ملکہ برطانیہ کے شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا 99 برس کی عمر میں وفات پا گئے

  • جمعہ 09 / اپریل / 2021
  • 7240

بکنگھم پیلس نے اعلان کیا ہے کہ ملکہ برطانیہ کے شوہر پرنس فلپ 99 برس کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔

بکنگھم پیلس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ’انتہائی افسوس کے ساتھ ملکہ برطانیہ کی جانب سے اعلان کیا جاتا ہے کہ ان کے ہردلعزیز شوہر ڈیوک آف ایڈنبرا شہزادہ فلپ وفات پا گئے ہیں۔‘ بیان کے مطابق شہزادہ فلپ کی وفات جمعہ کی صبح ونڈزر کاسل میں ہوئی۔

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ شہزادہ فلپ لاتعداد نوجوانوں کے لیے ایک مثال تھے۔ انہوں نے شاہی خاندان اور شہنشاہیت کو چلانے میں مدد دی تاکہ وہ ایک ایسا ادارہ بنا رہے جو کہ ہماری قومی زندگی کے توازن اور خوشی کے لیے بلاشک و شبہ کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن کا کہنا تھا کہ وہ ڈیوک کی وفات پر ’افسردہ‘ ہیں۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ ’میں بذاتِ خود، سکاٹ لینڈ کی حکومت اور سکاٹ لینڈ کے لوگوں کی جانب سے ملکہ برطانیہ اور ان کے خاندان سے انتہائی گہرے افسوس کا اظہار کرتی ہوں۔‘

10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا تھا کہ جب انہیں ڈیوک کی وفات کی خبر ملی تو انہیں ’شدید افسوس ہوا۔‘  بورس جانسن نے اس سب سے طویل عرصے تک قائم رہنے والے شاہی جوڑے میں ڈیوک کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا اور یہ بھی یاد کیا کہ شہزادہ فلپ دوسری عالمی جنگ میں لڑنے والے ان آخری افراد میں سے تھے جو اب تک زندہ رہے۔

آرک بشپ آف کینٹربری جسٹن ویلبائے نے کہا ہے کہ ’انہوں (پرنس فلپ) نے ہمیشہ دوسروں کے مفادات کو اپنے پر ترجیح دی، اور ایسا کرتے ہوئے، مسیحی اقدار کی بہترین مثال پیش کی۔‘

بی بی سی کے شاہی امور کے نامہ نگار نکولس وچیل کا کہنا ہے کہ ’یہ پوری قوم کے لیے اداسی کا لمحہ ہے‘ اور ’خاص طور پر یہ ملکہ برطانیہ کے لیے اداسی کا لمحہ ہے جنہوں نے اپنے شریک حیات کو کھویا جو 73 برس ان کے ساتھ رہے۔ یہ کسی کے تخیل سے کہیں طویل ساتھ ہے‘۔

ڈیوک آف ایڈنبرا کی وفات کے اعلان کے بعد بکنگھم پیلس پر پرچم سرنگوں کر دیا گیا جبکہ محل کے دروازے پر ان کی وفات کا نوٹس چسپاں کر دیا گیا۔ شاہی خاندان کی جانب سے ڈیوک کی وفات کی خبر جاری کیے جانے کے بعد لوگ ونڈزر کیسل کے دروازوں پر جمع ہونا شروع ہو گئے۔ ایک نوجوان لڑکی سمیت دیگر مقامی افراد نے دروازوں پر گلدستے رکھے۔ ان پھولوں کے ساتھ لگے ایک کارڈ پر لکھا تھا ’ریسٹ اِن پیس شہزادہ فلپ۔‘ ایک اور کارڈ میں ملکہ برطانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے گہرے افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔

ڈیوک کی وفات کے ردعمل میں ونڈزر میں سوگ کا ماحول ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں انہوں نے ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد اپنی زندگی کے آخری دن گزارے تھے۔ انہوں نے اپنے آخری ایام اپنی اہلیہ یعنی ملکہ برطانیہ کے ہمراہ گزارے۔

شہزادہ فلپ نے شہزادی الزبتھ سے  1947 میں ان کے ملکہ بننے سے پانچ برس قبل شادی کی تھی اور یہ برطانیہ کی تاریخ کا سب سے زیادہ دیر تک قائم رہنے والا شاہی جوڑا تھا۔ یاد رہے کہ مارچ میں ڈیوک آف ایڈنبرا کو ایک ماہ تک علاج کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تھا۔ وہ لندن کے ہسپتال میں دل  کے عارضے کے علاج کے لیے داخل تھے۔

شہزادہ فلپ اور ملکہ برطانیہ کے چار بچے، آٹھ پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں اور 10 پڑپوتے پڑپوتیاں، پڑنواسے اور پڑنواسیاں تھے۔ ان کے پہلے بیٹے شہزادہ چارلس 1948 میں پیدا ہوئے جس کے بعد ان کی بہن شہزادی این  1950 میں، شہزادہ اینڈریو  1960 میں جبکہ شہزادہ ایڈورڈ  1964 میں پیدا ہوئے۔

شہزادہ فلپ 10 جون 1921 میں یونانی جزیرہ کورفو میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد شہزادہ اینڈریو بادشاہ جارج اول کے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ ان کی والدہ شہزادی ایلس لارڈ لوئس ماؤنٹبیٹن کی بیٹی تھیں اور ملکہ وکٹوریا کی پڑنواسی تھیں۔