سفارتی محاذ پر امتیازی سلوک کیوں؟
- تحریر مظہر چوہدری
- منگل 06 / اپریل / 2021
- 5690
ابھی امریکی صدر کی جانب سے ماحولیاتی تبدیلی کی عالمی کانفرنس میں پاکستانی وزیراعظم کو شرکت کی دعوت نہ دینے اور امریکی موسمیاتی تبدیلی کے ایلچی جان کیری کے عنقریب شروع ہونے والے دورہ ایشیا میں پاکستان کا نام شامل نہ ہونے سے عالمی سطح پر نظرانداز ہونے کا تکلیف دہ احساس کچوکے لگا ہی رہا تھا کہ برطانوی حکومت کا کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے متاثرین کی بنیاد پر پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کے فیصلے نے ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کا پورا پوراسامان فراہم کر دیا۔
امریکہ کی جانب سے پاکستان کو نظر انداز کرنے سے سیاسی وصحافتی حلقوں میں ہونے والی تنقید کوحکومتی ارباب اختیار نے کئی طرح کی تاویلات پیش کرکے رد کرنے کی کوششیں کیں تاہم برطانوی حکومت کے پاکستان کو ریڈ لسٹ کرنے کے فیصلے پر ہونے والی ہزیمت پر حکمران جماعت کا صبر جواب دے گیا۔برطانوی حکومت کے فیصلے پر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر کے آنے والے ردعمل کا لب لباب یہ واضح کر رہا تھا کہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کا فیصلہ سائنسی بنیادوں کی بجائے خارجہ پالیسی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ چند روز قبل برطانوی حکومت نے اپنے شہریوں کو کرونا وائرس کی نئی قسم سے محفوظ رکھنے کے لئے پاکستان، بنگلہ دیش، فلپائن اور کینیا کو ریڈ لسٹ میں شامل کیا تھا۔برطانوی ریڈ لسٹ میں شامل ہونے والے ان ممالک پر 9اپریل سے سفری پابندیاں عائد ہوں گی۔خیال رہے کہ برطانیہ کی اس ریڈ لسٹ میں پہلے سے ہی 35ممالک شامل ہیں اور 9اپریل کے بعد ریڈ لسٹ ہونے والے ممالک کی تعداد39ہو جائے گی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ سے پاکستان میں کرونا وائرس کی تیسری لہر بتدریج زور پکڑتی دکھائی دے رہی ہے تاہم برطانوی حکومت کی جانب سے پاکستان سمیت چند ایک ممالک کو ریڈ لسٹ کرنے کے فیصلے میں بظاہر امتیازی رویے کی جھلک بھی نمایاں نظر آتی ہے۔پاکستان کو ریڈ لسٹ کرنے کے فیصلے کولیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی برطانوی رکن پارلیمان ناز شاہ نے امتیازی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا، فرانس اور جرمنی جیسے ممالک میں فی لاکھ افراد میں متاثرین کی تعداد پاکستان سے کہیں زیادہ ہے لیکن پابندی صرف پاکستان پر لگائی گئی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بات کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں فی الحال کرونا وائرس کی جنوبی افریقی قسم کا پھیلاؤ وہ نہیں جو فرانس میں ہے۔ بظاہر یہی لگتا ہے کہ برطانوی حکومت کا یہ فیصلہ سائنسی بنیادوں کی بجائے خارجہ پالیسی کی بنیاد پر کیا گیا ہے تاہم اگر ہم ٹھنڈے دماغ سے اس فیصلے کے اسباب و عوامل پر غور کریں تو ہمیں اپنی کچھ خامیوں اور کمزوریوں کا ادراک ضرور ہو سکتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ انڈیا، فرانس اور جرمنی میں وائرس کا پھیلاؤ پاکستان اور بنگلہ دیش سے کم نہیں لیکن کرونا ٹیسٹنگ اور ویکسی نیشن کے حوالے سے ہمارے ہاں پائے جانے والے ابہامات ومسائل انڈیا، فرانس اور جرمنی میں بہت کم ہیں۔ہمارے ہاں ابھی تک یومیہ ٹیسٹنگ کی صلاحیت پچاس ہزار سے زائد نہیں ہو سکی جب کہ ان ممالک میں روزانہ کی بنیادوں پر دس دس لاکھ سے بھی زیادہ ٹیسٹنگ ہوتی رہی ہے۔فی ملین پاپولیشن کے حساب سے ہمارے ہاں ہونے والے ٹیسٹوں کی شرح انڈیا سے تقریبا چار گنا، فرانس سے دس گنا اور جرمنی سے سات گنا کم ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے ہاں ابھی تک ہونے والی ویکسی نیشن کی شرح بھی ان ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔برطانیہ سے یہ بات ہرگز ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ انڈیا، فرانس اور جرمنی کے مقابلے میں پاکستان، بنگلہ دیش اور کینیا جیسے ممالک نہ تو ویکیسن خود بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس جلد سے جلد بڑے پیمانے پر ویکسین خریدنے کی معاشی صلاحیت ہی ہے۔ اس کے علاوہ فرانس اور جرمنی کے مقابلے میں پاکستان اور بنگلہ دیش کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ویکسی نیشن کرانے کو ہی تیار نہیں۔
دوسری طرف حکومت اگرچہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں شرکت کی دعوت نہ دینے پر امریکہ سے گلہ شکوہ نہیں کر رہی تاہم اندر ہی اندر انہیں امریکہ کی طرف سے پاکستان کو اس طرح سے نظر انداز کئے جانے کا بڑا رنج ہے۔اگرچہ وزیراعظم سمیت حکومتی ارباب اختیار نے یہ جواز دے کر سیاسی و عوامی حلقوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس کانفرنس میں ایسے ممالک کو مدعو کیا گیا ہے جو آلودگی پھیلانے میں کردار ادا کر رہے ہیں لیکن جاننے والے بخوبی جانتے ہیں کہ کانفرنس میں آلودگی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کے سربراہان کو بھی بلایا گیا ہے۔وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق ایسے 17ممالک کے رہنماؤں کو مدعو کیا گیا ہے جو تقریبا 80فیصد کاربن کے عالمی اخراج اور عالمی پیداوار کے ذمہ دار ہیں۔ اس کے علاوہ امریکی صدر نے ایسے سربراہان کو بھی شرکت کی دعوت دی ہے جنہوں نے مضبوط کلائمیٹ لیڈرشپ کا مظاہرہ کیاہے، جو ماحولیاتی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں یا اپنی معیشت کو کاربن کے صفر اخراج کی طرف لے جانے کے لئے نئے طریقے استعمال کر رہے ہیں۔تبصرہ نگاروں کے مطابق پاکستان تیسری شرط یعنی ماحولیاتی اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں کی کیٹیگری کے تحت کانفرنس میں شرکت کا اہل تھا۔
مستند اعدادوشمار کے مطابق پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پانچویں نمبر پر ہے۔اسی طرح دنیا کے آلودہ ترین ممالک کی فہرست میں پاکستان دوسرے نمبر پر ہے جب کہ اس فہرست میں بنگلہ دیش کا پہلا اور بھارت کا تیسرا نمبر ہے۔ اب امریکی صدر کی سلیکشن کے معیارات ملاحظہ فرمائیں کہ انہوں نے پاکستان کے مقابلے میں آلودگی سے کم متاثر ہونے والے ملکوں کو توکانفرنس میں مدعو کر لیا لیکن شدید ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے دو چار پاکستان کو نظرا نداز کر دیا جونہ صرف ماحولیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کو کم سے کم کرنے کے لئے پچھلے کئی سالوں سے کوشاں ہے بل کہ اس کے بلین ٹری منصوبے کوورلڈ اکنامک فورم اوراقوام متحدہ سمیت دنیا کے متعدد ادارے سراہنے کے ساتھ ساتھ قابل تقلید بھی قرار دے چکے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے دانستہ ہمیں نظر انداز کیا ہے۔
افغان تنازعے کے حل کے حوالے سے 25مارچ کو امریکی کانگرس کو بھیجی گئی رپورٹ کے مندرجات پر نظردوڑانے سے اس معاملے کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔اصل میں امریکہ افغان تنازعے کو امریکی خواہشات کے مطابق حل نہ کرانے پر پاکستان سے خوش نہیں۔امریکہ کا خیال ہے کہ پاکستان چاہے تو افغان تنازعے کو امریکی خواہشات کے عین مطابق حل کرایاجا سکتا ہے لیکن افغانستان میں بھارت کے سفارتی وتجارتی اثرو رسوخ کے باعث پاکستان ایسے کسی حل کی طرف جانے پر آمادہ نہیں جس کے نتیجے میں افغانستان میں قائم ہونے والی حکومت میں افغان طالبان گروہوں خاص طور پر حقانی نیٹ ورک کو کمزور کردار ملے۔