کابینہ نے بھارت سے چینی و کپاس درآمد کرنے کا فیصلہ مسترد کردیا

  • جمعرات 01 / اپریل / 2021
  • 4970

وفاقی کابینہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کرنے تک بھارت سے  ہرقسم کی تجارت معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ کا کہنا ہے کہ اگست 2019 کے جابرانہ فیصلوں کے ہوتے بھارت سے تعلقات تبدیل نہیں ہوسکتے۔  

وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ آج کابینہ نے بھارت سے تجارت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر قانونی اور یک طرفہ اقدامات واپس لینے تک اس سے تعلقات بحال نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے بھارت سے چینی اور کپاس درآمد کرنے کے فیصلے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ بعض وزرا کی جانب سے بھارت سے تجارت بحال ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔  وزرا کا مؤقف تھا جب تک بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 بحال نہیں کرتی اس وقت تک اس کے ساتھ کسی قسم کی تجارت نہیں ہونی چاہیے۔

کابینہ میں اس حوالے سے طویل بحث کے بعد ای سی سی کی سمری کو مؤخر کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر خزانہ حماد اظہر نے بھارت سے تجارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ چینی کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر ہم نے بھارت سے چینی منگوانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارت میں چینی کی قیمت پاکستان کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ اس لیے ہم نے نجی شعبے کے لیے بھارت سے 5 لاکھ ٹن تک چینی کی تجارت کھولنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یہاں ہماری سپلائی کی صورتحال بہتر ہو سکے اور معمولی کمی ہے وہ پوری ہو جائے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت کپاس کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ پچھلے سال کپاس کی فصل اچھی نہیں ہوئی تھی۔ اس لئے بھارت سے کپاس بھی درآمد کی جائے گی۔ حماد اظہر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر سال کپاس درآمد کی جاتی ہے، صرف بھارت سے تجارت کھول رہے ہیں تاکہ ہماری چھوٹی صنعتیں فائدہ اٹھا سکیں۔

خیال رہے کہ وفاقی کابینہ نے اگست 2019 میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے یک طرفہ اقدام کے بعد دوطرفہ تجارت معطل کر دی تھی۔

بھارتی حکومت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کردیا تھا۔ 7 اگست کو قومی سلامتی کمیٹی کے اہم اجلاس میں بھارت سے دوطرفہ تجارت کو معطل کرنے اور سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارت سے تعلقات پر نظر ثانی اور تجارت معطل کرنے سمیت 5 اہم فیصلے کیے گئے تھے۔ پاکستان نے سفارتی تعلقات محدود کرتے ہوئے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو ملک چھوڑنے کا حکم بھی دیا تھا۔