کرپشن اور سماجی برائیوں کے خلاف سب کو مل کر کام کرنا ہوگا: عمران خان

  • اتوار 04 / اپریل / 2021
  • 4560

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گیس کے ذخائر کم ہورہے ہیں۔ ٹیلی فون پر براہ راست عوام کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گیس نیٹ ورک کو بڑھانے سے موجودہ قیمت پر قائم رکھنا مشکل ہوگا۔ ہم گیس مہنگی خرید کر کم قیمت پر عوام کو فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گیس نیٹ ورک کو بڑھانے سے گیس کے قرضوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ تعلیم کے معیار کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انسان کو جتنی بہتر تعلیم دی جائے وہ اتنا اوپر جاتا ہے۔ اپنے نظریے کے مطابق ہائیر ایجوکیشن کمیشن کا نیا سربراہ لا رہے ہیں اور اس ادارے میں بڑی تبدیلیاں کر رہے ہیں۔

مہنگائی کے حوالے سے ایک شہری کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب وزیراعظم نے کہا کہ کئی چیزیں ایسی ہیں جو ہم انتظامی امور کے ذریعے حل کرسکتے ہیں۔ مہنگائی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کسان کی پیداواری قیمت اور مارکیٹ میں قیمت کے درمیان بڑا فرق ہے۔ ہم اس میں بہتری کررہے ہیں۔

ایک تیسری وجہ یہ بھی ہے کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی آئی ہے۔ گزشتہ 2 سالوں میں روپے کی قدر میں واضح کمی آئی تھی جس کے اثرات بجلی کی صنعت، ٹرانسپورٹ اور درآمدی اشیا پر پڑے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ یہاں مافیا سٹہ کھیلتے ہیں، ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں، پہلی مرتبہ پاکستان میں ان پر ہاتھ ڈالا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی وجوہات پر گزشتہ ایک سال سے کام کیا جارہا ہے اور ہم اس پر قابو پاکر دکھائیں گے۔ ادویات مہنگی ہونے اور ڈاکٹروں کے دوا ساز کمپنیوں سے کمیشن لینے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ صحت کا شعبہ صوبوں کے پاس ہے تاہم 3 صوبوں اور گلگت بلتستان میں ہر شہری کو صحت کارڈ فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے بہت بڑا انقلاب آئے گا۔

ایک شہری نے وزیراعظم سے جب ملک میں کرپشن کے حوالے سے سوال کیا تو انہوں نے جواب میں کہا کہ کرپشن ایک ایسا کینسر ہے جو دنیا کے ہر غریب ملک میں پھیلا ہے۔ حکمران جب کرپشن کرتے ہیں تو وہ اپنا پیسہ ملک میں نہیں رکھ سکتے۔ وہ پیسہ ملک سے باہر بھیج کر ملک کا دوگنا نقصان کرتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم پورا زور لگارہے ہیں کہ امیر ممالک سے ہمارا پیسہ واپس آئے۔ کرپشن کے خلاف صرف قانون کے ذریعے نہیں لڑا جاسکتا، پوری قوم مل کر کرپشن کا مقابلہ کرتی ہے۔ عمران خان اکیلا اس کرپشن سے نہیں لڑسکتا، عدلیہ کو بھی اس میں ساتھ دینا ہوگا، نیب کو صحیح کیسز بنانے پڑیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون کی بالادستی، عدل و انصاف اصل مسئلہ ہے اور پاکستان میں اسی کی جنگ چل رہی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں ہاؤسنگ سوسائٹیز کا سروے کیا جارہا ہے۔ ملک میں قانونی سوسائٹیز بہت کم جبکہ غیر قانونی بہت زیادہ ہیں۔ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ قانونی و غیر قانونی سوسائٹیز کی نشاندہی کرلی جائے۔ پھر ہم ان کے خلاف بھی اقدامات اٹھائیں گے۔

پاکستان میں ریپ اور بچوں کے جنسی استحصال کے واقعات پر عمران خان کی ٹیم کے اقدامات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ معاشرے میں فحاشی جتنی پھیلتی جاتی ہے، اس کا معاشرے پر اثر پڑتا ہے۔ ان کیسز کا صرف قانونی مقابلہ نہیں کرسکتے، یہ جنگ معاشرے نے مل کر لڑنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو صبر کرنا پڑے گا، ہم اپنی دولت میں اضافے کے لیے منصوبے بنارہے ہیں اور اس سے آنے والے پیسوں سے ہم قرضوں کی ادائیگی کریں گے۔ سابقہ حکومت نے قرضے لے کر اورنج لائن ٹرین تعمیر کی جس کا خسارہ ہر سال کا 10 ارب روپے ہے۔ حکومت پر یہ کافی بھاری ثابت ہورہا ہے کیونکہ اس کے قرضے کی بھی ادائیگی کرنی پڑ رہی ہے اور خسارہ بھی بھرنا پڑ رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اگر پاکستان ڈیفالٹ کرجاتا تو روپے کی قدر بہت زیادہ گر جاتی اور آج جو مہنگائی ہے یہ اس سے کہیں زیادہ ہوتی۔ اب تمام معاشی اشاریے مثبت آرہے ہیں، جس طرح یہ تبدیلی آرہی ہے یہ ملک بہت اوپر جائے گا۔

آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے حوالے سے ایک شہری کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سب سے کم شرح سود پر قرضے دیتا ہے۔