باپ کا گناہ
- تحریر ارشاد احمد صدیقی
- بدھ 31 / مارچ / 2021
- 7510
مریم نواز کی نیب میں پیشی کے بعد یہ کالم منظر عام پر آئے گا لیکن چند تجاویز پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔
مریم نواز کی پیشی ایک جشن کی صورت اختیار کرتا نظر آ تی ہے۔ رانا ثناء اللہ، مولانا فضل الرحمن، قمرالزمان کائرہ اور نہ جانے کون کون مریم نواز کے ہمراہ جانے کا تہیہ کر چکے ہیں۔
ایک وہ وقت تھا جب کہیں عدالت میں پیش ہونے کا سمن آتا تھا تو خاندان میں کہرام مچ جاتا تھا۔ عزت دار لوگ اس بدنما داغ کو پوشیدہ رکھنے کی ہر سعی کرتے تھے تاکہ بات عام نہ ہو۔ شرمندگی کی نشانی تھی۔ اب یہ حالت کہ عدالتی سمن کو مژدہ جانفزا تصور کیا جانے لگ رہا ہے۔ ہم نے ایک گزشتہ کالم میں عرض کی تھی کہ اب ہمارے سیاسی رہنماؤں نے جدید سیاسی زبان تخلیق کر لی ہے جو بار بار بازاری زبان کو چھوتی ہے۔ اور دوسروں کی عزت و حرمت کو ملحوظ خاطرلانا اولڈ فیشن گردانا جاتا ہے۔ بلکہ سینکڑوں کے مجمع کے سامنے ڈھٹائی سے دروغ گوئی باعث افتخار سمجھی جاتی ہے:
جھوٹ کہتا ہوں اور بے کھٹکے
کہدے سچ کون دار پر لٹکے
ہمارا قلم ایک معروف دروغ گوئی کا اظہار کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ وہ ہے وہ جملہ جو دروغ گوئی کی کتاب کا صفحہ اول ہے اور وہ ہے:
”لندن میں کیا میری تو پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں“
چہ دلدر راست، دزدے کہ بکف چراغ داری!!
سنا ہے نیب کا دروازہ جنگ کا سماں پیش کرے گا۔ پچھلی بار مریم نواز اپنے ساتھ پتھر لے کر آئی تھی۔ اب کی بار شاید ہتھوڑے اور کدالیں لے کر آئیں تاکہ نیب کی عمارت کا صفایا کیا جائے اور جو بچ جائے اسے آگ کے شعلوں کے حوالے کیا جائے۔ پچھلی سنگ بازی پر کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ ا ب کے بھی شاید ویسا ہی ہو۔ حکومت وقت نے درگزر کیا جس سے عمران خان مذاق کا نشانہ بنے۔ اس میں شک نہیں کہ عمران خان ہمارے لیڈر ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ وہ اتاترک نہیں۔ لاء اینڈ آرڈر تو موجود ہے لیکن اس کو چابک مارنے والا عنقا ہے۔ ادھر مریم نواز نے ساری اپوزیشن کو حکم دے دیا ہے کہ وہ سارے نواز شریف کی صاحبزادی کی پیشی پر نیب کے دروازے پر موجود رہیں۔
اُدھر بے چاری پولیس نے لاہور کو ریڈ زون میں بدل دیا۔ کیا یہ قانونی طور پر ممکن نہ تھا کہ تخریبی جشن کاروں کو حراست میں لیا جاتا اور انہیں کم از کم 48 گھنٹے کسی اسٹیڈیم میں زیر آسمان کڑی نگرانی میں رکھا جاتا اور آنے والے رمضان المبارک کی ریہرسل کرائی جائے۔ اور زبان درزوں سے مریم نواز کے دعوے کے مطابق سلوک کیا جاتا یعنی ان کی زبانیں کھینچ لی جائیں۔ ہم تو سوچ رہے ہیں کہ ہم اکیسویں صدی میں سانس لے رہے ہیں۔ لیکن ہمارے لیڈر زبانیں کھینچے اور کھوپڑیوں کے مینار بنانے کے سبق دے رہے ہیں اور ستمبروں کے ستم جلانے والے چنگیزی راہیں بنا رہے ہیں:
خدا وندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ سلطانی بھی عیاری ہے درویشی بھی عیاری
ہم چنگیزی دور میں نہیں جی رہے۔ ہم تو قانون کے رکھوالے ہیں۔ ہم باپ کے گناہ پر ساری نسل کو سزاوار ٹھہرانے کے قائل نہیں۔ ملاحظہ کیجئے کہ مریم نواز سرعام کیا کیا نہیں کہہ رہی اور ہماری عدلیہ دوسری طرف دیکھ رہی ہے۔ شاید وہ مریم نواز کو مزید پبلسٹی نہیں دینا چاہتے۔ لیکن یہ صرف مریم نواز ہی نہیں اپوزیشن کے دوسرے لیڈر بھی وہی زبان استعمال کر رہے ہیں اور ان کی رسی دراز ہوتی جا رہی ہے۔ عمران خان کی ناکامیوں کی داستانیں دراز ہوتی جا رہی ہیں اور اس عمل میں وہ سارے مثبت اقدامات جو عمران خان نے کئے ہیں، وہ بھی ناکامیوں میں دفن ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ امر باعث تاسف ہے کہ ہماری عدلیہ ایک کاغذی شیر سے زیادہ نظر نہیں آ رہی۔ مقدمہ عدالت میں پیش ضرور ہوتا ہے لیکن اس کے بعد کیا ہوتا ہے؟ مثلاً نواز شریف کی منی لانڈرنگ کی حکایت اور ثبوت سالوں سے فائلوں کے پیٹ میں ہیں لیکن نتیجہ ندارد۔ اسحق ڈار کی شاطرانہ خزانہ کاری بھی ثبوتوں کے ساتھ موجود ہیں لیکن نتیجہ ندارد۔ غضب تو یہ کہ مملکت خداداد پاکستان کے وزارت خارجہ کے رہبر خواجہ محمد آصف بمعہ ثبوت کے جیل میں ہیں، وہ وزیر خارجہ بھی تھے اور دبئی کی کسی کمپنی میں ملازمت بھی کرتے تھے۔ رانا ثناء اللہ کو رنگے ہاتھوں نارکوٹکس میں گرفتار کیا گیا نتیجہ ندارد۔
اب خبر یہ ہے کہ حکومت وقت نے مریم نواز کی نیب میں پیشی کی تاریخ نامعلوم مدت تک ملتوی کر دی ہے۔ اس سے حکومت وقت کو چھپانے اور مریم نواز کو مزید پس پردہ کارروائی کرنے کا وقت مل جائے گا۔ یہ تو اچھا ہو ا کہ مریم نواز کی پیشی ملتوی ہو گئی ورنہ ہم تو تجویز پیش کرنے والے تھے کہ جشن پیشی سے بچنے کیلئے مریم نواز بکتربند گاڑی میں جاتی اور سیدھا نیب کی عدالت بلایا جاتا اور اس طرح واپسی کرائی جاتی۔ اگر وہ واپسی کی اہل سمجھی جاتیں۔
یہ بھی سننے میں آیا ہے جب نیب کی عدالت میں پیشی کی خبریں زوروں پر ہیں اور مریم نواز انگلی ہلا ہلا کر کہا تھا کہ میں آ رہی ہوں اور ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ ایک نہتی لڑکی سے حکومت کی ٹانگیں خوف سے لڑکھڑا رہی ہیں اور چپکے چپکے عدالت میں جا کر قبل از گرفتاری ضمانت بھی کرا لی:
جشن مقتل ہی نہ برپا ہوا ورنہ ہم بھی
پابہ جولاں ہی سہی ناچتے گاتے جاتے