سعودی عرب: غداری کا الزام میں 3 فوجیوں کو سزائے موت دے دی گئی

  • ہفتہ 10 / اپریل / 2021
  • 4900

سعودی عرب نے ملک سے غداری اور دشمن سے تعاون کے الزام میں 3 فوجیوں کی سزائے موت دے دی ہے۔

وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا کہ سعودی عرب نے سنگین غداری اور دشمن سے تعاون  پر ہفتے کے روز 3 فوجیوں کو پھانسی دی۔ ان تینوں کو منصفانہ اور شفاف انداز میں مقدمے کی سماعت کے بعد ایک خصوصی عدالت نے سزائے موت سنائی۔

وزارت دفاع نے مبینہ دشمن کا نام نہیں لیا لیکن یہ سزائے موت یمن کی سرحد سے ملحقہ جنوبی صوبے میں دی گئی جہاں سعودی عرب حوثی باغیوں کے خلاف گزشتہ 6 سال سے برسر پیکار ہے۔

استنبول کے سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل اور خواتین کے حقوق کی کارکنوں کی نظربندی کے بعد سے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں سعودی عرب میں سزائے موت کے ریکارڈ کی جانچ کررہی ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق گروپوں نے تشدد اور غیرمنصفانہ مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے سعودی عرب سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سزائے موت پر عمل درآمد کو روکے۔ تاہم عالمی اداروں کی جانب سے عائد کردہ غیر منصفانہ مقدمات کے الزامات کی سعودی عرب تردید کرتا رہا ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق سعودی عرب نے 2020 میں 27 افراد کو پھانسی دی جو کئی سالوں بعد ایک سال میں دی گئی پھانسیوں کی سب سے کم تعداد ہے۔ تاہم اس کی وجہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے عائد کی گئی بندشوں کو قرار دیا گیا۔ سعودی عرب نے 2019 میں 185 مجرمان کو سزائے موت دی تھی۔