بارشوں میں ریکارڈ کمی سے سندھ اور بلوچستان میں قحط کا خدشہ
- ہفتہ 10 / اپریل / 2021
- 6380
پاکستان میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران 33 فی صد کم بارشیں ریکارڈ کی گئیں جس کے باعث صوبہ سندھ اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں قحط سالی کا خدشہ ہے۔
پاکستان کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران بارشوں میں 33 فی صد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور اس میں سب سے زیادہ بلوچستان میں 63 فی صد جب کہ سندھ میں 77 فی صد سے زائد بارشیں کم ریکارڈ کی گئیں۔
محکمہ موسمیات کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس اکتوبر سے لے کر رواں برس مارچ تک خیبر پختونخوا میں 44 فی صد جب کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں 19 فی صد بارشیں کم ریکارڈ کی گئیں۔ تاہم پنجاب میں بارشیں 46 فی صد معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئیں اور اس طرح ملک میں مجموعی طور پر بارشوں میں کمی کی شرح تینتیس اعشاریہ دو فی صد رہی۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمِ سرما سے قبل اور اس کے بعد کم بارشوں کی وجہ سے سندھ اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں معتدل قحط کی صورتِ حال پیدا ہو چکی ہے۔ معتدل قحط کی صورت حال پیدا ہونے والے ان اضلاع میں بلوچستان کے 10 اضلاع چاغی، گوادر، ہرنائی، کیچ، خاران، مستونگ، نوشکی، پیشین، پنجگور اور واشوک شامل ہیں۔
صوبہ سندھ کے ضلع بدین، قمبر شہداد کوٹ، میرپور خاص، عمر کوٹ، سانگھڑ، تھرپارکر، ٹھٹھہ اور سجاول میں معتدل قحط سالی کا خدشہ ہے۔ موسمیاتی اثرات بتاتے ہیں کہ صوبہ سندھ میں اکتوبر سے مئی تک عام طور پر بارشیں نہیں ہوتیں۔ اس لیے اس دوران معتدل قحط کی صورتِ حال رہے گی۔
پاکستان میں محکمہ میٹرولوجیکل میں قحط سے متعلق ماہر میٹرولوجسٹ ڈاکٹر شہزادہ عدنان کا کہنا ہے کہ سندھ کے جنوب مشرقی علاقوں عمر کوٹ، سانگھڑ اور تھرپارکر کے علاقوں میں دریائی یا نہری نظام موجود نہیں۔ اسی طرح بلوچستان میں بھی کوئی بڑا دریائی سلسلہ اور نہری سسٹم بھی موجود نہیں۔ بلوچستان کی زمین پتھریلی ہے جہاں بارش کے پانی کا رساؤ جلدی ہو جاتا ہے اور اس صوبے میں بارشیں ویسے ہی کم ہوتی ہیں اسی لیے ان دونوں صوبوں کے بعض علاقوں کو قحط سالی کا سامنا رہتا ہے۔
واضح رہے کہ ان علاقوں میں قحط کی صورتِ حال پر یہ دوسرا الرٹ ہے۔ اس سے قبل محکمہ موسمیات فروری میں بھی اس طرح کے خدشات کا اظہار کر چکا ہے۔