جاری تھیں اور شواہد حاصل ہونے کے بعد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اہلکار کے مطابق یہ شیئرز جہانگیر خان ترین کی کمپنی جے ڈی ڈبلیو سے غیر ملکی کمپنی کو منتقل کیے گئے تھے۔
اہلکار کے مطابق اس مقدمے میں کمپنی کے دیگر ملازمین سے بھی پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین پر کروڑوں روپے بیرون ملک منی لانڈرنگ کے ذریعے بھی منتقل کرنے کا الزام ہے۔ واضح رہے ملک میں آٹے اور چینی کے بحران سے متعلق بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت کی طرف سے جن شوگر ملوں کو سبسڈی دی گئی تھی اس میں جہانگیر ترین کے علاوہ وفاقی وزیر خسرو بختیار کی شوگر ملز بھی شامل تھیں۔
ایف آئی اے کی اور ایک ٹیم چینی بحران سے متعلق مختلف شوگر ملوں کے خلاف بھی تحققیات کر رہی ہے جس میں جہانگیر ترین کے علاوہ شریف خاندان کی شوگر ملز بھی شامل ہیں۔