پاک فوج پر تنقید کے خلاف قانون، حزب اختلاف کی مخالفت
- جمعرات 08 / اپریل / 2021
- 6490
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے افواجِ پاکستان کو بدنام کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا بل منظور کرتے ہوئے ایسے افراد کے خلاف قید اور جرمانے کی سزائیں تجویز کی ہیں۔
حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی امجد علی خان نیازی کی جانب سے پیش کردہ اس بل کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کے خلاف ہرزہ سرائی یا ان کے کسی رکن کو ارادتاً بدنام کرنے والے فرد کو دو سال قید یا پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے اس بل کی منظوری ایسے وقت دی ہے جب ملک میں فوج کے سیاست میں مبینہ کردار پر سیاسی، ادبی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔ تاہم فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے مختلف مواقع پر سیاسی کردار کی تردید کی جاتی رہی ہے۔ فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے اس بل کو ’کرمنل لا (ترمیمی) ایکٹ بل 2020‘ کا نام دیا گیا ہے جس کے ذریعے پاکستان پینل کوڈ 1860 اور کوڈ آف کرمنل پروسیجر 1898 میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔
بل کے ذریعے تعزیراتِ پاکستان کے سیکشن 500 میں ایک اور شق کا اضافہ کرتے ہوئے مجموعہ تعزیرات پاکستان اور مجموعہ ضابطہ فوجداری میں تبدیلیاں لاتے ہوئے تجویز دی گئی ہے کہ جو بھی پاکستان کی مسلح افواج کا تمسخر اڑاتا ہے، وقار کو گزند پہنچاتا ہے یا بدنام کرتا ہے وہ ایسے جرم کا قصوروار ہو گا جس کے لیے دو سال تک قید کی سزا یا پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ سیکشن 500 میں ہتک عزت کے خلاف سزا تو درج ہے مگر اس شِق میں مسلح افواج کا ذکر نہیں۔ تعزیراتِ پاکستان کے سیکشن 500 میں لکھا گیا ہے کہ ’جب بھی کوئی، کسی دوسرے کی رسوائی، بدنامی کا باعث بنے گا تو اسے دو سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں‘۔
قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں حزبِ اختلاف کے اراکین اسمبلی کی مخالفت کے باوجود اس بل کو منظور کیا گیا ہے۔ اپوزیشن اراکین کی جانب سے بل کی مخالفت کرنے پر چیئرمین کمیٹی نے رائے شماری کرائی تو ووٹ برابر ہو گئے، جس پر راجہ خرم نواز نے اپنا ووٹ حق میں دیتے ہوئے بل کو منظور قرار دیا۔
حزبِ اختلاف کے اراکین کا مؤقف تھا کہ یہ قانون غیر ضروری اور مروجہ قوانین سے متصادم ہے اور اسے سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جاسکتا یے۔ پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ نے کہا کہ یہ قانون سیاسی انتقام کے لیے استعمال ہو گا اور اداروں پر نیک نیتی سے کی گئی تنقید بھی اس قانون کے دائرے میں آئے گی۔
مسلم لیگ (ن) کی مریم اورنگزیب نے قانونی بل کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہتک عزت اور آزادی اظہار کے قانون کی موجودگی میں نیا قانونی بل لانا اداروں کو متنازع بنانا ہے۔ بل کو پیش کرنے والے رکن اسمبلی امجد علی خان کا کہنا تھا کہ قانون میں 500 اے کی شمولیت کسی دوسرے قانون سے متصادم نہیں اور اس قانون کے تحت افواج پاکستان کا دانستہ تمسخر اڑانے والے پر سول عدالت میں کیس چلے گا۔
قائمہ کمیٹی میں وزارتِ قانون کے نمائندے نے مجوزہ بل کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 19 میں ہر شخص کو آزادی اظہار کا حق حاصل ہے مگر ایسے قانون کے ذریعے اظہارِ رائے کو ریگولیٹ کیا جاسکے گا۔ وزارتِ قانون کے نمائندے کا کہنا تھا کہ مجوزہ قانون کے متوازی غداری کا کیس ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومت دائر کرتی ہے۔
بل کی منظوری پر وفاقی وزیر فواد چوہدری نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ یہ مضحکہ خیز تجویز ہے کہ تنقید کو قابلِ جرم قرار دیا جائے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ احترام اور عزت کو لوگوں پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسے نئے قوانین لاگو کرنے کی بجائے توہینِ عدالت کے قانون کو ختم کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہر پاکستانی اپنی فوج سے دل سے وابستگی اور پیار کرتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے قانون فوج کی خواہش نہیں ہوں گے۔