پشاور ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک بحال کرنے کی اجازت دے دی

  • جمعرات 01 / اپریل / 2021
  • 5480

پشاور ہائی کورٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فام ’ٹک ٹاک‘ کی مشروط طور پر بحال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ  غیر مہذب مواد اپ لوڈ ہونے سے روکا جائے۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قیصر رشید اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ٹک ٹاک کے بارے میں درخواست کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران پی ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹر لیگل اور وکیل جہانزیب محسود کے علاوہ درخواست گزار کی وکیل سارہ علی خان عدالت میں موجود تھے۔

عدالت نے فریقین کے مؤقف سننے کے بعد ٹک ٹاک کو بحال کرنے کی اجازت دی۔ عدالت نے مختصر حکم میں کہا ہے کہ ٹک ٹاک بحال کر دیا جائے۔ البتہ غیر اخلاقی مواد اپ لوڈ نہیں ہونا چاہیے۔ پشاور ہائی کورٹ نے 11 مارچ کو چین کی کمپنی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر عارضی پابندی عائد کرنے کا حکم دیتے ہوئے حکام کو ٹک ٹاک انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس قیصر رشید نے پی ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل سے استفسار کیا کہ اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟ جس کے جواب میں ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ ٹک ٹاک انتظامیہ کے سامنے دوبارہ یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے اور انہیں عدالتی احکامات اور درخواست گزاروں کے مؤقف سے آگاہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹک ٹاک نے فوکل پرسن بھی مقرر کیا ہے۔ ان کے بقول فوکل پرسن جو بھی غیر اخلاقی یا غیر مہذب مواد اپ لوڈ ہو گا اس کو دیکھے گا۔

چیف جسٹس نے ڈائریکٹر جنرل کو کہا کہ پی ٹی اے کے پاس ایسا نظام ہونا چاہیے جو اچھے اور برے کی تفریق کر سکے۔ اگر پی ٹی اے کارروائی کرے گی۔ تو پھر انٹرنیٹ پر ایسی ویڈیوز اپ لوڈ نہیں ہوں گی۔ پی ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انہوں نے ٹک ٹاک انتظامیہ سے بات کی ہے کہ جو صارفین بار بار ایسا عمل کریں گے ان کے اکاؤنٹس بلاک کر دیے جائیں گے۔  سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ یہ نگرانی مسلسل ہونی چاہیے۔

چیف جسٹس قیصر رشید نے ڈائریکٹر جنرل پی ٹی اے کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاک پر غیر اخلاقی مواد کے اپ لوڈ  روکنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں۔  عدالت نے سماعت 25 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے پی ٹی اے حکام کو آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔