پاکستان میں نجی شعبے نے کورونا ویکسی نیشن شروع کر دی

  • سوموار 05 / اپریل / 2021
  • 6060

پاکستان میں نجی شعبے کی جانب سے بھی کمرشل بنیادوں پر لوگوں کو ویکسین لگانے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ملک کے بڑے شہروں میں ان ویکسی نیشن مراکز میں عوام  کا رش دیکھا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق پاکستان میں بعض نجی کمپنیوں نے روس کی تیار کردہ 'اسپوتنک فائیو' کی ہزاروں خوراکیں درآمد کی ہیں جس کے بعد کراچی اور لاہور میں انہیں کمرشل بنیادوں پر شہریوں کو لگایا جا رہا ہے۔ کراچی میں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر کمرشل بنیادوں پر ویکسی نیشن کا آغاز کیا گیا ہے جس کے بعد سینکڑوں نوجوان ویکسین لگوانے پہنچ گئے۔

سرکاری سطح پر طبی عملے اور 50 سال سے زائد عمر کے افراد کو مفت ویکسین لگانے کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم حکومت نے گزشتہ ماہ نجی شعبے کو بھی ویکسین درآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔ نجی شعبے کی جانب سے 'اسپوتنک فائیو' ویکسین کی دو ڈوزز 12 ہزار روپے میں لگائی جا رہی ہے۔

نجی شعبے کی جانب سے ویکسین کی کمرشل بنیادوں پر فروخت کے باوجود تاحال حکومت اور نجی شعبے کے درمیان ویکسین کی قیمت کے معاملے پر تنازع برقرار ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی وائس چیئر پرسن جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال نے بھی گزشتہ ماہ وزیرِ اعظم پاکستان کو خط لکھ کر ویکسین کی قیمت پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

ناصرہ جاوید نے پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت کے مقابلے میں کابینہ کی جانب سے ویکسین کی قیمت زیادہ مقرر کرنے پر سوال اُٹھایا تھا۔ حکومت کی جانب سے ابتداً نجی شعبے کی درآمد کردہ ویکسین کی قیمت مقرر نہیں کی گئی تھی تاہم بعدازاں کچھ حلقوں کے اعتراضات کے بعد حکومت نے کہا تھا کہ وہ ایک حد سے زیادہ قیمت مقرر کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا تھا کہ ویکسین کی قیمت مقرر کرنے کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی میں ایک طے شدہ طریقہ کار موجود ہے جس کے تحت کرونا سمیت کسی بھی دوائی اور ویکسین کی قیمت مقرر کی جاتی ہے۔ ایک دوا ساز کمپنی نے اس حکومتی فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا تھا جب کہ عدالت نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے قیمت کے تعین تک کمپنی کو ویکسین فروخت کرنے کی اجازت دے دی تھی۔