پاکستان چینی اور کپاس بھارت سے درآمد کرے گا

  • بدھ 31 / مارچ / 2021
  • 5660

پاکستان کے وزیرِ خزانہ حماد اظہر نے کہا ہے کہ بھارت سے پرائیویٹ سیکٹر کے لیے پانچ لاکھ ٹن چینی کی درآمد کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چینی کی قیمت کم ہونے کی وجہ سے بھارت سے درآمد کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بھارت سے دوسری اشیا کی درآمد کے فیصلوں پر بھی نظرِ ثانی ہوگی۔ وزیرِ خزانہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بدھ کو پہلی پریس کانفرنس میں حماد اظہر کا کہنا تھا کہ جون کے اختتام تک بھارت سے کاٹن کی درآمدات کی بھی اجازت دی جائے گی۔

حماد اظہر نے گندم کی امدادی قیمت 1800 روپے رکھنے اور پیٹرول کی قیمت میں کمی کا بھی اعلان کیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اپنی ضرورت کے مطابق بھارت سے تجارتی روابط بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پریس کانفرنس میں حماد اظہر نے کہا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر پوری دنیا سے درآمد کی اجازت دی۔ لیکن باقی دنیا میں بھی چینی کی قیمتیں زیادہ ہیں جس کی وجہ سے درآمد ممکن نہیں ہے۔ البتہ بھارت میں چینی کی قیمت پاکستان کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ اسی لیے نجی شعبے کے لیے بھارت سے پانچ لاکھ ٹن تک چینی کی تجارت کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاکہ یہاں سپلائی کی صورتِ حال بہتر ہو سکے اور جو معمولی کمی ہے وہ پوری ہو جائے۔ ہماری چینی کی مجموعی پیداوار 55سے 60 لاکھ ٹن ہے۔

حماد اظہر نے مزید کہا کہ ہماری کرنسی اپنے زور پر خود کھڑی ہے اس کے استحکام کے لیے ڈالر نہیں جھونک رہے۔ ڈالر کی قیمت میں کمی کا فائدہ عوام تک منتقل ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔ حماد اظہرنے کپاس کی درآمد کے حوالے سے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے بھارت سے تجارت بحال کی گئی ہے۔ بڑے کارخانہ دار مصر سے کپاس درآمد کر سکتے ہیں۔

بھارت سے چینی اور کاٹن کی درآمد کے اسلام آباد کے فیصلے کے بارے میں بھارت میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط کہتے ہیں کہ پاکستان نے اپنی ضروریات کے پیشِ نظر چینی کی درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔ لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات معمول پر کشمیر کی صورتِ حال میں تبدیلی کے بعد ہی آئیں گے۔