تیل کی قیمتوں پر سعودی عرب اور بھارت میں تنازعہ

  • جمعرات 01 / اپریل / 2021
  • 5290

سعودی عرب اور انڈیا میں خام تیل کی قیمت کے تعین پر آپس میں ٹھن گئی ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں میں سعودی عرب اور انڈیا میں سیاسی، سفارتی، عسکری، سکیورٹی اور تجارتی تعلقات میں قربت دیکھنے میں آئی تھی۔

چھ برسوں میں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی دو بار سعودی عرب کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔ مگر ان دو دوست ممالک کے معاملے میں تیل کی قیمتیں تنازعہ کا سبب بنی ہیں۔ حال ہی میں انڈیا کے تیل اور گیس کے وزیر دھرمندرا پردھان نے اپنے سعودی ہم منصب عبدالعزیز بن سلمان ال سعود کے اس بیان پر اعتراض کیا ہے، جس میں انہوں نے انڈیا سے کہا کہ وہ خام تیل کی قیمتیں کم کریں۔

سعودی عرب نے انڈیا کو ہدایت کی کہ وہ تیل کے ذخائر کو استعمال میں لائے جو اس نے گزشتہ برس اس وقت خریدا تھا جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں انتہائی کم تھیں اور اس طرح سب حساب برابر ہو جائے گا۔  سعودی عرب کی طرف سے یہ بیان انڈیا کو اس قدر ناگوار گزرا کہ دھرمندرا پردھان نے سعودی وزیر پٹرولیم کے بیان کو ہی سفارتی آداب کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ’میں ایسے طریقہ کار سے اختلاف رکھتا ہوں۔ انڈیا کی تیل کے ذخائر کو استعمال کرنے کے بارے میں ایک اپنی حکمت عملی ہے۔ ہم خود اپنے مفادات کا صیحح معنوں میں ادراک رکھتے ہیں۔‘

مارچ میں انڈیا نے اوپیک ممالک اور سعودی عرب سے خام تیل کی پیداوار بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ لیکن ایک بار پھر انڈیا نے نہیں سنا اور جب انڈیا نے اس پر مایوسی کا اظہار کیا تو سعودی عرب کے وزیر نے کہا کہ انڈیا کو سستے داموں پر خریدے گئے خام تیل کے سٹریٹجک ذخائر کا استعمال کرنا چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر انڈیا سعودی وزیر کے بیان سے مایوس ہے تو یہ ٹھیک ہے کیونکہ جب بھی کوئی ملک اپنے سٹریٹجک تیل کے ذخائر کو استعمال کرتا ہے تو یہ اس کا اپنا داخلی معاملہ ہوتا ہے۔ دوسری بات اسٹریٹجک ریزرو کے استعمال سے متعلق ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس کا انڈیا بھی ایک رکن ہے۔ اس معاہدے کے رکن ممالک اس تنظیم کے قواعد کے مطابق ایسے فیصلے خود کرنے کے مجاز ہیں۔

انڈیا میں پٹرولیم اور گیس بہت کم مقدار میں دستیاب ہیں، لہٰذا وہ درآمد کی جاتی ہیں۔ ملک کو بیرون ملک سے پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے لیے گزشتہ سال اپنے اخراجات کا 85 فیصد استعمال کرنا پڑا، جس پر 120 بلین ڈالر کی لاگت آئی۔

انڈیا کو اپنی بہت بڑی معیشت کی ترقی کے لیے بہت زیادہ خام تیل کی ضرورت ہے۔ انڈیا کی معاشی ترقی کے لیے انڈیا کو مزید خام تیل کی ضرورت ہے کیونکہ انڈیا میں تیل کو ایندھن کے طور پر بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔

اس وقت انڈیا دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندگان سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک سے اپنا 25 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے۔ امریکہ اور روس بھی ان بڑے ممالک میں شامل ہیں جو انڈیا کو  خام تیل  فراہم کرتے ہیں۔