امریکہ ایرانی جوہری معاہدے کو فعال بنائے گا

  • منگل 06 / اپریل / 2021
  • 3320

ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے جوہری معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے ویانا میں ہونے والے مذاکرات میں امریکہ میں شرکت نے اعلان کیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ کو  2018 میں اس معاہدے سے علیحدہ کرلیا تھا۔ تاہم صدر بائیڈن اس معاہدے میں واپس جانا چاہتے ہیں۔ دیگر چھ ممالک کو اس کا راستہ ڈھونڈنا ہو گا کہ صدر بائیڈن ٹرمپ کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کو ہٹا سکیں اور ایران اپنے جوہری پروگرام کی طے شدہ حدود میں واپس آ جائے۔

ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ معاملات کو اس وقت تک آگے نہیں بڑھائے گا جب تک امریکہ ایران پر عائد پابندیاں نہیں ہٹاتا۔ ویانا میں جو امریکی حکام اِس اجلاس میں شرکت کریں گے وہ ایران سے ایک مختلف جگہ بیٹھیں گے اور دیگر ممالک، جن میں چین، فرانس، جرمنی، روس، اور برطانیہ شامل ہیں ان کے درمیان بات چیت کو ممکن بنائیں گے۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے پیر کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم اس سلسلے میں چیلنجز کو کم نہیں سمجھ رہے۔ ابھی یہ ابتدائی دن ہیں۔ ہمیں اس میں جلد یا فوری حل کی توقع نہیں ہے اور ہمیں اندازہ ہے کہ یہ مذاکرات مشکل ہوں گے۔ نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ کا ہدف یہ ہے کہ باہمی طور پر معاہدے کی پاسداری کا سٹیج بنایا جائے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ منگل کے روز ملاقات کا مقصد پابندیوں کو اٹھانے کے راستے پر بات کرنا ہے۔  ایران کے ترجمان سعید خطیبزادہ نے کہا ہے کہ یورپی اور دیگر ممالک کو امریکہ کو اپنے وعدے یاد دلانے ہوں گے۔

یورپی سفارتکاروں کو امید ہے کہ وہ مئی تک اس سلسلے میں کچھ پیش رفت کر پائیں گے۔ ایران میں جون میں صدارتی انتخابات ہونا ہیں اور سفارتکاروں کو خدشہ ہے کہ کہیں انتخابات کی وجہ سے معاملات میں مزید تاخیر نہ ہو جائے۔