مارا ماری کی گورننس
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 03 / اپریل / 2021
- 7540
مہنگائی کنٹرول کرنے میں ناکامی پر وزیر اعظم نے وزیر خزانہ عبد ا لحفیظ شیخ کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے پریس کانفرنس میں حکومتی فیصلے کا ا علان کرتے ہوئے وضاحت کی۔ میڈیا پر سوال اٹھا کہ ایک دو روز قبل تک تو وزیر اعظم اپنے وزیر خزانہ کی تعریف کرتے نہ تھکتے تھے جنہوں نے بقول ان کے اکونومی کو ٹریک پر ڈال دیا ہے۔
اب یکایک انہیں علم ہوا کہ اوہو، مہنگائی کا سورس تو ان کی اپنی کیبنٹ میں بیٹھا ہوا ہے! سوالات کی تپش کام دکھا گئی، اسی رات شبلی فراز نے ایک ٹویٹ میں حفیظ شیخ کی کارکردگی کی تحسین کر کے اپنے ہی دعوے کی نفی کر دی۔ عبدا لحفیظ شیخ سینیٹ کے الیکشن میں کامیاب نہ ہوسکے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق انہیں جون تک کابینہ میں شمولیت کی مشروط اجازت تھی کہ وہ اس دوران پارلیمان کے رکن بن جائیں۔ سینیٹ الیکشن میں ناکامی کے بعد البتہ وزیر اعظم نے ان کے کام کی تعریف بھی کی اور انہیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ جاننے والے جانتے تھے کہ اب پٹاری کھل گئی ہے اس میں سے کچھ نیا برآمد ہونے کو ہے۔
نیا سامنے آنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ حکومت نے کابینہ میں ردوبدل کا فیصلہ کیا تو ان تبدیلیوں میں سب سے بڑی تبدیلی وزارتِ خزانہ ہی کی تھی۔ عبدا لحفیظ شیخ سے وزارت کا قلمدان لے کر چارج وزیر صنعت حماد اظہر کو دے دیا گیا۔ جس ڈرامائی انداز میں یہ تبدیلی کی گئی، ابھی اکونومی کے مختلف حلقوں میں اس فیصلے کی ٹائمنگ اور مضمرات پر بحث ہو ہی رہی تھی کہ میڈیا پر ایک اور خبر نے سب کو مزید حیران کر دیا، حکومت پیپلز پارٹی دورکے ایک اور وزیر خزانہ یعنی شوکت ترین کو نیا وزیر خزانہ مقرر کرنا چاہ رہی ہے۔ عبدا لحفیظ شیخ پرویز مشرف دور میں بھی کابینہ کا حصہ تھے اور بعد ازاں پیپلز پارٹی دور میں بھی وزیر خزانہ بنے۔ پیپلز پارٹی دور میں ان کے پیش رو وزیر خزانہ معروف بینکر شوکت ترین ہی تھے۔ پی ٹی آئی حکومت نے اپنی محبوب ترین چوائس اسد عمر کی علیحدگی کے بعد عبد ا لحفیظ شیخ میں وہ صلاحیت راتوں رات دریافت کر لی جو اسد عمر میں نہ تھی۔اب انہیں اچانک مگر بوجوہ رخصت کرنے کی ضرورت پڑی ہے تو بھی نگاہ ِ انتخاب پی پی پی دور کے ہی ایک اور وزیر خزانہ پر پڑی ہے۔
جلدی کے اس انتخاب میں البتہ ایک مشکل بروقت دریافت نہ ہوسکی کہ شوکت ترین پر رینٹل پاور پروجیکٹ کے سلسلے میں نیب کیس چل رہا ہے۔ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت کی مدد کرنے میں کوئی عار نہیں لیکن کیا کریں، نیب کا بھاری پتھر جان چھوڑے تو وہ قانونی طور پر یہ عہدہ قبول کر سکتے ہیں۔ حکومت نے راتوں رات اس کا حل یہ نکالا کہ انہیں بظاہر ہائی پاور اکنامک ایڈوازری کونسل کا سربراہ مقرر کردیا ہے۔ اللہ جانے شوکت ترین حکومت کی کتنی مدد کر سکیں گے لیکن حکومت کس حد تک اپنی مدد کرنا چاہتی ہے؟ یہ زیادہ اہم سوال ہے۔
قانونی طور پر عبدا لحفیظ شیخ جون تک وزیر خزانہ رہ سکتے تھے۔ ا س دوران بجٹ تیاری اور پارلیمان میں بجٹ منطوری ایک اہم انتظامی معاملہ ہے۔ تسلیم کہ اگر ان کا جون تک جانا ٹھہر گیا ہے تو بجٹ کی تیاری اور پیش کاری کے لئے نئے ٹیم لیڈر کی موجودگی زیادہ مناسب ہے۔ اس دوران حکومت یورو بانڈ کا اجراء بھی کر رہی تھی جس کے روڈ شوز اور تیاری کافی عرصے سے جاری تھی۔ اڑھائی ارب ڈالرز کی مالیت کے یہ بانڈز جاری کئے جانے سے عین ایک روز قبل وزیر خزانہ کی تبدیلی کی اچانک کونسی ضرورت آن پڑی تھی۔ حکومت اس فیصلے کو دو چار روز موخر کر لیتی تو یورو بانڈ اجراء کا عمل احسن طریقے سے انجام پاتا، سرمایہ کاروں کو آخری روز تذبذب کا شکار کرکے پاکستان کی معاشی فیصلہ سازی کی ساکھ پر یقینا اچھا تاثر نہیں گیا۔
اچھا تاثر تو خیر اس الٹی چھلانگ کا بھی نہیں گیا کہ اِدھر ابھی حماد اظہر مبارک مبادیں وصول کر رہے تھے، اگلے روز اکنامک کو آرڈی نیشن کونسل کی صدارت کے لئے ایجنڈا پڑھ رہے تھے کہ اُدھر انہیں میڈیا سے اطلاع ملی کہ وزیر خزانہ کی اصل چوائس کوئی اور ہے۔ فیصلہ سازی کے اس سارے انداز میں تدبر اور ٹھہراؤ کا فقدان نظر آتا ہے۔ ایک کے بعد ایک فیصلہ ہوش مندی اور تدبیر کی بجائے ماراماری کا مظہر ہے۔ ایسے میں ان فیصلوں کے اطلاق میں بھی ماراماری نہ ہو گی تو اور کیا ہوگا؟
ای سی سی کے اجلاس میں حماد اظہر کی سر براہی میں وزیر اعظم کے چارج میں تجارت اور ٹیکسٹائل کی وزارت کی تجویز پر بھارت سے چینی، کپاس اور کاٹن یارن امپورٹ کرنے کی منظوری دی گئی۔ مقبوضہ کشمیر کی خود مختار حیثیت ختم کرنے پر پاکستان نے احتجاجاٌ بھارت سے تجارتی روابط معطل کر رکھے ہیں۔ یہ ایک اہم فیصلہ تھا اور حکومت پونے دو سال تک اس پر سختی سے کاربند رہی مگر اب اچانک یہ فیصلہ سامنے آ گیا، اور وہ بھی اس اعتماد کے ساتھ کہ بقول حماد اظہر ہر وقت مقبول فیصلہ درست نہیں ہوتا، مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ ابھی اس مشکل فیصلے کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ میڈیا میں اس فیصلے کے خلاف ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔ اگلے روز طے شدہ کابینہ اجلاس میں یہ فیصلہ توثیق کے لئے پیش ہوا تو وزیر اعظم نے سخت ناراضی کا اظہار کیا اور یوں کابینہ نے ای سی سی کا فیصلہ ریجیکٹ کر دیا۔
حیرت کی بات ہے کہ جس وزارت نے ایک روز قبل ای سی سی میں یہ سمری بھیجی اس میں واضح درج تھا کہ انچارج وزیر یعنی وزیر اعظم نے اس تجویز سے اتفاق کیا ہے مگر دوسرے روز وزیر اعظم اس تجویز پر ناراض ہوئے اور کابینہ نے اسے نامنطور کر دیا۔ فیصلہ سازی کے اس انداز میں تدبر اور ٹھہراؤ کی بجائے ماراماری کا تاثر نمایاں ہے۔ حکومتی کارپرداز لاکھ اس ماراماری کی توجیح کریں مگر اڑھائی سال کے تجربے کے بعد ماراماری کا یہ انداز ملکی اکونومی اور اندرونی و بیرونی سرمایہ کاروں کے لئے اچھا شگون ہے نہ اچھا سگنل!