سرعتی کورونا ٹیسٹ: زندگی کا معمول بن سکتا ہے

مانع حمل گولیوں کا استعمال تیسری دنیا میں جس وجہ سے بھی ہو، پہلی دنیا میں تو اسے انسانی تعلقات کو مستحکم اور رواداری کے اصولوں پر منطبق کرنے اور محفوظ بنانے کے لیے ہی ہوتا ہے۔

یہ تیسری دنیا کے انسان، دنیا کے کسی خاص علاقے میں بسنے والے خاص ملک کے انسان نہیں بلکہ اب یہ دنیا کے ہرخطے اور ملک میں پائے جاتے ہیں۔ پہلی اور تیسری دنیا دراصل ہر ملک اور ہر خطے میں آباد ہے۔ اس ایجاد کے کافی عرصہ بعد ایک بار پھر سے انسانی تعلقات کو مستحکم اور رواداری کے اصولوں پر منطبق کرنے اور محفوظ بنانے کے لیے کورونا سرعتی ٹیسٹ یعنی فریکیونٹ ٹیسٹ ایجاد ہوگئے ہیں۔

آپ صبح منہ دھوتے ہیں، نہانے سے قبل سرعتی ٹیسٹ بھی کرلیں، آپ کو پتہ چل جائے گا کہ آپ آج لوگوں سے مل سکتے ہیں یا گھر پر بند رہنا پڑے گا۔ انسان کبھی صبح کے وقت نیم کے پیڑ کی شاخ، جسے ڈنٹھل کہنا درست ہوگا، سے مسواک کرکے خود کو تازہ دم محسوس کرتا تھا۔ نہار منہ کی بدبو سے خود کو محفوظ جانتا تھا۔ مگر ٹوتھ برش کی ایجاد اور مارکیٹنگ کے وقت ضرور یہ بات پھیلائی گئی ہوگی کہ نیم کی شاخ سے دانت مانجنا منہ کی کئی خطرناک بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اور اس کا واحد بچاؤ ٹوتھ پیسٹ اور برش کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔

گو کہ اب یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ نیم جراثیم کش ہوتا ہے۔ خیر اب ترقی کو روکا تو نہیں جاسکتا۔ نہ وقت کی گھڑی کو الٹا چلانا دانش مندی ہوگی۔ مگر ڈبے کے دودھ جو ممتا کے لیے کبھی چیلنچ کی حیثیت رکھتے تھے، ان کی قلعی تو کھل گئی ہے۔  لیکن کورونا سرعتی تجزیہ اب بہت ضروری ہوچکا ہے۔ اب مارکیٹوں کے کھلنے، کنسرٹ اور کھیلوں کی بحالی کے لئے اس ٹیسٹ کا کروانا اور پھر آزادی کے ساتھ نارمل زندگی گزارنا، ایک نعمت سے کم نہیں۔ انسان ترقی کی راہ گامزن اور اسے ترقی کا جنون جو ہے تو اسے اس کی قیمت تو ادا کرنا ہوگی۔

یہاں تو یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سرعتی ٹسٹ کا یہ طریقہ فیم ٹیسٹ، جس کے ذریعہ خواتین فوری طور پر کسی بد پرہیزی کا اندازہ لگا سکتی ہیں، کے مقابلے میں بھی آسان ٹیسٹ ہے۔  

ٹیسٹ بہت ضروری ہوتا ہے، کلاس روم میں بھی اور حکومت میں بھی۔ ویکسین ٹیسٹ میں فیل حکومت اب سرعتی ٹیسٹ کا سہارا لے کر پاس ہونا چاہتی ہے۔ اور فیل ہونے کے ڈر سے کرفیو جیسے سخت اقدامات کرنے پر اتر آئی ہے۔ سویڈن کی حکومت کسی لاک ڈاؤن کی ضرورت محسوس نہیں کر رہی اور جرمنی میں فوج بلاکر عوام کو قابو کرنے کی باتیں ہورہی ہیں۔

ایسے میں جرمنی فاشزم کی جانب سرکتا دکھائی دے رہا ہے۔ گرین پارٹی جیسی چھوٹی اور دائیں بازو کی کوئی پارٹی اگر آنے والے انتخابات میں بڑی کامیابی نہ حاصل کر لے،  اس کی تگ ودو جاری ہے۔