پرانے قرضوں کی وجہ سے مزید مقروض ہورہے ہیں: عمران خان

  • جمعرات 08 / اپریل / 2021
  • 5730

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک پر قرضوں کا بوجھ ہے اور بدقسمتی سے ایسے قرضے لے لیے ہیں جن سے مزید قرضے چڑھ رہے ہیں۔

اسلام آباد کے فراش ٹاؤن میں نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ فراش ٹاؤن میں لوگوں کو دو سال میں تیار فلیٹ مل جائیں گے۔ 2 ہزار ایسے لوگوں کو فلیٹ ملیں گے جو فلیٹ کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایف ڈبلیو او نے کرتارپور ریکارڈ ٹائم میں مکمل کیا تھا، امید ہے فراش ٹاؤن کے فلیٹ بھی وقت پر مکمل ہوں گے۔ بینکوں کو کم آمدن والے لوگوں کو قرضے دینے کی عادت نہیں تھی تاہم اب قرضوں کے لیے بینک بھی تیار ہیں۔ اسکیمیں بھی لانچ ہو رہی ہیں لیکن بینکوں سے چھوٹے قرضے حاصل کرنے میں لوگوں کو اب بھی مشکلات ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ملک میں مورگیج فناسنگ کا اسٹرکچر نہیں تھا لیکن آسان قرضوں کے لیے ہماری کوششیں کامیاب ہو رہی ہیں۔ لوگوں کے پاس پیسہ نہیں ہوتا اس لیے کچی آبادی بن جاتی ہے۔ میرا خواب ہے کہ کچی آبادی والوں کے پاس مالکانہ حقوق آجائیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک پر قرضہ چڑھا ہوا ہے، ہمارے وزیروں کو بھی نہیں پتہ کہ کیوں ڈھائی سال ہم نے تنگی میں گزارے ہیں۔ ہر سال قرضوں کی اقساط بڑھتی جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے ایسے قرضے لے لیے ہیں جن سے مزید قرضے چڑھ رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ملک کی دولت میں اضافہ ہو تاکہ قرضوں کی اقساط واپس کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ ایف بی آر نے سب سے زیادہ ٹیکس جمع کیا ہے۔ جیسے جیسے ہماری ہاؤسنگ اور تعمیرات کی سرگرمیاں بڑھتی جائیں گی ہماری دولت اور ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوگا۔  ملک میں تعمیرات کی صنعت ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ پچھلے ماہ تاریخ میں سب سے زیادہ سیمنٹ کی فروخت دیکھنے میں آئی۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبے سے دیگر 30 صنعتیں بھی چلنا شروع ہو جائیں گی۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ڈھائی سال میں 20 ہزار ارب روپے کا قرضہ واپس کیا تھا، ہم نے اپنے ڈھائی سال میں 35 ہزار ارب روپے کا قرضہ واپس کیا، یہ 15 ہزار ارب روپے اگر ہم اپنے انفرااسٹرکچر پر لگا دیتے تو ملک تبدیل ہو جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ٹیکسٹائل صنعت اپنی پوری صلاحیت سے چل رہی ہے۔ کوشش ہے کہ چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو بھی اوپر اٹھائیں تاکہ یہاں سے بھی دولت میں اضافہ ہو اور لوگوں کو روزگار ملے۔