ٹیکس اور بجلی کے نرخ بڑھانے کے لئے پاکستان کا آئی ایم ایف سے معاہدہ

  • جمعہ 09 / اپریل / 2021
  • 3820

پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ  سے آئندہ بجٹ میں ایف بی آر ٹیکسز بڑھا کر 12کھرب 72 ارب روپے کرنے اور موجودہ مالی سال کے بقیہ 3 ماہ میں بجلی کے نرخ 4 روپے 97 پیسے فی یونٹ تک بڑھانے کا وعدہ کیا ہے۔

آئی ایم ایف کے جاری کردہ دستاویز کے مطابق حکومت نے ریگولیٹر نیپرا کی ترمیم شدہ  اختیار کے ذریعے آئندہ برس بھی سالانہ، سہ ماہی اور ماہانہ بنیادوں پر بجلی کے نرخوں کی ایڈجسٹمنٹ جاری رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔ دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس برس بجٹ کے ہدف 4 کھرب 50 ارب روپے کے بجائے 5 کھرب 10 ارب روپے اکھٹے کرنے کے لیے تیل کی مصنوعات پر آئندہ برس بھی اس میں اضافہ جاری رکھے گی۔

آئندہ برس کے لیے پیٹرولیم لیوی کا ہدف 6 کھرب 7 ارب روپے ہے۔ صوبوں نے بھی وفاقی حکومت کو 5 کھرب 70 ارب روپے کا کیش سرپلس فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جسے آئندہ برس بڑھا کر 7 کھرب 29 ارب روپے کردیاجائے گا۔ آئندہ سال کے بجٹ میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولی کا ہدف رواں سال کے 46 کھرب 91 ارب روپے سے بڑھا کر 59 کھرب 63 ارب روپے کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ مالی سال 2022 کے بجٹ میں 5 کھرب روپے اضافی ٹیکس جنرل سیلز ٹیکس اور ذاتی آمدن ٹیکس کی اصلاحات کے ذریعے اکٹھا کیا جائے گا جو جی ڈی پی کے 1.1 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ معاہدے کے تحت حکومت موجودہ سال کے ترقیاتی پروگرام کے ہدف کو 13 کھرب 24 ارب روپے سے کم کر کے 11 کھرب 69 ارب روپے کرے گی۔

حکومت نے گیس کے نرخوں میں بھی ایڈجسٹمنٹ اور مستقبل میں کسی ٹیکس استثنیٰ یا ایمنسٹی پر غور نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں آئی ایم ایف نے کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے مختص کیے گئے فنڈز کے تفصیلی آڈٹ کو بھی اپنے پروگرام کی شرائط کا حصہ بنایا ہے۔ آئی ایم ایف نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے فنڈز پروگرام کو بحال کرنے کے لیے پانچ پیشگی کارروائیاں مکمل کی ہیں جن میں بجلی کے نرخوں میں 3 روپے 57 پیسے اضافہ اور پارلیمنٹ میں اسٹیٹ بینک ترمیممی بل جمع کروانا شامل ہے۔

لائیو بریفنگ میں پاکستان کے آئی ایم ایف مشن کے سربراہ ارنیسٹو ریمائرز ریگو نے کہا کہ کورونا وائرس کے سبب مشکل معاشی صورتحال میں توانائی کے نرخوں میں ایڈجسٹمنٹ ناگزیر تھی کیوں کہ بڑھتا ہوا گردشی قرض سرکاری خزانے اور معاشی نمو پر بوجھ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ترھا کہ تعلیم اور صحت سمیت سماجی شعبے میں خرچ کے لیے غیر ضروری اخراجات کم کرنے کے علاوہ ریونیو میں اضافہ ایک مشکل انتخاب ہے۔