پی ڈی ایم کا نیا سیاسی چیلنج
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 02 / اپریل / 2021
- 7760
حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم داخلی انتشار کا شکار ہوگیا ہے۔ اس وقت بڑا چیلنج پی ڈی ایم کو سیاسی طو رپر زندہ رکھنا اور اپنے داخلی معاملات میں موجود سیاسی انتشار کو کم کرکے اپنی سیاسی طاقت کو برقرار رکھنا ہے۔
پی ڈی ایم میں شامل دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ ن میں بداعتمادی بڑھ رہی ہے۔ دونوں جماعتیں جو جمہوریت، سول بالادستی اور موجودہ حکومت کے خلاف حتمی جنگ کے لیے سیاسی میدان میں موجود تھیں، لیکن اب یہ ہی دونوں جماعتیں حکومت کے مقابلے میں خود ایک دوسرے کے خلاف میدان میں کود پڑی ہیں۔یہ صورتحال حزب اختلاف کی جماعتوں کے لیے کوئی اچھا شگون نہیں اور اس کا براہ راست فائدہ حکومت اور نقصان حزب اختلاف کی سیاست کو ہورہا ہے۔
ماضی میں پیپلزپارٹی او رمسلم لیگ ن میں سرد جنگ رہی ہے۔ لیکن عمران خان کی سیاست میں غلبہ پر ان دونوں سیاسی جماعتوں میں سیاسی رومانس بھی دیکھنے کو ملا۔ بظاہر یہ ہی تاثر دیا گیا کہ دونوں جماعتیں جمہوریت، قانون کی بالادستی، فوجی سیاسی مداخلتوں اور بیانیہ کی جنگ میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہیں۔ پی ڈی ایم میں بڑا کردار یہ ہی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں تھیں۔ لیکن یہ بات تواتر سے مجھ سمیت بہت سے لوگ لکھتے رہے ہیں کہ یہ اتحاد عمران خان دشمنی پر مبنی ہے۔ جیسے ہی جس جماعت کو بھی کوئی موقع ملا تووہ اتحاد کے مقابلے میں اپنے جماعتی یا ذاتی مفادکو ترجیح دے کر کچھ لواو رکچھ دو کی بنیاد پر اپنے معاملات طے کرکے اتحاد کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرے گی۔
پیپلز پارٹی کے مقابلے میں مسلم لیگ ن زیادہ دکھی ہے او راسے محسوس ہوتا ہے کہ پیپلزپارٹی نے اسٹیبلیشمنٹ کی مدد سے سیاسی چال کھیل کر ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے مقابلے میں مسلم لیگ ن کے لب ولہجہ میں زیادہ تلخی اور بدگمانی کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ احسن اقبال نے تو ایک قدم آگے بڑھ کر پیپلزپارٹی پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اسٹیبلیشمنٹ کے اشارے پر سینٹ چئیرمین کے انتخاب میں سات ووٹ ضائع کرکے صادق سنجرانی کی جیت میں اپنا حصہ ڈالا ۔ اب مسلم لیگ نے کھل کر پیپلزپارٹی کے یوسف رضا گیلانی کو سینٹ میں قائد حزب اختلاف ماننے سے انکار کردیا ہے۔ ا س پر جوابی وارکرتے ہوئے پیپلزپارٹی نے بھی دھمکی دی ہے کہ ایسی صورت میں ہم بھی قومی اسمبلی میں شہباز شریف کو قائد حزب اختلاف ماننے سے انکار کرسکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی پر مسلم لیگ ن کے بعد جے یو آئی بھی نالاں ہے۔پی ڈی ایم کی یہ دونوں جماعتیں مسلم لیگ ن او رجے یو آئی پیپلزپارٹی پر الزام لگا رہی ہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی بی ٹیم کا حصہ بن گئی ہے۔
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اس وقت نواز شریف اور مریم نواز کے زیادہ قریب ہیں۔ بڑا چیلنج پیپلزپارٹی کی پی ڈی ایم میں موجودگی کو برقرار رکھنے یا نہ رکھنے کا ہے۔کیونکہ اس وقت پی ڈی ایم کے پاس دو ہی سیاسی حکمت عملیاں ہیں۔ اول وہ تمام تر سیاسی بگاڑ کے باوجود پیپلزپارٹی کو ساتھ لے کر چلے۔ ایسی صورت میں پی ڈی ایم کو یقینی طور پر پیپلزپارٹی کے مفاہمتی ایجنڈے پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا۔ دوئم پی ڈی کی جماعتیں پیپلز پارٹی کو مائنس کرکے پی ڈی ایم کے اتحاد کو برقرار رکھے او رحکومت مخالف تحریک میں آگے بڑھے۔لیکن پیپلزپارٹی کو باہر نکال کر پی ڈی ایم خود کو کتنا مضبوط رکھ سکے گا یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ایسی صورت میں یقینی طور پر حزب اختلاف تقسیم ہوگی۔ دونوں خود کو حقیقی اور دوسرے کو اسٹیبلیشمنٹ کی بی ٹیم کا سیاسی طعنہ دے کر اپنی تقسیم کو اور زیادہ متنازعہ بنائیں گی۔
پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور مسلم لیگ ن نے سیاسی عندیہ دیا ہے کہ وہ عید کے بعد لانگ مارچ کریں گے اور اگر ان کو یہ لانگ مارچ پیپلز پارٹی کے بغیر بھی کرنا پڑے تو گریز نہیں کیا جائے گا۔ لیکن کیا واقعی ایسا لانگ مارچ ممکن ہے جو حکومت کے خاتمہ کا سبب بن سکے اور اس وقت تک لانگ مارچ جاری رہے جب تک حکومت گھر نہیں جاتی۔مسئلہ محض پیپلزپارٹی کا نہیں بلکہ خود مسلم لیگ ن کے اندر شہباز شریف گروپ بھی مزاحمت کے مقابلے میں مفاہمت کے سیاسی کارڈ کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ وہ بھی لانگ مارچ کی بنیاد پر ٹکراؤ کی سیاست کا حامی نہیں۔یہ مفاہمتی گروپ لانگ مارچ کا حامی ہے لیکن ایک دن سے زیادہ نہیں او راس کی بنیاد حکومت کی ناکامی او رمہنگائی کی بنیاد ہونی چاہیے۔ اگر اگلے کچھ عرصہ میں ہمیں مسلم لیگ ن کی سیاست میں مریم نواز کے مقابلے میں شہباز شریف یا حمز ہ شہباز سرگرم نظر آتے ہیں تو پھر مولانا فضل الرحمن میں بھی مایوسی پیدا ہوگی۔ کیونکہ وہ ایک بڑی سیاسی مہم جوئی کا ایجنڈا رکھتے ہیں اس پر یقینی طور پر شہباز شریف یا حمزہ شہباز حمایت نہیں کریں گے۔ استعفوں کے معاملے میں بھی اختلاف محض پیپلزپارٹی تک ہی محدود نہیں بلکہ عملی طو رپر مسلم لیگ ن میں بھی اس پر سیاسی تقسیم موجود ہے۔
پی ڈی ایم نے ابتدائی طورپر جو سیاسی اٹھان لی تھی ا ور جس انداز سے اس اتحاد کو لے کر آگے بڑھے تو ابتدائی طورپر یقینا حکومت کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بنے تھے۔لیکن جیسے جیسے وقت گزرا پی ڈی ایم طاقت ور بننے کی بجائے اپنے داخلی مسائل او رمختلف جماعتوں کے اپنے ایجنڈوں کی بنیاد پر اسے کمزوری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔حالیہ پی ڈی ایم وہ پی ڈی ایم نہیں جو چند ماہ پہلے تھی او رنہ ہی اب یہ حکومت کے لیے کوئی بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔دراصل پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ ن دونوں نے اپنے اپنے سیاسی مفاد کے لیے پی ڈ ی ایم کو بطور سیاسی ہتھیار کے طو رپر استعما ل کیا۔ پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی او رمسلم لیگ ن کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔پیپلزپارٹی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کیوں مسلم لیگ ن یا جے یو آئی کے ایجنڈے پر دیوار سے ٹکرمارے او ربلاوجہ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کاماحو ل پیدا کرے۔اس لیے عملی سیاست میں یقینی طور پر پیپلزپارٹی نے وہی راستہ اختیار کیا جو اس کے جماعتی مفاد میں تھا۔
پی ڈی ایم کو اب اگر مولانا فضل الرحمن یا مریم نواز نے چلانا ہے او رمزاحمت کا رنگ بھی دکھانا ہے تو یہ ایک بڑے چیلنج سے کم نہیں ہوگا اور اس کے لیے بھی پہلے ان کو اپنے داخلی چیلنج سے نمٹنا ہوگا۔اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلم لیگ ن کے بیانیہ میں شہباز شریف او رحمزہ شہباز بھی اپنا حصہ ڈالیں۔کیونکہ ان کی اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف خاموشی سے خود پی ڈی ایم او رنواز شریف یا مریم نواز کے سیاسی بیانیہ کو ہی نقصان کا سامنا ہے۔یہ جنگ محض جذباتی نعروں یا سیاسی بڑھکوں کی بنیاد پر نہیں جیتی جاسکتی۔ یہ ایک جمہوری جنگ ہے تو اس کے لیے حکمت عملی میں جمہوری طور طریقے او ر مستقل مزاجی کی ضرورت ہے۔ نواز شریف کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ باہر سے بیٹھ کر جنگ لڑنا ممکن نہیں او ران کی عدم موجودگی او را پیپلزپارٹی کی مزاحمتی تحریک میں عدم دلچسپی کے بعد یہ تحریک کوئی بڑی تحریک کا منظر پیش نہیں کرسکے گی۔اب دیکھنا ہوگا کہ نواز شریف، مریم نواز او رمولانا فضل الرحمن ایسا کیا جادو دکھاتے ہیں کہ وہ پی ڈی ایم کے مردہ جسم میں نئی سیاسی جان ڈال سکیں۔