کیا افغان امن ممکن ہے
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 09 / اپریل / 2021
- 5310
پاکستان اور افغانستان، امریکہ یا دیگر طاقت ور ممالک کے سامنے بنیادی نکتہ افغان امن معاہدہ اور فریقین میں تصفیہ طلب معاملات ہیں۔ اگر اس خطہ میں تنازعات کا خاتمہ اور معاشی ترقی کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا ہے تو افغان امن کنجی کی حیثیت رکھتا ہے۔
افغان معاملات پر باریک بینی سے نظر رکھنے والے افراد کو یقین تھا کہ موجودہ صورتحال میں افغان امن معاہدہ کامیابی سے ہمکنار ہوسکے گا۔ لیکن اب جو حالات سامنے آرہے ہیں اس میں نئی سیاسی پیچیدگیاں سامنے آرہی ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پچھلے کچھ عرصہ میں جو اعتماد سازی کا ماحول بن رہا تھا اس میں بداعتمادی بڑھ رہی ہے، جو اچھا شگون نہیں۔
نئے امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ کو یہ باور کروایا جارہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اس برس مئی میں امریکی فوجیوں کا افغانستان سے انخلا کسی بھی طور پر امریکی مفاد میں نہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ امریکہ طے شدہ معاہدے کے باوجود مئی میں اپنی فوجیوں کے انخلا پر شدید تحفظات رکھتا ہے۔ اس پر افغان طالبان کا ردعمل فطری ہے۔ ان کے بقول اگر امریکہ نے طے شدہ معاہدے کے تحت امریکی فوجیوں کے انخلا کو یقینی نہیں بنایا تو پھر امن معاہدہ کی ناکامی او راس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انتشار کی ذمہ داری بھی امریکہ پر ہی عائد ہوگی۔امریکہ کے مختلف تھنک ٹینک نے امریکی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ اگر افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا پر افغان متحارب فریقوں کے مابین اقتدار تقسیم کرنے کے معاہدے کے بغیر واپس بلالیا گیا تو دو تین برسوں میں طالبان افغانستان کے زیادہ تر حصوں پر دوبارہ قبضہ کرسکتے ہیں۔ ان کے بقول اسی بنیاد پر وہاں القاعدہ کو دوبارہ منظم ہونے کے مواقع میسر آسکتے ہیں۔
اسی نکتہ کو بنیاد بنا کر امریکہ فوری طور پر افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے بارے میں مخمصے کا شکار ہے۔اگرچہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا لیکن امکان یہ ہی ہے کہ مئی میں امریکی فوجیوں کا انخلا ممکن نہیں۔اگرچہ امریکی صدر کے بقول ہم افغانستان سے جلد نکلنا چاہتے ہیں لیکن ٹائم فریم دینا فوری طور پر ممکن نہیں۔یقینا امریکہ افغان کمبل سے جان چھڑانا چاہتا ہے لیکن کیا یہ کمبل امریکہ کو اگلے دو تین برس میں چھوڑ دے گا۔کیونکہ ابھی تو کابل میں عبوری حکومت کے معاملات بھی طے نہیں ہوئے اور افغانستان میں حالیہ عرصوں میں شدت پسندی یا تشدد کے واقعات بڑھے ہیں۔خدشہ یہ ہے کہ اگر افغان طالبان سے امن معاہدے کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس کے امکانات بڑھ جائیں گے کہ وہاں تشدد کی نئی لہر پیدا ہوسکتی ہے۔امریکہ کی خواہش ہے کہ وہ افغانستان سے جانے سے قبل بھارت کو ذمہ داری سونپے لیکن پاکستان اور افغان طالبان بھارت کے کسی بڑے کردار کو قبول نہیں کریں گے۔
بنیادی طور پر افغان حکومت امریکہ کے سامنے یہ نکتہ اٹھارہی ہے کہ افغانستان میں جو پر تشدد کاروائیاں چل رہی ہیں اس کی ذمہ داری افغان طالبان پر عائد ہوتی ہے۔ امریکہ بھی یہ ہی سمجھتا ہے کہ ایک طرف افعان طالبان مذاکرات کو بنیاد بنا تے ہیں تو دوسری طرف وہ تشدد کا راستہ بطور ہتھیار اختیار کرکے امن معاملات کو خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ افغان طالبان بھی تشدد کے عمل کو فروغ دینے کا حصہ ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہ سمجھنا کہ افغانستان میں صرف طالبان ہی تشدد کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہیں درست نہیں۔ دیگر فریقین کو بھی اس تشدد کی سیاست میں شامل کرنا ہوگا۔ کیونکہ طالبان تو واضح طور پر انکار ی ہیں کہ وہ تشدد کے ذمہ دار ہیں۔اصل میں افغان امن معاہدہ کے جہاں حامی ہیں وہیں اس کے مخالفین بھی ہیں جو امن کو اپنے لیے کمزوری سمجھتے ہیں۔اس لیے تشدد کو روکنا ہے تو سب فریقین جو افغان امن کے حامی ہیں ان کو داخلی اور خارجی محاذ پر ان کرداروں کو سمجھنا بھی ہوگا اور بے نقاب بھی کرنا ہوگا ۔ محض الزام تراشیوں کی بنیاد پر افغان حکومت، امریکہ او رافغان طالبان ماسوائے معاملات کو خراب کرکے صورتحال کو اور زیادہ پیچیدہ او رمشکل بنائیں گے۔
اچھی بات یہ ہے کہ امریکہ، افغان حکومت، طالبان اور پاکستان مذاکرات کی میز پر ہیں۔ ماسکو امن کانفرنس نے بھی تعاون اور امن کے نئے امکانات کو پیدا کیا ہے۔کیونکہ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر اس بار امن مذاکرات کا عمل ختم ہوگیا تو مستقبل میں اول تو دوبارہ مذاکرات کے امکانات محدود ہوں گے اور دوئم کا اس کا عملی نتیجہ پرتشدد سیاست کی صورت میں سامنے آئے گا۔ایک مسئلہ خود افغان حکومت بھی ہے جو سمجھتی ہے کہ جو بھی طے ہو اس میں ان کو ہر سطح پر سیاسی برتری حاصل ہونی چاہیے۔جبکہ طالبان خود کو بڑی سیاسی پوزیشن میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ مسئلہ کسی ایک فریق کی سیاسی برتری کا نہیں ہونا چاہیے اور سب کے سامنے پہلی ترجیح افغان امن معاملات کو ترجیح دینا کا ہونا چاہیے۔کیونکہ اگر سب فریقین اپنے ذاتی مفاد کی بنیاد پر بات کریں گے تو مسئلہ کا حل ممکن نہیں ہوگا۔طالبان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ افغان حکومت کو غیر قانونی حکومت سمجھتے ہیں۔ اسی بنیاد پر افغان حکومت امریکی فوجیوں کے انخلا کی حامی نہیں۔
اسی حوالے سے امریکی کانگریس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان تنازعات کے حل کے لیے پاکستان سب سے زیادہ اہم ملک ہے ۔ زلمے خلیل زاد بھی بڑے سنجیدگی کے ساتھ معاملات کو درست کرنے میں افغانستان او رپاکستان کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کررہے ہیں۔ وہ خود بھی پاکستان کی اب تک کی تمام کوششوں کی پزیرائی کرتے ہیں او ران کے بقول جو کچھ بھی اب تک کسی بڑی پیش قدمی کی صورت میں ہوا ہے وہ پاکستان کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔پاکستان کو بھی اس بات کا اچھی طرح احساس ہے کہ اگر ہم نے معاشی بنیاد پر آگے بڑھنا ہے تو اس کی کنجی افغان امن سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان مثبت انداز میں امریکہ، افغان حکومت او رطالبان کے درمیان مفاہمتی عمل کے لئے پیش پیش ہے۔
افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی استنبول میں ہونے والی کانفرنس میں افغان امن کے لیے ایک نیا روڈ میپ پیش کریں گے جو تین مراحل پر مشتمل ہوگا۔ اول انتخابات سے قبل سیز فائر، دوئم صدارتی انتخابات اور حکومت کا قیام اور سوئم ملک کا آئینی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا۔مگر اس سے بڑھ کر پہلا چیلنج مئی میں امریکی فوجیوں کے انخلا کی صورت میں طالبان کا ردعمل ہوگا۔ کیا وہ امن معاہدے کے ساتھ رہیں گے یا وہ خود کو علیحدہ کرلیں گے۔ اگر امریکی واقعی مئی میں امریکی فوجیوں کے انخلا کا حامی نہیں تو اسے ہر صورت میں افغان طالبان کو اعتماد میں لے کر ایک نئے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔کیونکہ اس سطح پر مذاکرات کا ٹوٹنا یا کسی فریق کا باہر نکلنا افغانستان سمیت خطہ کی سیاست یا امریکہ کے مفاد میں نہیں ہوگا۔
اس وقت سب کی نظریں اسی افغان امن معاہدے پر لگی ہیں اور دیکھنا ہوگا کہ اس کے نتیجے میں کیا سامنے آتا ہے۔ امن قائم ہوتا ہے یا جنگ جاری رہتی ہے۔