آئین اور حلف پر عمل نہ ہونے سے مسائل بڑھیں گے: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

  • جمعہ 09 / اپریل / 2021
  • 6180

سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آئین پر عمل درآمد نہیں ہوا اور ہر آنے والا شخص آئین کو اپنی مرضی کے مطابق ادھر لے جاتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی کا کہنا تھا کہ حلف کی خلاف ورزی غداری کے ذمرے میں آتی اور قانون میں اس کی سزا موت ہے۔ وہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 'اسلام میں بنیادی حقوق اور ہمارا آئین' کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔

جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ 'پاکستان میں بہت سارے آئین آئے اور گئے، ہم نے بہت کچھ سیکھا مگر صرف آئین نہیں سیکھ سکے۔' انہوں نے کہا کہ پاکستانی آئین کی قومی زبان میں تشریح ضروری ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ہم نے آئین پر عمل نہیں کیا۔ لوگوں کی ہوس نے آئین کو ٹھکرایا اور آئین کا تحفظ کرنے والوں نے قسم توڑی۔ پاکستان ٹوٹنے کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس فائز عیسی کا کہنا تھا کہ 'یہ آئین پر عمل کرنے کی قسم کھانے والوں کی ذمہ داری تھی۔ ہمیں حقیقت سے نظریں نہیں چرانی چاہئیں۔'

جسٹس فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر ذمہ دار عہدے پر کام کرنے والا فرد آئین پر حلف اٹھاتا ہے جس کی پاسداری ان پر فرض ہے کیونکہ ہم نے قسم کھائی ہے۔ سپریم کورٹ کے جج نے آئین شکنی کے مضمرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ'اگر ہم آئین شکنی کریں گے تو یہ غداری کے زمرے میں آئے گا۔ اگر آئین کو ہٹا دیں تو وفاق بھی ٹوٹ جاتا ہے اور پاکستانیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔' انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آئین کا تحفظ کرنا ہر پاکستانی پر لازم ہے اس لیے اس کا تحفظ کریں۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے آئین پر لیے جانے والے حلف کی پاسداری کا ذکر کرتے ہوئے کہا اگر حلف پر پوری طرح عمل نہیں کریں گے تو مسئلے بڑھتے جائیں گے۔ ہر صاحب اختیار، مجھ سمیت جس نے بھی حلف اٹھایا، اس پرآئین کی پاسداری لازم ہے۔ دنیا آگے بڑھ گئی ہے اور ہم آج تک آئین کے تحفظ میں ہی لگے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 'ایک صاحب آتے ہیں وہ آئین کو ادھر کر دیتے ہیں اور ایک صاحب آتے ہیں وہ آئین کو ادھر کر دیتے ہیں ہم انہیں یہی سمجھاتے جا رہے ہیں کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے آپ غداری کر رہے ہیں۔' پچاس سال ہونے کو ہیں اس لیے وقت آ گیا ہے کہ کچھ بنیادی چیزیں سیکھیں اور سکھائیں۔

 

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ ہم نے نہ آئین پاکستان سیکھا اور نہ ہی آئین کا ترجمہ پڑھا۔ لوگوں کی ہوس نے آئین کو ٹھکرایا اور آئین کے محافظ نے ہی دستور کے تحفظ کی قسم توڑی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے زیر اہتمام 'بنیادی حقوق اور آئین' کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ پاکستان کے آئین کو 50 سال ہونے کو ہیں. قائد اعظم نے کہا تھا کہ پاکستان کا آئین جمہوری ہوگا اور اسلامی قوانین پر مبنی ہوگا۔

 قائد اعظم نے فرمایا کہ اسلام میں سب برابر ہیں اور عدل و انصاف کا بول بالا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین ہر شہری کو تحفظ دیتا ہے چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہو. مسلم لیگ کا جھنڈا سبز اور اس پر چاند اور تارا تھا لیکن پاکستان کے جھنڈے میں سفید پٹی بھی ہے. پاکستان کے جھنڈے میں سفید رنگ اقلیتوں کی نمائندگی کرتا ہے لہٰذا مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اقلیتوں کو بھی انصاف مہیا کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکھتا وہی ہے جو اپنے آپ کو ہمیشہ طالب علم تصور کرے ۔ ہم نے نہ آئین پاکستان سیکھا اور نہ ہی آئین کا ترجمہ پڑھا. مجھے نہیں لگتا کہ کسی بھی اسکول میں آئین پاکستان پڑھایا جاتا ہے۔ امریکا کے اسکولوں میں آئین سکھایا جاتا تھا تاکہ کم عمر سے ہی طلبہ کو آئین کا معلوم ہو۔ آئین پڑھنا بہت ضروری ہے کیونکہ پڑھ کر ہی ہمیں معلوم ہوگا کہ پاکستان کیسے وجود میں آیا۔ ہمارے پاس اس وقت نصف پاکستان ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگوں کی ہوس نے آئین کو ٹھکرایا اور محافظ آئین نے ہی دستور کے تحفظ کی قسم توڑی۔ اگر ہم آئین شکنی کریں گے تو یہ غداری کے زمرے میں آئے گا، آئین سے غداری کرکے نہ صرف اس جہاں بلکہ اگلے جہاں میں بھی اس کی سزا ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آئین کو ہٹا دیں تو وفاق بھی ٹوٹ جاتا ہے اور پاکستانیت بھی ختم ہو جاتی ہے. آئین کا تحفظ کرنا ہر پاکستانی پر لازم ہے اس لیے اس کا تحفظ کریں. ہمارے آئین کی بنیاد اس بات پر رکھی گئی کہ پورے عالم پر اختیار اللّہ کا ہے. آئین میں کہا گیا ہے کہ اقلیتوں کو زندگی جینے کے مکمل مواقع دیے جائیں گے۔

سپریم کورٹ کے جج نے کہا کہ قرآن مجید میں آزاد انسان کو غلام بنانے کی اجازت نہیں دی گئی. اسلام میں جبری مشقت کی کوئی اجازت نہیں ہے، اسلام نے مزدوروں کے تحفظ پر خصوصی زور دیا ہے. اسلام میں ہے کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے قبل اس کو اس کا معاوضہ دیا جائے۔

پاکستان کا آئین اور اسلام بالکل ساتھ ساتھ چل رہے ہیں. گھر کی رازداری کے حوالے سے بھی کئی آیات اور احادیث ہیں، بدگمانی سے بھی بچنا چاہیے اور ایک دوسرے سے حسد اور بغض نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین، امتیازی سلوک کے مختلف پہلوؤں کی ممانعت کرتا اور تحفظ فراہم کرتا ہے. اسلام نے بھی بھی مسلمانوں کو اجتماعیت کا درس دیا ہے۔