بلدیاتی اداروں کی تباہی
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 01 / اپریل / 2021
- 4800
عوام نے بلدیاتی نمائندوں کو پانچ سال کیلئے منتخب کیا تھا، ایک نوٹیفکیشن کا سہارا لےکر انہیں گھر بھجوانے کی اجازت نہیں دے سکتے، آئین کے آرٹیکل 140 کے تحت آپ قانون بنا سکتے ہیں لیکن منتخب ادارے ختم نہیں کر سکتے۔ آپ کو کسی نے غلط مشورہ دیا ہے ۔یہ ریمارکس ہیں چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کے۔
انہوں نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ حکومت چاہے وفاقی ، صوبائی یا بلدیاتی ہو اس کی ایک حیثیت ہوتی ہے آپ اختیارات میں تبدیلی کر سکتے ہیں، بنیادی ڈھانچے کو بھی بہتربنایا جا سکتا ہے لیکن آپ یہ بتائیں کہ آپ نے بلدیاتی حکومتیں کس قانون کے تحت اور کیوں ختم کر رکھی ہیں؟ بلدیاتی ادارےاب تک کیوں بحال نہیں ہوئے؟عوام نے بلدیاتی نمائندوں کو پانچ سال کیلئے منتخب کیا تھا عدالت محض ایک نوٹیفکیشن کا سہارا لے کر آپ کو انہیں گھر بھیجنے کی اجازت نہیں دےسکتی۔
واضح رہے کہ موجودہ بلدیاتی ادارے پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء کے تحت قائم ہوئے تھے جنہیں پی ٹی آئی گورنمنٹ قائم ہونے کے بعد آج سے بائیس ماہ قبل مئی 2018ء میں بلا جواز توڑ دیا گیا۔ کہا گیا تھا کہ ایک سال کے اندر نئے انتخابات کروا دیئے جائیں گے مگر ایک سال کی مدت گزرنے کے بعد پنجاب حکومت نے نیا آرڈیننس لاگو کرتے ہوۓ بلدیاتی ایکٹ 2019ء کے تحت جو تیاپانچہ کیا وہ مضحکہ خیز تھا۔ اس کے تحت پنجاب کی تقریباً پانچ ہزار یونین کونسلز کو ختم کرتے ہوئے پچیس ہزار کے قریب نئی ویلج اور نیبر ہڈ کونسلیں لانےکی نوید سنائی لیکن درحقیقت یہ سب وقت گزاری کے لئے محض الفاظ کا گورکھ دھندہ تھا جس کا سر تھانہ پاؤں۔ بالفعل تمام بلدیاتی ادارے منتخب قیادت کو ہٹا کر من پسندافسر شاہی کے ہاتھوں میں دے دیے گئے۔
بارہا استفسار کیا کہ بلدیاتی اداروں کی یتیمی کب ختم ہو گی؟ یہ سوال بھی اٹھایا کہ آپ سے پانچ ہزار یونین کونسلز تو ڈھنگ سے چلائی نہیں جا رہیں، یہ جو دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پچیس ہزار ویلج اور نیبر ہڈ کونسلیں لائی جا رہی ہیں ان کو کیسے چلائیں گے۔ اور ان کے لئے وسائل کہاں سے آئیں گے؟ مثال کے طور پر کوئی بھی ادارہ چاہے بڑا ہو یا چھوٹا اس کے لئے کم از کم ایک آفس یا تھوڑا بہت سٹاف تو تعینات کرنا پڑتا ہے۔ پانچ ہزار یونین کونسلز میں سے آدھی سے بھی زائد کیلئے اپنے دفاتر تک نہ تھے کرائے پر عمارات لے کر کام چلایا جا رہا تھا۔ یہی حال سٹاف کا بھی تھا۔ سوال یہ تھا کہ اگر پچیس ہزار سےزائد ویلج اور نیبر ہڈ کونسلیں قائم کی جائیں گی تو ان کا اہتمام کیسے ہو گا؟
اس سے بھی بدتر صورتحال، ایک بڑے افسر نے اپنی نااہلی اور ناتجربہ کاری کے ساتھ قائم کر دی تھی موصوف کی نہ جانے کیا دلچسپی تھی کہ انہوں نے مخصوص لوگوں کو نوازتے ہوۓ، آٹھ نو ہزار کے قریب ملازمین کو جن میں سیکرٹری یونین کونسلز سے لےکر اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ تک کو بے وجہ گھروں میں بٹھا دیا، جن کی 2ارب سے زائد تنخواہیں پنجاب حکومت کے خزانےسے جا رہی ہیں۔ اور یہ سلسلہ چودہ پندرہ ماہ سے جاری و ساری ہے۔
اس سے قبل جب مئی 2018 میں منتخب بلدیاتی ادارے توڑے گئے تو اس سے بھی بڑے بلنڈر فرمائے گئے۔ مثال کے طور پر لاہور ہی کو دیکھ لیا جائے۔ یہاں 274 یونین کونسلز کام کر رہی تھیں جن میں سےہر ایک کو منتخب چیئرمین اور وائس چیئرمین کے علاوہ آٹھ دس افراد کی منتخب باڈی چلا رہی تھی۔
نئے نوٹیفکیشن کے مطابق ان سب کو فارغ کرتے ہوئے محض ایک شخص کو تمام کی تما م 274 یونین کونسلز کا ایڈمنسٹریٹر تعینات کر دیا گیا جس کے فرائض یا ذمہ داریوں کی تفصیل بیان کی جائے تو یہ سب ناقابل عمل دکھائی دے گا۔ یہ انصرام محض لاہور نہیں پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں کیا گیا۔ بعد ازاں اس سے بھی بڑا بلنڈر یہ کیا گیا کہ یونین کونسلز کا ریکارڈ یوں پھینکا گیا ہے کہ سائیلین اپنی کسی بھی چیز کے حصول کی خاطر رل کر رہ جائیں گے۔ اور جس شخص کو فیلڈ ورکر کے طور پر اتنے دفاتر کا ریکارڈ سونپا گیا ہے وہ ریکارڈ ڈھونڈنے کے نام پر عوام کو ذلیل کرے۔ اگر دیانتداری سے بھی کام کرے تو کیا یہ اس کے بس میں ہو گا کہ وہ یہ سب بہتر طور پر کر سکے۔ ہے کوئی ذمہ دار جو ان تمام زیادتیوں کی تفتیش کرتے ہوئے ذمہ داران کاتعین کرے؟ مسئلہ محض ریکارڈ تک محدود نہیں ہےتمام کمپیوٹرز، فرنیچر اور اثاثہ جات کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا ہے۔ شہری علاقوں میں جو ابتری ہے، وہ اپنی جگہ، دیہی علاقوں کی صورتحال اس سے بھی دگرگوں ہے۔
ہر بندہ یہ جانتا ہے کہ یہاں نیا سسٹم یا سسٹم میں بہتری کسی کو بھی مطلوب نہ تھی۔ مدعا محض اس قدر تھا کہ ہم نے کسی بھی طرح سابقہ حکومت کے دور میں منتخب ہونےوالے نمائندوں کو آنے نہیں دینا۔ اور نہ نئےانتخابات کروانے ہیں۔ محض ایک رٹ لگائے رکھنا ہے کہ ہم نیا سسٹم لا رہے ہیں تاکہ بلدیاتی اداروں کی بحالی نہ ہو سکے۔ پنجاب کے 36اضلاع میں سے محض ایک ضلع اٹک میں پی ٹی آئی کا چئرمین تھا باقی تقریباً سبھی میں ن لیگی تھی۔ یہی حال یونین کونسلز سے لے کر دیگر اداروں تک تمام چیئرمینوں او روائس چیئرمینوں کا تھا۔ بھلے مانسو! اگر آپ نے انہیں نہیں آنے دینا تو کم از کم نئے لوگوں کو منتخب ہونے دو لیکن بلدیاتی الیکشن ہی نہیں ہونے دینا۔ اس خوف سے کہ ن لیگی جیت جائیں گے مگر بہانہ یہ کہ دو سالوں میں نیا سسٹم نہیں بن پا رہا۔ نیا بہانہ یہ کہ کورونا بہت پھیلا ہوا ہے۔ کوئی یہ تو پوچھے کہ جو ضمنی الیکشن کرواتے ہو تب کورونا کہاں بھاگ جاتاہے اور پھر گلگت بلتستان میں جو عام انتخابات ہوئے ہیں تب کورونا کہا ں چلا گیا تھا؟
منتخب بلدیاتی اداروں کا تو مدعا ہی یہ ہے کہ لوکل مسائل کو لوکل سطح پر لوکل وسائل سے حل کیا جائے۔جنم مرن سرٹیفکیٹ سے لے کر شادی بیاہ اور طلاقوں کے جھگڑوں تک کتنے ایشوز ہیں جو ان مقامی اداروں کے ذریعے حل کئے جاتے ہیں اور پھر گلیوں نالیوں سے لے کر علاقے کے تمام ترقیاتی و فلاحی منصوبوں تک کیا یہ تمام شعبہ جاتی امور مقامی قیادت کے ذریعے حل نہیں ہونے چاہئیں۔ آپ لوگوں کا تو بلند بانگ دعویٰ تھا کہ ہم ترقیاتی منصوبہ جات پر عملدرآمد ایم این ایز اور ایم پی ایز کے ذریعے نہیں، مقامی حکومتوں کی منتخب قیادت کے ذریعے کروائیں گے۔ جب اس نوع کی بیان بازی ہوئی تو جسٹس (ر) محترمہ ناصرہ اقبال صاحبہ کا فون آیا کہ دیکھو ریحان وہ کیا کمال تبدیلی لے کر آ رہے ہیں۔ عرض کی میڈم آپ بھی یہاں ہیں، میں بھی ، جب عمل ہو گا تو بات کیجئے گا۔
یہاں یہ امر بھی واضح رہے کہ منتخب نمائندوں کے بالمقابل افسر شاہی کی سوچ سوائے ذاتی مفادات اور پھوں پھاں کے اور کچھ نہیں ہوتی۔ عوامی نمائندہ کتنا بھی گیا گزرا ہو، اسے یہ احساس ضرور ہوتا ہے کہ اگر میں نے اپنے لوگوں کے کام نہ کروائے تو کل کو ووٹ لینے کس منہ سے ان کے پاس جاؤں گا۔ یہی جذبہ اسے عوامی خدمت پر مجبور کرتا ہے۔ انصاف تو یہ بنتا ہے کہ جتنی مدت منتخب قیادت کو معطل رکھا گیا ہے اتنی مدت ان کو اضافی طور پر تفویض کی جائے، اس کے بعد بلاتاخیر اور بلارکاوٹ تسلسل کے ساتھ جمہوریت کو چلنے اور پھلنے پھولنے دیا جائے۔ اسی سے سسٹم کی خرابیاں از خود درست ہوتی چلی جائیںگی۔