پی ڈی ایم میں اختلاف وسیع، پیپلز پارٹی کا مسلم لیگ (ن) پر خفیہ اجلاس کرنے کا الزام
- اتوار 04 / اپریل / 2021
- 5220
پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ایک دوسرے پر اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے اپوزیشن اتحاد کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایسے میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ میں اختلافات مزید گہرے ہورہے ہیں۔
اسلام آباد میں پی ڈی ایم کی 5 اتحادی جماعتوں کے اجلاس پر رد عمل میں پیپلز پارٹی نے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے معاملے پر تبادلہ خیال کے لیے پیر کو سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ملتوی کردیا ہے۔ ایک بیان میں پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیر بخاری نے کہا کہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ کے اجلاس کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پیر کو سینیٹ کا اجلاس طلب کیا ہے اور قومی اسمبلی کا اجلاس پہلے ہی طے شدہ تھا۔ اس لیے پیپلز پارٹی کے سی ای سی کے زیادہ تر اراکین اجلاس میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔ تاہم سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاسوں کو سی ای سی اجلاس ملتوی کرنے کا بہانہ بنا کر پیپلز پارٹی نے در حقیقت پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرنے کے بارے میں ایک واضح پیغام ان جماعتوں کو بھیجا ہے جو استعفوں کے حق میں ہیں۔
پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کے معاملے پر پی ڈی ایم کے فیصلے کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں (پی پی پی اور عوامی نیشنل پارٹی پر) نوٹس بھیجنے کے بجائے 5 جماعتوں کو 'خفیہ اجلاس' کے انعقاد پر وضاحت دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دراصل سینیٹ میں حزب اختلاف کا نیا اتحاد بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے انفارمیشن سیکریٹری فیصل کریم کنڈی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ پی ڈی ایم کا خفیہ اجلاس طلب کرنے کا مقصد کیا تھا؟ اپوزیشن جماعتوں کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس حکومت کو سہولت فراہم کرنے کے مترادف ہے۔ فیصل کریم کنڈی نے بلاواسطہ مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) پر اسٹیبلشمنٹ کی خفیہ حمایت حاصل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ رات کے اندھیرے میں خفیہ ملاقاتیں کرتے تھے، انہوں نے اب خفیہ اجلاس منعقد کرنا شروع کردیے ہیں۔
وہ لوگ پیپلز پارٹی پر معاہدہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں جو معاہدے کے بعد بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ کون اب بھی کسی معاہدے کی امید کر رہا ہے اور بیرون ملک جانا چاہتا ہے۔ ایک علیحدہ بیان میں پیپلز پارٹی کی ایم این اے شازیہ مری نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی کے خلاف چارج شیٹ لانا چاہتی ہے تو ہمارے پاس بھی ان کے خلاف چارج شیٹ موجود ہے۔
پی پی پی کی رہنما نے کہا کہ ہم پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے پوچھیں گے کہ اپوزیشن جماعتوں کے خلاف اپوزیشن اتحاد کیوں استعمال کیا جارہا ہے اور کس کے کہنے پر اسمبلیوں سے استعفے کا مطالبہ کرکے لانگ مارچ کے خلاف سازش کی گئی ۔