انسانی حقوق کمیش نے ریپ پر وزیر اعظم کا بیان مسترد کردیا، معافی کا مطالبہ

  • بدھ 07 / اپریل / 2021
  • 6900

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ریپ کے حوالے سے کی گئی بات کو نامناسب قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ اور وزیر اعظم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایچ آر سی پی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایک عوامی لیڈر کی جانب سے یہ رویہ ناقابل قبول ہے۔ وزیراعظم کے بیان کو ہتک آمیز قرار دیتے ہوئے بیانمیں کہا گیا ہے کہ یہ نہ صرف حیرت کا باعث ہے کہ ریپ کہاں، کیوں اور کیسے ہوتا ہے بلکہ اس سے ریپ کا شکار ہونے والے پر الزام عائد کیا جارہاہے۔ حالانکہ اس جرم میں بچوں سے لے کر عزت کے نام پر ہونے والے جرائم تک شامل ہوتے ہیں۔

ایچ آر سی پی نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ فوری طور پر معافی اور ریپ سے متعلق معاملات کو جرم کے طور پر دیکھنے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا جائے۔ وزیر اعظم عمران خان نے ٹیلی فون پر براہ راست عوام کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاشرے میں فحاشی جتنی پھیلتی جاتی ہے اس کا معاشرے پر اثر پڑتا ہے۔ ان کیسز کا صرف قانونی مقابلہ نہیں کرسکتے، یہ جنگیں معاشرے نے مل کر لڑنی ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ بولی ووڈ نے جب سے ہولی ووڈ بننا شروع کیا ہے تو وہاں بھی ایسے حالات ہوگئے کہ دہلی کو اب ریپ کیپیٹل کہا جارہا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسلام میں پردے کے احکامات کے پیچھے بھی یہی فلسفہ ہے کہ فیملی نظام کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔

وزیراعظم کے اس بیان پر شدید تنقید کی گئی تھی اور سوشل میڈیا پر مختلف شخصیات نے اس کو ناگوار قرار دیا تھا۔ سماجی کارکن جبران ناصر نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ  ریپ طاقت کے عدم توازن کا نتیجہ ہے اور یہ اکسانے پر نہیں ہوتا۔ ریپسٹ اپنے فعل سے اس وقت باز آتے ہیں جب انہیں سزا اور احتساب کا خوف ہو اور جب انہیں ہمارے جیسے نظام کی وجہ سے اس طرح کے خوف سے آزاد کردیا جائے تو وہ بچوں کا بھی ریپ کریں گے۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس روزانہ 11 ریپ کیس رپورٹ ہوئے جبکہ حکام نے اعتراف کیا کہ اصل اعداد وشمار اس سےکہیں زیادہ ہیں۔ ’وار اگینسٹ ریپ‘ نامی تنظیم کے مطابق تین فیصد سے کم کیسز پر سزائیں دی جاتی ہیں۔

گزشتہ برس اگست میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ساحل کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد وشمار میں کہا گیا تھا کہ ایک ہزار 489 کیسز بچوں کے کیسز رپورٹ ہوئے اور 2020 کے پہلی ششماہی میں ہراسانی کے روزانہ تقریباً 8 کیسز رپورٹ ہوئے۔ متاثرین میں 785 لڑکیاں اور 704 لڑکے شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق ملزمان میں اکثر متاثرہ خاندانوں کے جاننے والے شامل تھے۔