سپریم کورٹ نے ڈسکہ ضمنی انتخاب دوبارہ کروانے کا فیصلہ برقرار رکھا
- جمعہ 02 / اپریل / 2021
- 4260
پاکستان کی سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ کا ضمنی انتخاب دوبارہ کرانے سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے ڈسکہ میں دوبارہ انتخاب کے الیکشن کمیشن کے حکم کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔ عدالت نے جمعے کو اپنے مختصر فیصلے میں قرار دیا کہ حلقے میں دوبارہ انتخاب ہو گا اور اس سلسلے میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رہے گا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے 19 فروری کو ہونے والے ضمنی انتخاب کو کالعدم قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ انتخاب شفاف اور منصفانہ نہیں تھا۔ کمیشن نے پورے حلقے میں دوبارہ پولنگ کرانے کا حکم دیا تھا جب کہ حکمراں جماعت کے امیدوار علی اسجد ملہی نے کمیشن کے اس حکم نامے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ 75 ڈسکہ میں دوبارہ ضمنی انتخاب کے لیے 10 اپریل کی تاریخ مقرر کی تھی۔
جمعے کو سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن ڈسکہ میں مناسب اقدامات کرنے میں ناکام رہا تھا۔ پریزائیڈنگ افسران جس نے بھی غائب کیے اس نے انتخابی عمل کو دھچکا لگایا ہے۔ اگر انتخابی نتائج متاثر ہوں تو دوبارہ پولنگ ہو سکتی ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے مرکزی رہنما عثمان ڈار نے کہا کہ وہ عدالتی فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہم نون لیگ کی طرح اپنے خلاف آنے والے فیصلوں پر عدالتوں کے خلاف بات نہیں کریں گے۔
اس موقع پر ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں حکمراں جماعت کے امیدوار علی اسجد ملہی کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کا حق وہ رکھتے ہیں اور تفصیلی فیصلہ سامنے آنے کے بعد ہی ان کی درخواست مسترد ہونے کی وجوہات سامنے آ سکیں گی۔ اسجد ملہی کا مزید کہنا تھا کہ ڈسکہ کے عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ ضمنی انتخاب میں کون جیتا اور کون ہارا۔
عدالتی فیصلے پر مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ڈسکہ کے عوام نے ضمنی انتخاب کے دوران اور بعد میں ووٹ پر پہرا دیا۔ پاکستان کے عوام جاگ چکے ہیں اور اپنا حق پہچانتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا حکم عوام کے مینڈیٹ کو چوری کرنے والوں کے لیے واضح پیغام ہے اور یہ پیغام ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو کہہ رہے تھے کہ مسلم لیگ (ن) پر جمعہ بھاری ہوتا ہے۔
این اے 75 کے ضمنی انتخاب میں اصل مقابلہ حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی اور حزبِ اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کی امیدوار نوشین افتخار کے درمیان تھا۔ یہ نشست مسلم لیگ (ن) کے رکنِ اسمبلی سید افتخار الحسن شاہ کے انتقال کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔
انیس فروری کو حلقے میں پولنگ کے دوران بدنظمی کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے جب کہ فائرنگ کے واقعے میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ضمنی انتخاب کے دوران رات گئے 20 پولنگ اسٹیشنز کے پریزائیڈنگ افسران اچانک 'غائب' ہو گئے تھے جو اگلی صبح ریٹرننگ افسر کے پاس پہنچے۔
پریزائیڈنگ افسران کے بروقت نہ پہنچنے سے پہلے مسلم لیگ (ن) کی نوشین افتخار کو اسجد ملہی پر سبقت حاصل تھی لیکن 20 پولنگ اسٹیشنز کے نتائج کے بعد اسجد ملہی جیت گئے تھے۔ تاہم الیکشن کمیشن نے نوشین افتخار کی شکایت پر حلقے کے نتائج روک دیے تھے اور تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ "آج ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ عمران خان اور ان کی جعلی حکومت نے ڈسکہ کے عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا ہے۔"