اپوزیشن کو حکومت کے خلاف مل کر جد و جہد کرنی چاہئے: بلاول بھٹو زرداری

  • ہفتہ 03 / اپریل / 2021
  • 4370

پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کو باہمی اختلافات بھلا کر حکومت کی مخالفت میں مل کر کوشش کرنی چاہئے۔  تاکہ اس اس نالائق، نااہل اور کٹھ پتلی حکومت سے نجات حاصل کی جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم لڑائی میں نہیں پرنا چاہتے۔  مسلم لیگ(ن) جس کو بھی مذاکرات کے لیے نامزد کرے گی ہم اس سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ اگر اپوزیشن جماعتیں مل کر حکومت کی مخالفت نہیں کریں گی تو اس کا فائدہ عمران خان کو ہو گا۔ ہماری کوشش یہ ہے کہ یہ کٹھ پتلی حکومت اپنی مدت مکمل نہ کرے۔ اگر اپوزیشن مل کر ان کا مقابلہ کرتی ہے تو عمران خان اپنی حکومت کی مدت پوری نہیں کر سکتے۔

یوسف رضا گیلانی کے سینیٹ الیکشن جیتنے سے نوشتہ دیوار پڑھا جا چکا ہے کہ اس حکومت کو جانا ہو گا۔ میں آج بھی سمجھتا ہوں کہ آپس میں لڑنے کے بجائے اگر ہم اس حکومت کو نشانہ بنائیں تو ہم اس مقصد میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کچھ جماعتیں پراپیگنڈا کرکے پیپلز پارٹی کو ایسے پیش کرنے کی کوشش کررہی ہیں کہ جیسے ہم نے کوئی ڈیل کی ہو لیکن ہم ایسی سیاست نہیں کرتے۔ کسی بھی جماعت کے لیے غلط بیان بازی اپوزیشن کے فائدے میں نہیں ہے۔ اسی وجہ سے میں بھی کوئی بیان دینے سے گریز کررہا ہوں۔

انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کی جلد صحتیابی کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ ہیں جن پر بہت اہم ذمے داری ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کو ساتھ رکھیں اور کسی ایک جماعت کا ساتھ نہ دیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کے پاس بہت تجربہ ہے اور وہ اختلاف رائے کی وجہ سے اپنے اتحاد کو نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔ مسلم لیگ(ن) کو بھی میرا مشورہ ہے کہ وہ تحمل مزاجی کے ساتھ سیاست کرے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے پیپلز پارٹی کے کچھ دوستوں کو لگ رہا ہے کہ جیسے یوسف رضا گیلانی کی کامیابی عمران خان کو ہضم نہیں ہوئی۔ ویسے ہی ہمارے مسلم لیگ(ن) کے کچھ دوستوں کو بھی ہضم نہیں ہوئی، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ جس طرح سے ہم مسلم لیگ (ن) کی ضمنی انتخابات میں فتح پر خوش ہوتے ہیں تو اسی طرح مسلم لیگ(ن) کو بھی پیپلز پارٹی کی کامیابی پر خوش ہونا چاہیے۔ حسد کی وجہ سے بڑے مقصد کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔ ہر وقت آر یا پار کی سیاست نہیں چلتی۔ آپ کو بہت سنجیدگی اور ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ فیصلے لینے چاہئیں۔

 

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ  آئی ایم ایف کے ساتھ  ڈیل کے نتیجے میں پاکستان کے عوام کو تکلیف پہنچے گی۔ اگر ریلیف ہے تو ریلیف صرف امیروں کے لیے ہے۔  پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل کے نتیجے میں پاکستان نے اپنی معاشی خود مختاری کھو دی ہے۔ اب اسٹیٹ بیک آرڈیننس پاس کیا گیا ہے اس سے ہماری معاشی خود مختاری پر سب سے بڑا حملہ ہونے جا رہا ہے۔ پاکستان کا اسٹیٹ بینک پارلیمان اور عدالت کو جوابدہ نہیں ہو گا۔ صرف آئی ایم ایف کو جوابدہ ہو گا۔

پاکستان کا اسٹیٹ بینک عوام کو جوابدہ نہیں ہو گا تو اسٹیٹ بینک کی پالیسیاں پاکستان کے عوام کے بجائے آئی ایم ایف کے فائدے میں ہوں گی۔ ہم پاکستان کی معاشی خود مختاری پر اس قسم کا حملہ ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ ہر فورم پر اس آرڈیننس کی مخالفت کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی ناصرف رکی ہوئی ہے بلکہ منفی میں ہے۔ معاشی شرح نمو افغانستان جیسے جنگ زدہ ممالک سے بھی کم ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ تین سال گزرنے کے باوجود کسی پاکستانی کو نہیں پتہ کہ اس  وزیراعظم کی پالیسی کیا ہے۔ کبھی وہ اپنے آپ کو کشمیر کے سفیر کے طور پر پیش کرتا ہے اور کبھی وہ کلبھوشن یادو کا وکیل بننے کی کوشش کرتے ہیں، آرڈیننس کے ذریعے کلبھوشن کو این آر او دینے کی کوشش کی گئی۔ عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم بھی ہیں اور وزیر کامرس بھی۔  وزیر کامرس عمران خان کہتا ہے کہ بھارت کے ساتھ ہماری تجارت کو بحال کرنا چاہیے۔ وہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے ذریعے یہ پالیسی کابینہ کو بھیجتے ہیں، لیکن کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کہتا ہے کہ ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے فیصلہ اکیلے کرنا وزیر اعظم کا اختیار نہیں ہے۔ یہ پاکستان کی پارلیمان کا استحقاق ہے لیکن آج تک عمران خان نے کسی ایک جماعت سے بات نہیں کی۔ پارلیمان کو استعمال کرنے کی کوشش تک نہیں کی۔ اس وزیر اعظم میں وہ صلاحیت ہی نہیں کہ وہ ہماری خارجہ پالیسی اور ملک چلائے۔