پنجابی لوک گیتوں کا روشن استعارہ شوکت علی

دل کو مناؤں کیسے کہ پنجابی گیتوں کو سروں کو گایئکی کے نئے انداز سے ہم آہنگ کرنے والا عظیم لوک فنکار شوکت علی ہم  سے بچھڑ گیا۔ضلع گجرات ثقافتی ، سیاسی ، ادبی خدمات اور وطن پر جان نثار کرنے والوں کی دھرتی ہے جو اہنے کردار وعمل کی وجہ سے امر ہوچکے ہیں۔

لوک گیتوں کی گائیکی سے پنجابی شاعری کو زندہ جاوید رکھنے میں عنایت حسین بھٹی، محمد عالم لوہار اور شوکت علی کا نمایاں کردار ہے ۔ عنایت حسین بھٹی اور محمد عالم لوہار تھیٹر سے وابستہ تھے ۔ پاکستان میں مذہبی انتہا پسنی اور فرقہ واریت کے ابھار سے قبل تمام ثقافتی تہوار میلے ٹھیلے اور موسیقی کے پروگرام بھر پور انداز سے منعقد ہوتے تھے ۔تھیڑوں ، محفل سماع اور عرسوں میں گائیک صوفیانہ کلام اور لوک گیت پیش کرتے تھے ۔ بسنت پر بو کاٹا کےساتھ لوک گیتوں، گھوڑیوں، بولیوں اور ماہیوں کی آوازیں گونجتی تھیں۔کہیں پر ہیر وارث شاہ ، میاں محمد بخش کی سیف الملوک ، بلھے شاہ ، شاہ حسین اور دیگر صوفی شعرا کے کلام کو مختلف طرزوں ، سنگت اور سروں کے ساتھ گایا جاسکتاتھا۔

نہ جانے ان تمام ثقافتی سرگرمیوں کو کس کی نظر کھا گئی۔ نہ الیکڑانک میڈیا کے پروگرام پنجابی زبان اور لوک گائیکی کے حوالہ سے ہوتے ہیں۔ اب محض نان ایشوزپر ہونے والے بے مقصد ٹاک شوز بےہنگم شاعری اور بازاری سستا مزاح رہ گیا ہے۔ یوں بھی ہماری نوجوان پنجابی نسل وارث شاہ ، شاہ حسین ، بابا فرید ، میاں محمد اور خواجہ فرید کے کلام کے بارے بہت کم علم رکھتی ہے۔ اس کے برعکس سندھی اپنی زبان ، ثقافت اود صوفی شاعری سے پیار کرتے ہیں ۔ لاتعداد سندھی زبان میں روزنامے اور رسائل شائع ہوتے ہیں ۔ پنجابی میں شائع ہونے والے جریدےبحران سے دوچار ہیں ۔ اگر پنجابی شعروادب کو زندہ رکھا ہے تو لوک فنکارو ں اور قوالوں نےجن میں استاد نصرت علی خان بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ ان کی طرح شوکت علی با قاعدہ گائیک تھے ۔انہیں جہاں قدرت نے اونچے سروں والا سریلا گلا عطا کیا تھا، وہ موسیقی کے رموز باریکیوں سے بھرپور روشناس  تھے۔ انہوں نے لوک اور صوفی کلام نئے راگوں اور صوتی آہنگ کے ساتھ پیش کیا۔ اس کے سریلے لہجے کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ سیف الملوک کی گائیکی میں اس کا مخصوص سر کا تال میل تھا جو اس کو دیگر لوک فنکاروں سے ممتاز کرتا ہے ۔

      میرے ترقی پسند صحافی اور دانشور دوست امتیاز عالم لکھتے ہیں: ’قومی حوالہ سے شوکت علی کے فن کو عسکری اور ملی گیتوں کے حوالہ سے اجاگر کیا جاتا ہے جس میں ساتھیو مجاہدو جاگ اٹھا ہے سا را وطن وغیرہ شامل ہیں ۔اس نے اردو غزلیں بھی سریلی اور بلند آواز میں گائیں۔مگر اس  کو جو عزت اور شہرت ہیر وارث شاہ اور میاں محمد بخش کی گائیکی ذریعہ حاصل ہوئی وہ کسی دوسرے گلوکار کے حصہ میں نہیں آسکی ہے۔۔۔جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ زندہ جاوید رہےگا‘۔ شوکت علی اور عالم لوہار نے روائتی لوک داستانیں اور قصے بھی گائے۔ مگر اس کو شہرت سرحد پار  ہزاروں کے کنسرٹ میں جگا گانے سے حاصل ہوئی جس نے اس کو مشرقی پنجاب کا لوک ہیرو بنادیا ۔ آج بھی اس کے پوری دنیا میں بسنے والے پنجابی سکھ اور دیگر پنجابی شوق سے سنتے ہیں ۔ جگا گانے پر ایک پنجابی کے پرچارک ایم این نے نا خوشگواری اظہار کیا۔ ہم ڈاکوؤں کی تعر یف کر سکتے ہیں ۔میں نے اس ایم این اے سوال کیا آپ نے ایسا کیوں کہا حالانکہ پنجابیت اور وطن پرستی شوکت علی میں کو ٹ کو ٹ کر بھری ہے۔ تو کہنے لگے ایسے گیت نوجوان نسل کو بغاوت پر اکساتے ہیں۔ یہی وجہ ہے آج تک ان کا خاندان سہولت کاروں کے سہارے سیاسی وجود کو اقلیتی حمایت کے سا تھ زندہ رکھے ہوئے ہے ۔

جگا گانے کا خمیازہ ہمارے پنجابی دانشور ڈرامہ نگار اور شاعر مشتاق صوفی اورشوکت علی کو بھگتنا پڑا۔ نہ جانے ہم پنجابی ہونے کے باوجود پنجابی ادب و ثقافت سے خائف کیوں ہیں۔ یہی وجہ ہے آج پاکستانی پنجاب میں ماں بولی کی اہمیت ہے اور نہ تاریخ دھرتی ہیروز اور ثقافت کا کوئی نین نقشہ ہے ۔ ہمارے ہاں خوشبو ، رقص ، موسیقی علامتی طور پر زندہ ہے جبکہ مختلف حوالوں سے نفرتیں پنپ رہی ہیں ۔ان کی شدت میں کمی لانے میں صوفی گائیکی اور کلام کا اہم کردار ہے جس کا روشن استعارہ شوکت علی ہے۔

اس نے حبیب جالب کے ساتھ مل کر صدر ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک کو گرمایا۔ وہ پنجاب کی دھرتی کا عوامی فنکار تھا۔ کچھ عرصہ پہلے اس کو جگر کا عارضہ لاحق ہوا تو وزیراعلی سندھ نے کراچی بلواکر علاج کروایا۔ مر ض جان لیوا ثابت ہوا اور لاہور میں جان کی بازی ہار گیا۔  اس کی آواز اور گائیکی ہمیشہ زندہ رہےگی۔