میں دوست تھا، مجھے دشمن نہ بنائیں: تحریک انصاف کو جہانگیر ترین کا پیغام

  • بدھ 07 / اپریل / 2021
  • 5830

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ وہ ابھی بھی پاکستان تحریک انصاف کا حصہ ہیں اور ان کی راہیں جدا نہیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ تو صرف اپنے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

جہانگیر ترین شوگر ملز کیس کے مقدمے میں بدھ کو لاہور کے بینکنگ کورٹ میں ضمانت میں توسیع کے لیے پیش ہوئے تھے جہاں عدالت نے 10 اپریل تک ان کی اور ان کے بیٹے علی ترین کی ضمانت میں توسیع کر دی ہے۔ بینکنگ کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف جو انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ اسے بے نقاب کیا جائے۔

 ان کا کہنا تھا کہ ہم تو تحریک انصاف سے انصاف مانگ رہے ہیں۔ میں تو دوست تھا۔ مجھے دشمنی کی طرف کیوں دھکیل رہے ہو؟ میں تو دوست تھا، دوست ہی رکھو۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان پر تین ایف آئی آرز درج کی گئیں اور کیس شروع ہوئے بغیر اُن کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے۔  وہ ایک سال سے خاموش ہیں اور اس کے باوجود اُن کی وفاداری کا مزید کیا ثبوت درکار ہے۔

جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ ’وفاداری کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ میں خاموش ہوں، میں چپ ہوں، لیکن تحریک انصاف سے انصاف کی امید رکھتا ہوں‘۔ ایک سوال کے جواب میں جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ ایسے لوگوں کو بےنقاب کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے جو انہیں عمران خان سے دور کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں۔  ’میں یہ عرض کر رہا ہوں کہ تحریک انصاف کو زیادہ فائدہ نہیں پہنچے گا، مجھے اس طرح سے الگ کرنے سے‘۔

جماعت سے وابستگی کے سوال پر جہانگیر ترین نے کہا کہ انہوں نے دس سال پارٹی کے لیے خون پسینہ ایک کیا ہے اور وہ پارٹی کا ہی حصہ ہیں اور رہیں گے۔  جہانگیر ترین سے جب پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری سے ملاقات کے بارے میں افواہوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ہنستے ہوئے اس کی تردید کی اور کہا کہ وہ ان سے ملاقات کے لیے نہیں جا رہے ہیں۔