کورونا سے صحت یاب ہونے والا ہر تیسرا شخص ذہنی مسائل کا شکار ہوا: رپورٹ

  • بدھ 07 / اپریل / 2021
  • 5570

کورونا وبا پر ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس بیماری سے صحت یاب ہونے والے ہر تیسرے شخص کو بعدازاں ذہنی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

بدھ کو برطانوی جریدے 'دی لینسیٹ سائیکیٹری جرنل' میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے ہر تین میں سے ایک شخص ذہنی مسائل سے دوچار ہوا۔ اس تحقیق میں کورونا سے صحت یاب ہونے والے دو لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد کے میڈیکل ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا ہے۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ وبا سے متاثر ہونے کے چھ ماہ کے اندر 34 فی صد افراد میں نیورولوجیکل (دماغی) اور نفسیاتی مسائل کی تشخیص ہوئی۔ تحقیق کے مطابق 17 فی صد مریضوں کو بے چینی اور اضطراب جیسی عام کیفیت کا سامنا تھا جب کہ 14 فی صد مریضوں کو موڈ  ڈس آرڈر (مزاج میں تبدیلیاں، خالی پن، اُداسی) کا سامنا تھا۔ ان مریضوں میں سے 13 فی صد ایسے تھے جن میں پہلی بار ذہنی صحت سے متعلق مسئلے کی تشخیص ہوئی۔

تحقیق میں شامل کورونا وبا سے صحت یاب ہونے والے 0.6 فی صد مریضوں کو برین ہیمریج، 2.1 کو اسٹروک (اچانک دماغ کی رگ پھٹ جانا) اور 0.7 فی صد افراد کو ڈیمنشیا (بھولنے، سوچنے اور حافظہ متاثر ہونے والی بیماری) جیسی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ البتہ نیورولوجیکل ڈس آرڈر ایسے مریضوں میں زیادہ پایا گیا جن کی کورونا وائرس کی وجہ سے حالت تشویش ناک ہو گئی تھی۔

اعدادو شمار میں یہ دیکھا گیا کہ فلو کے بعد ذہنی مسائل میں مبتلا ہونے سے زیادہ کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد مجموعی طور پر 44 فی صد افراد کو ذہنی صحت کا خطرہ لاحق ہے۔  برطانیہ کی آکسفرڈ یونیورسٹی سے وابستہ اور مذکورہ تحقیق کے مصنف پال ہیریسن کا کہنا ہے کہ اگرچہ انفرادی طور پر کورونا وائرس کی وجہ سے نیورولوجیکل اور نفسیاتی خطرات کم تھے لیکن عالمی آبادی میں اس کے مجموعی اثرات زیادہ ہو سکتے ہیں۔