2022 کے آخر تک کورونا کے بعد زندگی معمول پر آسکتی ہے

  • جمعہ 02 / اپریل / 2021
  • 6100

مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ویکسینز کی جلد تیاری تو کرشمہ ہے مگر عالمی سطح پر ان کی فراہمی کے لیے مناسب کوششیں نہ ہونے کی وجہ سے زندگی جلد معمول نہیں آسکے گی۔

سی این این سے بات کرتے ہوئے بل گیٹس نے خیال ظاہر کیا کہ کورونا وائرس کی وبا کا خاتمہ اور زندگی 2019 کی طرح معمول پر 2022 کے آخر تک آسکے گی۔

امریکا میں تو زندگی کے معمولات رواں سال موسم خزاں تک لگ بھگ بحال ہوسکتے ہیں۔ مگر عالمی سطح پر ویکسینیشن کی ناکافی کوششوں کے باعث مکمل بحال 2022 کے آخر تک ہی ممکن ہوسکے گی۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال کی چوتھی سہ ماہی کے دوران امریکا میں تمام اسکول پھر کھل سکتے ہیں۔ کسی حد تک ریسٹورنٹس کی سرگرمیاں اور کھیلوں کے ایونٹس کا انعقاد ہوسکتا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر وبا کے خاتمے کے لیے ہم نے زیادہ کام نہیں کیا۔ ویکسینز فی الحال امیر ممالک کے پاس جارہی ہیں، جس کے نتیجے میں وائرس کی زیادہ متعدی اقسام بیرون ملک پھیل سکتی ہیں اور وہاں سے پھر امریکا پہنچ سکتی ہیں۔ بل گیٹس نے کہا کہ یہ بھی خطرہ ہے کہ ری انفیکشن کی لہر سامنے آئے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وبا کا خاتمہ 2022 کے آخر تک ہی ہوسکے گا ماسوائے اس صورت میں اگر ہم زیادہ بہتر کام کریں۔