پی ڈی ایم نے پیپلز پارٹی اور اے این پی کو شوکاز نوٹس جاری کردیے

  • سوموار 05 / اپریل / 2021
  • 5430

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے معاملے پر بلوچستان عوامی پارٹی سے ووٹ لینے کے معاملے پر پی ڈی ایم میں شامل دو جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نینشل پارٹی کو شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں۔ ان سے سات روز میں جواب طلب کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید یوسف رضا گیلانی حکمراں اتحاد میں شامل بلوچستان عوامی پارٹی کے دو سینٹرز کی مدد سے سینیٹ میں قاید حزب اختلاف مقرر ہوئے ہیں۔ سینیٹ کے انتخابات کے دوران پی ڈی ایم کی جماعتوں میں یہ اتقاق ہؤا تھا کہ سینٹ کے چیئرمین کے لیے امیدوار پاکستان پیپلز پارٹی سے ڈپٹی چیئرمین جمیعت علمائے اسلام سے جبکہ قائد حزب اختلاف پاکستان مسلم لیگ نواز سے ہو گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے سینیٹ میں چیئرمین کا انتخاب ہارنے کے بعد پی ڈی ایم کے فیصلے کے خلاف یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ میں قائد حزب اختلاف نامزد کیا اور حکمراں اتحاد میں شامل بلوچستان عوامی پارٹی کے دو ارکان کی مدد سے عددی برتری ثابت ہونے پر سینٹ چیئرمین نے یوسف رضا گیلانی کو قائد حزب احتلاف مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

پی ڈی ایم میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی اور عوامی نینشل پارٹی کو اظہار وجوہ کے نوٹسز اس اتحاد کے جنرل سیکرٹری اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے جاری کیے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اظہار وجوہ جاری کرنے کا مقصد ان دونوں جماعتوں کی قیادت سے سینیٹ میں قائد حزب احتلاف کے معاملے پر وضاحت طلب کرنا ہے کہ انہوں نے پی ڈی ایم کے فیصلوں کو کیوں نظر انداز کیا۔ نوٹسز کا جواب موصول ہونے کے بعد یہ معاملہ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں اٹھایا جائے گا۔  شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اجلاس میں ان دونوں جماعتوں کی طرف سے جواب ملنے کی صورت میں پی ڈی ایم کے سربراہ فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی صحت یابی کے بعد ہی اجلاس طلب کیا جائے گا۔

سینیٹ میں قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی نے پارلیمنٹ ہاوس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ انہیں پی ڈی ایم کی طرف سے بھیجا گیا اظہار وجوہ کا نوٹس موصول ہو گیا ہے تاہم اس کا جواب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہی دیں گے۔  سینٹ میں اپنی پہلی تقریر کے دوران یوسف رضا گیلانی نے دعویٰ کیا کہ وہ حزب مخالف کی تمام جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے کی جانے والی قانون سازی میں حکوت کا  ساتھ دیں گے۔

یوسف رضا گیلانی کے سینیٹ میں قائد حزب احتلاف بننے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور قومی اسمبلی میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے ارکان پارلیمنٹ ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے یوسف رضا گیلانی کے انتخاب کے بعد ان کا نام لیے بغیر انہیں سرکاری اپوزیشن لیڈر قرر دیا۔