ریاست کے خلاف باتیں کرنے والے ملک چھوڑ دیں: لاہور ہائی کورٹ
- جمعہ 09 / اپریل / 2021
- 5170
لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاسم خان کی برہمی کے بعد مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف نے اپنے خلاف ریاست مخالف بیان کا مقدمہ خارج کرنے کی درخواست واپس لے لی ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس قاسم خان نے استفسار کیا کہ ہماری حب الوطنی، حب الوطنی ہے یا حب الشخصیت ہے۔ شخصیات تو آتی جاتی رہتی ہیں ادارے قائم رہتے ہیں، گریبان میں جھانکنا ضروری ہے۔ انہوں نے لیگی رہنما جاوید لطیف سے کہا کہ پارلیمنٹیرینز کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا لیکن کس کی جرات ہے جو پاکستان کے خلاف بات کرے۔ اگر یہاں ایسی باتیں کرنی ہیں تو ملک چھوڑ کر باہر چلے جائیں۔ خدا کا خوف کریں ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر یہاں رہنا ہے تو پولیس کے پاس جاکر صفائی پیش کریں۔ ملک کے خلاف بات کرنے والوں کو عوام مسل کر رکھ دیں گے۔ جاوید لطیف کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کے خلاف مقدمے میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس کے لیے آپ کے پاس فورم موجود ہیں وہاں جائیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جو آدمی ملک کے خلاف بات کرے گا اس کے لیے کوئی ریلیف نہیں ہے۔ ملک اور آئین کے خلاف باتیں کرتے ہیں پھر عدالتوں میں ریلیف کے لیے آجاتے ہیں۔ اس کے بعد جاوید لطیف نے لاہور ہائی کورٹ سے اپنی درخواست واپس لے لی۔
بعد ازاں عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جاوید لطیف نے کہا کہ 73 سالوں سے غداری کے ٹائٹل لوگوں پر لگائے جاتے ہیں۔ ایٹمی صلاحیت کے باوجود کہا جارہا ہے کہ اندرونی حالات درست نہیں۔ جو غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتے ہیں ان کو سوچنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندے ہونا کا حق اس وقت تک ادا نہیں ہوتا جب تک حقائق بیان نہ کیے جائیں۔ بینظیر بھٹو نے کہا تھا ان کی زندگی کو خطرہ ہے لیکن ریاست نے کچھ نہیں کیا۔ صرف پاکستان زندہ باد کہنے سے کچھ نہیں ہوگا غلطیوں کی نشاندہی کرنی چاہیے، آپ غداری کے ٹائٹل دیتے ہیں اور عوام زندہ باد کہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسے حالات میں پھانسی بھی چڑھ جاؤں تو افسوس نہیں، ایسے پالیسیاں نہ بناؤ کہ غدار پیدا ہوں۔ لیگی رہنما نے کہا کہ میں اپنے موقف پر قائم ہوں، اگر غلط ہوتا تو بیان واپس لیتا۔ البتہ آئینی اور قانونی اداروں پر اعتماد ہے اس لیے درخواست واپس لی۔
واضح رہے کہ جاوید لطیف نے گزشتہ روز اپنے خلاف مقدمے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ لیگی رہنما جاوید لطیف کے خلاف غداری کا جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ درج کیا گیا۔ درخواست میں لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی کہ عدالت جاوید لطیف کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کا حکم جاری کرے۔
خیال رہے کہ رہنما مسلم لیگ (ن) جاوید لطیف نے گزشتہ ماہ مارچ میں ایک ٹی وی پروگرام میں مریم نواز کو مبینہ دھمکی دینے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ 'اگر خدانخواستہ مریم نواز شریف کو کچھ ہوا تو ہم پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائیں گے'۔ اس بیان پر 20 مارچ کو جاوید لطیف کے خلاف ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانے اور غداری سمیت سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔