معرضِ التوا میں پڑا پاکستان
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 05 / اپریل / 2021
- 12100
میں برسوں سے یہ سوچ رہا ہوں کہ ایک مستند پاکستانی کی تعریف کیا کی جا سکتی ہے؟ وہ کون سی خصوصیات ہیں جو پاکستانی مسلمان کو عالمِ اسلام میں منفرد اور ممتاز بناتی ہیں۔ جو اس کی شناختی علامات قرار پا سکتی ہیں۔
ماتھے پر محراب کو تو پاکستانی کی علامت قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ یہ عالمِ اسلام کی مشترکہ نشانی ہے۔ بنگلہ دیش اور بھارت کے مسلمان بھی اس نشانی کو مومن مسلمان کی نشانی قرار دیتے ہیں۔ جس نسل نے پاکستان بنایا تھا وہ اب موجود نہیں ہے۔ یہ اب بنگلہ دیش کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد کی دوسری نسل ہے جو پاکستان میں سیاسی امور کی نگران ہے۔اور جس نے مشرقی پاکستان کو کبھی دیکھا ہی نہیں تھا، اُن کے لیے بنگلہ دیش پاکستان کا دشمن یا غدار ہے۔ اور جہاں تک پاکستان کی شہ رگ کشمیر کا تعلق ہے، وہ تا دمِ تحریر پنجہ ء ہنود ہیں ہے اور اس شہ رگ سے مسلسل خون بہ رہا ہے۔ پاکستانی مسلمان اور حکمرن بہتر برسوں میں اس شہ رگ کہ رہائی کے لیے جو کچھ کر سکے ہیں، اُن میں سے سب سے بڑا اقدام ایک نعرے کی ایجاد ہے اور وہ نعرہ ہے:
کشمیر بنے گا پاکستان
لیکن کوئی نہیں جانتا کہ ایسا کب ہو گا اور کیسے ہوگا کیونکہ ہم تو اُس پاکستان کو بھی نہ سنبھال پائے جو 1947 میں ہمارے نام الاٹ ہوا تھا۔ پاکستان ہمارا گھر ہے۔ یہ خُدا کا گھر ہے جہاں ہم نے اسلامی اصولوں کے مطابق مل جُل کر زندگی بسر کرنے کی خواہش کی تھی۔ خُدا جانے قراردادِ پاکستان کا مسودہ لکھنے والوں کے سامنے کون سا ہدف تھا لیکن ایک بات طے ہے کہ اسلام کا رشتہ مشرقی پاکستانی اور مغربی پاکستانی مسلمان کو اخوت کے رشتے میں پرو کر نہ رکھ سکا۔ آج کی صورتِ حال یہ ہے بھارت کا مودی بنگلہ دیشی حکومت سے زیادہ قریب ہے اور جب وہ ڈھاکہ کا دورہ کرتا ہے تو بنگلہ دیشی اور بھارتی وزیر اعظم کی نشستوں کے عقب میں وہ تصویر آویزاں نظر آتی ہے جس میں جنرل نیازی ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر دستخط کر رہے ہیں۔ یہ باتیں شاید پاکستان کی نئی نسل کے معمول کی باتیں ہیں مگر میری نسل کے لوگ جو پاکستان کے دونوں بازوؤں کی وحدت کے پچیس برس کے گواہ ہیں، اس قسم کی تصویروں کو دیکھ کر آزردہ اور آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔
ڈھاکہ ہمارا دوسرا دارالحکومت تھا۔ جب پاکستان بنا تو ڈھاکہ اور کراچی ایک تھے۔ اور پھر ہمیں یہ بھی یاد آتا ہے کہ پہلے ہماری ایک قومی زبان تھی۔ پھر دو ہوئیں، اردو اور بنگلہ ۔ پھر پچیس برس بعد ایک زبان رہ گئی۔ نہ ڈھاکہ رہا اور نہ ہی بنگلہ۔ اس طرح 16 دسمبر 1971 کو ایک نیا پاکستان وجود میں آیا جو اب اتنا پرانا ہوچکا ہے کہ پہچان میں ہی نہیں آتا۔ جبکہ دوسری طرف 1947 کے زمانے کے حالات ابھی تک نہیں بدلے۔ عام آدمی اب بھی مہاجر کیمپ میں اُجڑا پُجڑا بیٹھا ہے ا اور بحالی کا منتظر ہے۔ تقسیم اور آبادی کے تبادلے کے بعد کلیموں کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ اب بھی جاری ہے اور اب باقاعدہ قبضہ گروپ کی شکل اختیار کرچکا ہے ۔ پاکستان کے ہر شہر اور قصبے میں ایسے لوگ کثرت سے موجود ہیں جو دوسروں کے گھروں کے لیے مختص سفید زمین کو ہڑپ کرنے کو اپنا کاروبار بنا ئے بیٹھے ہیں. اور ملک کی ایک بہت بڑی آبادی کے پاس رہنے کو اپنا گھرتک نہیں ہے جبکہ مخصوص طبقات کے پاس رہنے کے لیے ایک نہیں کئی کئی گھر ہیں جن کا رقبہ سینکڑوں کنالوں میں ہے. یہ ناجائز تجاوزات کی وہ شکل ہے جسے ملک کے حکمران طبقوں اور سیاسی سلطانوں کی پشت پناہی حاصل ہے جو اس ملک کے مائی باپ ہیں، جو اس ملک میں چھوٹے چھوٹے رجواڑارے بنائے بیٹھے ہیں اور یہ ویسی ہی طوائف الملوکی ہے جو کبھی غیر منقسم ہندوستان کی روایت تھی. جس میں ملک کئی چھوٹے چھوٹے رجواڑوں میں بٹا ہواتھا اور جہاں کے حکمران ایک دوسرے سے بر سرِ پیکار رہتے تھے۔
کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ پی ڈی ایم کی جماعتیں اُسی قدیم بھارتی طرز کے رجواڑوں کی نمائندہ ہیں، جنہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ امن اور رواداری سے مل کر رہنا سیکھا ہی نہیں۔ اُن سب کے درمیان ایک ہی مشترکہ رشتہ ہے اور وہ ہے مفادات کا رشتہ ۔ پچھلے بہتر برس میں ہم نے ایک ہی طرزِ زیست کو اپنا یا ہے جو کرپشن پر مبنی ہے اور اس کا اظہار جو کھاتا ہے وہ لگاتا بھی ہے کے بیانیے سے تصدیق پاتا ہے. بہت سے سیاست دان یہ کہ کر کرپشن کو پاکستانی اسلامی معاشرے میں جائز قرار دیتے ہیں کہ کرپشن تو ہر جگہ ہوتی ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی ہوتی ہے مگر ترقی بھی تو وہاں ہوتی ہے۔ گویا ملکی ترقی کو کرپشن سے مشروط کر کے قومی سیاست کی بساط بچھائی جاتی ہے، جس میں چت بھی اُنہی کی اور پٹ بھی انہی کی جو یہ کھیل کھیل رہے ہیں۔ ہم جو خود کو مسلمان کہتے ہیں بلکہ مسلمان ہونے کے وہم میں مبتلا ہیں، اس ضمن میں خُدا کا مشورہ ہر گز قبول نہیں کرتے کیونکہ ہم ناظرہ خوان مسلمان نہیں جانتے کہ اللہ کی کتاب میں کون کون سے قوانین درج ہیں اور ہم ملا ئیت کی دکانوں سے اسلام کا حلال گوشت خرید کر فرقہ وارانہ اسلام کے غازی بنے پھرتے ہیں۔ کرپشن کے ضمن میں خدا کا قانون کیا ہے؟ ملاحظہ فرمائیں:
ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ اُس کو حاکموں کے پاس (بطور رشوت) پہنچاؤ تاکہ مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھاجاؤ، اور تم یہ بات جانتے بھی ہو۔
بحوالہ سورہ ء بقر۔ آیت ۸۸۱
تو جب ہم ترقیاتی فنڈز کے نام پر سرکاری بجٹ میں سے کروڑوں وصول کرتے ہیں تو اس کا کتنا حصہ ہم خود کھاتے ہیں، کتنا رشوت میں دیتے ہیں اور کتنا حقداروں کو پہنچتا ہے۔ ااس کا حساب کوئی دینا ہی نہیں چاہتا۔ ہم ملک میں بطور حکمران ترقیاتی منصوبے بناتے ہیں، جن میں سے اپنا حصہ پہلے نکال لیتے ہیں اور باقی کتوں کے آگے ڈال دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں جابجا ایسے سکول اور ہسپتال نظر آتے ہیں جن کے سنگ ہائے بنیاد کئی سال پہلے رکھے گئے مگر جو دو دہائیوں میں بھی پایہ تکمیل کو نہیں پہنچائے جا سکے۔ اُن میں گدھے، مویشی اور آوارہ کتے رہتے ہیں اور ان کے لیے مختص فنڈز مسلمان سیاست دانوں کے لیے دوزخ کے پرمٹ بن چکے ہیں مگر کسی کو اس صورتِ حال کا ادراک نہیں۔ سب بڑے ذوق و شوق سے کرپشن کی سیڑھیاں چڑھتے چلے جا رہے ہیں اور اپنی کرپشن کو عوام کی خدمت کا نام دیتے ہیں۔
یہ صورتِ حال اس امر کی غماز ہے کہ ہم اپنے بچے کھچے پاکستان کو ، جو اکہتر کی جنگ کی دست برد سے بچ گیا تھا ، زہریلے کیڑوں مکوڑوں اور خونخوار درندوں سے نہیں بچا سکے۔ پاکستان سیاسی جماعتوں کے گروہی سلاطین کا مقبوضہ علاقہ ہے جس پر قبضے کے لیے وہ ایک دوسرے سے برسرِ پیکار ہیں۔ اور یہ پچھلے ڈھائی برس کی کہانی نہیں بلکہ پورے بہتر برس کا قصہ ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں نے بشمول فوج، طبقہ علماء ، سرمایہ داروں اور بیوروکریسی نے پاکستان تعمیر کرنے کے بجائے اپنی ذاتی املاک کو توسیع دینے کے کام کو فوقیت دی ہے جبکہ اسلام عام آدمی کے حقوق غصب کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ لوگ جو اس ملک میں رسول اللہ ﷺ کی مساجد پر قابض ہیں، اللہ کے دوست ہرگز نہیں ہیں۔ مذہب ان کے لیے کاروبار ہے اور ہر منبر ایک دکان ہے کیونکہ اللہ کے دوستوں کی نشانی یہ بتای گئی ہے:
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک میرا سب سے قابلِ رشک دوست وہ مومن ہے جو کم ملکیت والا ہو،نماز سے خوش رہے، اللہ کی بہترین عبادت کرے اور وہ یہ کہ ظاہر اور پوشیدہ اس کی اطاعت کرے، لوگوں میں غیر مطلوب ہو، اس کا رزق بقدرِ ضرورت ہو۔ اس کی موت پر رونے والے کم اور ترکہ تھوڑا ہو۔(حدیثِ قدسی۔۳۔ مرتبہ ابن عربی۔) مگر وہ مسلمان اور اس کاپاکستان میں موجود ہی نہیں۔