محقق کے اغوا اور بازیابی پر اٹھنے والے سوال
- ہفتہ 03 / اپریل / 2021
- 4590
محقق کے اغوا اور بازیابی پر اٹھنے والے سوال
پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کے ناقد سمجھے جانے والے اور سوشل میڈیا پر سرگرم نوجوان محقق سرمد سلطان دو روز تک لاپتہ رہنے کے بعد گھر واپس پہنچ چکے ہیں۔
ایک ٹوئٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا 'میں سرمد سلطان آپ کے سامنے خیریت کے ساتھ کھڑا ہوں، جو کچھ میرے ساتھ، میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ اور میرے اہل خانہ کے ساتھ ہوا وہ ریاست پر، اس کے اداروں پر ایک لگا ہوا سوالیہ نشان ہے۔' ان کا مزید کہنا تھا یہ سوالیہ نشان ریاست کے اہم ترین ستونوں پر لگا ہے۔ اس سوالیہ نشان کا جواب کون دے گا؟ میں، آپ، ریاست یا کوئی اور؟ اس پر سوچیں۔
اس سے قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کی اہلیہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سرمد سلطان واپس آ چکے ہیں تاہم انہوں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ان کو کب اور کیسے لے جایا گیا تھا، اور وہ کیسے واپس پہنچے۔ سرمد کا ایک روز پہلے ٹوئٹر اکاؤنٹ بند تھا لیکن اب وہ بھی فعال ہو چکا ہے۔
اس اکاؤنٹ سے ان کی اہلیہ نے ٹویٹ کی تھی کہ ’ تیس مارچ کی رات سرمد سلطان پر گھر میں قاتلانہ حملے میں ان کا چھوٹا بھائی سچل سلطان شدید زخمی ہو گیا۔ تاہم اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے. اہلخانہ کے شور مچانے پر قاتل یہ دھمکی دے کر چلے گئے کہ آئندہ سرمد اپنی تحریروں سے باز نہ آیا تو اس کی لاش بھی نہیں ملے گی۔‘
اس ٹویٹ کے ساتھ سرمد سلطان کے بھائی سچل سلطان کی تصویر بھی لگائی گئی تھی جس میں ان کے سر پر پٹی لپٹی ہوئی ہے۔
پیغام میں مزید لکھا تھا کہ ’سرمد سلطان اب بخیریت ہیں۔ ہمارا کسی سیاسی یا مذہبی جماعت سے تعلق ہے نہ دشمنی ہے۔ قاتل جلد خدائی انصاف کی زد میں آئیں گے۔ معصوم سچل سلطان کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا۔ تمام دوست احباب خاص طور پر مریم نواز اور حامد میر کا شکریہ۔ دعاؤں کی طالب مسز سرمد سلطان۔‘
یاد رہے کہ سرمد سلطان کے لاپتہ ہونے پر حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد بازیابی کا مطالبہ کیا تھا۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک کے رہائشی سرمد سلطان ایم ایس سی ریاضی کے ساتھ ساتھ اردو ادب اور فلسفہ میں ایم اے کر چکے ہیں۔ تاریخ پر گہری نظر رکھتے ہیں۔
وہ ٹوئٹر پر سرگرم رہتے ہیں اور زیادہ تر پاکستان کی تاریخ اور دیگر معاملات پر لکھتے ہیں اور اسٹیبلیشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ وہ اکثر ماضی میں ہونے والے واقعات کو آج رونما ہونے والے واقعات سے جوڑ کر لوگوں کو یاد دہانی کراتے اور ان کے تمام تر ٹوئٹس کے نیچے ہیش ٹیگ ’ذرا سوچئے‘ لکھا ہوتا۔