کرونا ویکسی نیشن سے گریز کیوں؟
- تحریر مظہر چوہدری
- بدھ 31 / مارچ / 2021
- 6650
یوں تو کرونا ویکسی نیشن کا عمل بہت سے ممالک میں متعدد وجوہات کی بنا پرقدرے سست رفتاری کا شکار ہے لیکن پاکستان میں ویکسی نیشن کا عمل بہت ہی سست روی سے آگے بڑھ رہا ہے۔پاکستان میں ویکسی نیشن کے عمل کو شروع ہوئے دو ماہ ہونے کو ہیں لیکن ابھی تک چند لاکھ افراد کو ہی مکمل ویکسینیٹ کیا گیا ہے۔
ویسے تو دنیا بھر میں اب تک کرونا ویکسین کے پچاس کروڑ سے زائد ڈوز استعمال ہو چکے ہیں لیکن دنیا کے 140ممالک میں سے محض ایک درجن ہی ایسے ملک ہیں جنہوں نے 27مارچ تک اپنے 10لاکھ سے زائد شہریوں کو کرونا ویکسین کے ڈوز لگائے ہیں۔کرونا ویکسین لگانے کے حوالے سے اسرائیل سب سے سرفہرست ہے جہاں ہر100افراد کی آبادی میں کرونا ویکسین کی110خوراکیں دی جا چکی ہیں۔ دوسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات کا ہے جہاں یہ شرح80ہے جب کہ تیسرے نمبر پر چلی جیسا غریب ملک ہے جہاں ہر 100افراد کی آبادی میں ویکسین کی50خوارکیں دی گئی ہیں۔اس حوالے سے تفصیلی سرچ گوگل پر کی جا سکتی ہے تاہم موازنے کے لئے یہاں دنیا کے چند اہم ممالک کے اعدادوشمار ضروشئیر کئے دیتے ہیں۔برطانیہ میں ہر 100 میں سے49، امریکہ میں 42، ترکی18،فرانس اور جرمنی میں 15، سعودی عرب12، برازیل8، چین اور روس7، انڈیا4،بنگلہ دیش 3جب کہ پاکستان میں ہر سو افراد کی آبادی میں صرف0.2خوراکیں دی گئی ہیں۔ویکسی نیشن کے عمل میں پاکستان سے بھی زیادہ سست روی کا شکار دو درجن سے زائد ممالک میں ایران، افغانستان، ویت نام، وینزویلا،تائیوان اور مصر جیسے ممالک نمایاں ہیں۔
اگرچہ سرکاری سطح پر کرونا ویکسی نیشن کا چوتھا مرحلہ شروع ہونے والاہے لیکن ابھی تک صرف چار لاکھ افراد کو ویکیسن لگی ہے۔اعدادوشمار کے مطابق ملک میں 65سال سے زائد افراد کی تعداد80لاکھ سے زائد ہے لیکن رجسٹریشن کرانے والے بزرگوں کی تعداد چند لاکھ تک محدود رہی ہے۔30مارچ سے حکومتی سطح پر50سال سے زائدعمر کے افراد کے لئے ویکسی نیشن کی رجسٹریشن کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔ حکومت ابھی تک چین سے عطیہ میں ملنے والی ویکیسن سے کام چلا رہی تھی لیکن رجسٹرڈ افراد کی تعداد بڑھنے کے بعد حکومت نے چین سے 16لاکھ ویکسین کی خوارکیں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک نجی دوا ساز کمپنی روس کی تیار کردہ ویکیسن بھی پرائیوٹ طور پر فروخت کرنے کے لیے درآمد کر چکی ہے لیکن روسی ویکیسن کی قیمت چینی ویکیسن کے مقابلے میں دوگنا مقرر کی گئی ہے۔ پاکستان کو کوویکس پروگرام کے تحت کرونا ویکیسن کی17ملین(ایک کروڑ ستر لاکھ) خوراکوں کی پہلی کھیپ مارچ کے وسط تک ملنے کے امکانات تھے لیکن عالمی سطح پر ویکیسن کی طلب میں اضافے کی وجہ سے اس کی پہلی کھیپ ابھی تک موصول نہیں ہو سکی۔واضح رہے کہ کوویکس کرونا ویکسین کی دو ارب خوراکوں کی پوری دنیا کے درمیانے اور کم آمدنی والے ممالک میں منصفانہ اور مساوی طور پر تقسیم یقینی بنانے کے لئے شروع کیا گیا ایک پروگرام ہے جس کی سربراہی گاوی اور عالمی ادارہ صحت سمیت دیگر عالمی ادارے کر رہے ہیں۔ اس پروگرام میں تقسیم ہونے والی ویکیسن کی خوراکیں جرمنی، ہالینڈ، برطانیہ اور انڈیا سمیت دیگر ممالک کی ادویات ساز کمپنیاں تیارکر رہی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کم آبادی والے ممالک کو زیادہ آبادی والے ملکوں کی نسبت ویکسی نیشن کے عمل میں کئی طرح کی آسانیاں حاصل ہیں لیکن اس حوالے سے سب سے اہم فیکٹرز ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری اورممالک کی ویکیسن خریدنے کی استطاعت ہے۔ہمارا المیہ یہ رہا کہ ہم نہ توکرونا ویکیسن کو مقامی سطح پر تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے اور نہ ہی معاشی طور پر اتنے مضبوط تھے کہ ویکیسن بنانے والے ملکوں کوپیشگی آرڈر دے کے جلد ویکیسن حاصل کر لیتے۔یہ تو بھلا ہواکہ ہمارے ہاں متعدد وجوہات کی بنا پر کرونا کے مریضوں اور اس کے نتیجے میں مرنے والے افراد کی شرح کم رہی ورنہ ہمارے جیسے قرضوں پر چلنے والے ملک کے لئے ویکیسن کی طلب پوری کرنا ایک سنگین مسئلہ بن جاتا۔
ملک میں ٹیسٹنگ کی شرح کم رہنے کے نتیجے میں کرونا مریضوں کی سامنے آنے والی تعداد اصل اعداوشمار کے مقابلے میں بہت کم رہی۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں کرونا کے مجموعی کیسز ساڑھے چھ لاکھ سے زائد رہے لیکن سروے رپورٹس کے مطابق ملک میں ایک کروڑ سے زائد افراد کو کرونا ہوا لیکن ہلکی پھلکی علامات کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں نے اسے عام نزلہ زکام سمجھتے ہوئے ٹیسٹ کرانا ضروری نہ سمجھا۔ اس کے علاوہ دیہی علاقوں میں رہنے والی ہماری 65فیصد آبادی نے تو کرونا کو ابھی تک سنجیدگی سے لیاہی نہیں۔اگرچہ اس وقت لاہور سمیت پنجاب کے کئی اضلاع میں کرونا کی تیسری لہر کافی شدید ہو چکی ہے لیکن لاہور سمیت زیادہ تر شہروں کے بیشتر لوگ کرونا کو سنجیدہ لینے پر تیار نہیں۔کرونا کی پہلی اور دوسری لہر میں کرونا کیسز اور اموات کی تعداد بڑھنے بارے عوامی تاثر یہ رہا کہ قدرتی طور پر پاکستان میں کرونا کی حقیقی شدت بہت کم ہے لیکن حکومت کرونا کے پیش نظر قرضوں میں ملنے والے ریلیف اورزیادہ سے زیادہ بیرونی امداد کے حصول کے چکر میں کرونا ایشو کو طول دینے کی سیاست کر رہی ہے۔جب کہ کرونا کی تیسری لہر کے بارے میں لوگوں کی عمومی رائے یہ ہے کہ حکومت ویکسی نیشن کے عمل میں تیزی کے لئے تیسری لہر کی شدت کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے۔
اگرچہ اب تک پاکستان میں کرونا ویکسی نیشن کا عمل سست روی سے بڑھنے کی بڑی وجہ حکومتی سطح پر ویکیسن خریدنے کی بجائے عطیہ میں ملنے والی ویکسین سے کام چلانے کی پالیسی تھی لیکن ویکسی نیشن کا عمل سست رہنے کی ایک اور اہم وجہ بھی ہے۔ کرونا ویکسین بارے عالمی اور ملکی سطح پر گھڑے جانے والے مفروضوں کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ویکسی نیشن کرانے کے حق میں نہیں۔زیادہ تر لوگوں کے نزدیک اول تو کرونا کا حقیقی وجود ہی نہیں اور اگر ہے بھی تو یہ اتنا خطرناک نہیں کہ اس کے لئے مبینہ طور پر متنازعہ ہونے والی ویکیسن لگوانے کا رسک لیا جائے۔ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے اپنی گارنٹی پرویکسین لگوانے کے بیان نے بھی لوگوں کو ویکسی نیشن کے عمل سے خوف زدہ کیا ہے۔ ویکسی نیشن کے عمل میں تیزی لانے کے لئے حکومت کو لوگوں کا مائنڈ سیٹ بدلنا پڑے گا۔لوگوں کو قائل کرنا پڑے گا کہ ملک کی کل آبادی کی ایک بڑی تعداد کو ویکسینیٹڈ کئے بغیر کرونا سے چھٹکارا ممکن نہیں۔ماہرین کے مطابق جن ملکوں میں جن ملکوں میں ویکیسن پروگرام پر عمل کرنے کی شرح کم ہوگی، وہاں کرونا وائرس کی مزید لہروں کا امکان ہمیشہ رہے گا۔