پیپلز پارٹی اسٹیٹ بینک سے متعلق آرڈیننس کو عدالت میں چیلنج کرے گی

  • جمعہ 02 / اپریل / 2021
  • 4180

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کے آرڈیننس کے ذریعے اسٹیٹ بینک کو دوسروں کے حوالے کرنے کے اقدام کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

جیکب آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو جس معاشی بحران کا سامنا ہے، اس کی ذمہ دار عمران خان کی حکومت ہے۔ سلیکٹڈ وزیر اعظم ملک کو نہیں چلا سکتا۔  آ ئی ایم ایف ڈیل کی وجہ سے آج ملک میں تاریخی بیروزگاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ 3 سال میں حکومت نے دو وزیر خزانہ تبدیل کیے لیکن پالیسی ایک ہی ہے۔ حکومت معاشی فیصلے آرڈیننس کے ذریعے کرنا چاہتی ہے اور ملکی ادارے آئی ایم ایف کے حوالے کر رہی ہے۔ غیر آئینی آرڈیننس کے ذریعے اسٹیٹ بینک کو دوسروں کے حوالے کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک، آئی ایم ایف کی پالیسی پر چلے گا تو یہ ملک کی معاشی خود مختاری پر حملہ ہوگا لہٰذا اسٹیٹ بینک سے متعلق آرڈیننس کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اپوزیشن کے خلاف نیب اور دوسرے اداروں کو استعمال کیا جارہا ہے۔ نیب کے ذریعے ہمارے نمائندوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آصف زرداری نے کہا تھا کہ نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے اور موجودہ حکومت کے 3 سال بعد اب ہر شخص یہی کہہ رہا ہے۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کا ماضی ایسا ہے کہ ساتھ چلنا مشکل ہے لیکن اس کے باوجود تین سال پوری کوشش کی ساری جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں۔ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی  کے اجلاس میں تمام معاملات زیر غور آئیں گے۔ ہم نہیں چاہتے کسی وجہ سے پی ڈی ایم کو نقصان پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ اپوزیشن کی لڑائی کا حکومت کو کسی صورت کوئی فائدہ ہو، ہم پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے حکومت کو ٹف ٹائم دینا چاہتے ہیں۔ اپوزیشن کی تمام پارٹیاں ایک پیج پر ہیں کہ عمران خان اور ان کی حکومت کو جانا پڑے گا۔

انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ڈسکہ میں ضمنی انتخاب کے بعد جو رویہ اور فارمولا سامنے آیا اور جس طرح دھاندلی ہونے نہیں دی گئی ایسا صرف پنجاب کی نشستوں میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ جہاں جہاں دھاندلی ہوئی وہاں الیکشن کمیشن کو آزادانہ اور خود مختار کردار ادا کرنا چاہیے۔