مافیا کہنے سے جان نہیں چھوٹے گی

وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب  شہزاد اکبر کی تازہ ترین گفتگو کا حاصل یہ ہے: مصنوعی بحران سے نمٹنے کے لئے چینی کے  نرخ مقرر کرنا ضروری ہے۔ جہانگیر ترین سمیت کسی کو  ٹارگٹ نہیں  کیا جا رہا۔ پہلی دفعہ حکومت نے ایکس مل قیمت مقرر کی ہے،  ہم  ہر صورت   چینی مافیا کے خاتمے کے لئے پر عزم ہیں۔ ہم نے ان مافیا کا  مقابلہ کرنا ہے اور عوام کو نجات دلانی ہے۔ 

مارکیٹ اکونومی اور اس کے  کارپرداز  اگر اس قدر کمزور اور سیدھے سادے ہوتے تو دنیا بھر میں مناپلی کنٹرول،  ذخیرہ اندوزی اور طلب و رسد کے توازن کو  بگڑنے سے بچانے کے لئے اداروں، پالیسیوں اور قوانین کا دبستان کبھی وجود میں  نہ آتا۔  اکنامکس کے زیادہ تر علمی ذخیرے کی بھی کوئی خاص  ضرورت نہ پڑتی۔  اللہ جانے شہزاد اکبر اتنے بھولے ہیں یا وزیر اعظم اتنے سادہ کہ ان کے بھرّے میں آ گئے کہ انہوں نے قیمت مقرر کر دی اور اس قیمت پر چینی کی فراوانی ہو گئی۔  وطن عزیز میں  کئی بار یہ  تجربے ہو چکے مگر کامیاب ایک بھی نہ ہوسکا۔

چینی، گندم، آٹے  کی پیداوار اور ترسیل کی نگرانی  صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔  گندم اور گنے کی  مقرر کردہ  امدادی  قیمت کی نگرانی بھی صوبائی حکومت کی ہے۔  طلب اور رسد کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے زرعی مارکیٹنگ اور اسٹوریج کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے۔ عین سیزن میں گندم کی  خریداری کے  ساتھ  مارکیٹ میں طلب اور رسد کے تمام عوامل پر نظر  رکھتے ہوئے حکومت گندم کا کوٹہ جاری کرتی ہے تاکہ نجی شعبے کو من مانی کا موقع نہ ملے۔ بین الصوبائی  نقل و حرکت، سمگلنگ،  ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں  پر صوبائی حکومت  کی کڑی نگرانی  اسی  بندو بست کا  لازمہ ہے مگر وزیر اعظم نے حماد اظہر  کو ذمہ دار قرار دیا ہے کہ وہ   مہنگائی کو کنٹرول  کریں۔

  چینی کی امپورٹ اور ایکسپورٹ  کی اجازت بھی انہیں عوامل کو سامنے رکھ کر   دی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں پیداواری لاگت اکثر عالمی منڈی  سے زائد ہوتی ہے، اس کا حل یہ نکالا جاتا رہا ہے کہ ایکسپورٹ  پر سبسڈی یا امپورٹ  پر ڈیوٹی میں رعایت  دی جاتی رہی ہے۔  اگر برآمد بذریعہ ریل ہوئی تو  جن  شوگر ملز مالکان کا  سرکار دربار  میں   طوطی بولتا، انہیں ریل بوگیا ں سب سے زیادہ اور  جلد دستیاب ہوتیں۔  تسلیم کہ ایکسپورٹ   یا امپورٹ پر سبسڈی اور کوٹے  اور ریلوے بوگیوں کے نظام میں  ریوڑیاں اپنوں کو ہی  بانٹی جاتی تھیں لیکن اس سارے  دھندے میں چینی کی قیمتوں میں طویل مدت استحکام رہا۔ وقتی اتار چڑھاؤ بھی  آتے رہے لیکن مجموعی طور پر  قیمتیں بے لگام کم ہی ہوئیں۔

شوگر انڈسٹری  سیاسی اشرافیہ کی پسندیدہ انڈسٹری ہے، حلقے کی سیاست  بھی  خوب چمکتی ہے۔  شوگر زوننگ اور  نیم مناپلی  کی  کاروباری فضا  میں منافع بھی چوکھا  ہے۔  بظاہر  زیادہ تر شوگر ملز کی بیلنس شیٹس  مفلس کے چراغ کی طرح  کمزور ہوتی ہیں لیکن ان کے مالکان  کے لائف اسٹائل اور اثاثہ جات  پر خزاں کا کبھی گزر نہیں ہوتا۔ مزید حیرت یہ کہ  ایسی مایوس کن  بیلنس شیٹس کے باوجود انہیں بنکوں سے قرضوں کی فراہمی کبھی بند نہیں ہوتی۔ یہ سب  اوپن مارکیٹ کا  وطیرہ نہیں لیکن  طوہاٌ کرہاٌ یہ سب  ہوتا رہا، کیوں اور کیسے ہوتا رہا؟ سب کو معلوم ہے۔

 پیداواری  ڈھانچے اور مارکیٹ فورسز میں لاکھ خامیاں سہی مگر ان  خامیوں کو  کاروباری اور مارکیٹ سسٹم کے مطابق ہی بہتر کیا جا سکتا ہے۔ مگر پی ٹی آئی کی حکومت نے برسرِ اقتدار آتے ہی  نواز شریف فیملی اور آصف علی زرداری کے ساتھ سیاسی حساب بے باق کرنے کے لئے چینی ایکسپورٹ کے لئے دی جانے والی سبسڈی اور کوٹے کو سیاسی ٹوپی پہنا کر ٹاک شوز اور جلسوں کی زینت بنا ڈالا۔ پی ٹی آئی کی  اپنی صفوں میں بھی صف اوّل کے شوگر ملز مالکان موجود تھے مگر سیاسی دشمنی کا بیانیہ اس قدر سر چڑھ کر بولا  کہ پکڑ دھکڑ سے پیدا شدہ خوف  کی  فضا میں منافع خوروں کو موقع مل گیا۔ ساٹھ پینسٹھ روپے کلو سے چینی ایک سو  روپے سے اوپر چلی گئی، وزیر اعظم نے پہلے تو ملبہ مسابقتی  کمیشن پر  ڈالا کہ ان کی کوتاہی ہے کہ قیمتوں کو کنٹرول کیوں نہیں کیا۔

اس کے بعد انکوائری رپورٹ اوراسے پبلک کرکے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے ہنگامہ برپا کیا اور قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار چینی مافیا کو قرار دیا۔ اس افراتفری میں  منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں  اور سٹے بازوں کو مزید موقع مل گیا۔   جہانگیر ترین وزیراعظم کے عتاب کا شکار ہوئے تو  انکوائری کا  بڑا نشانہ  وہی  بنے، حالانکہ شوگر انڈسٹری کی بے شمارخامیوں کے باوجود ان کی شوگر ملز کی بہترین کارکردگی انڈسٹری کے لئے مثال تھی مگر اب وہ خود مثال بنے ہوئے ہیں ۔ شہزاد اکبر  کے بقول اب دیگر  کئی شوگر ملز کو بھی کٹہرے لانے  کا مشن جاری ہے۔

ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، سٹّے بازی اور شوگر ملز کی ملی بھگت یعنی  کارٹلز  سے  سیاست زدہ  احتساب  کے ذریعے نمٹنے کی اپروچ  منطقی نہیں۔ اس کا بہترین فورم  پاکستان مسابقتی کمیشن  ہے۔ سیاسی  اور ذاتی تعصبات سے بالا تر اس  ادارے کو  بھرپور انتظامی اور قانونی مشینری کی سپورٹ درکار ہے جو  ماضی میں شاذ ہی اسے میسر ہوئی۔ اکنامک ایشوز کو جب سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے  استعمال کریں گے تو  معاملات  سیاسی کھلواڑ بن سکتے ہیں جو ا س وقت چینی  کے ساتھ ہو رہا ہے  اور گندم اور آٹے کے سلسلے میں بھی ہوتا  رہا ہے۔ 

معاشی اور پیداواری معاملات  کے بگاڑ  اور  حیلہ سازیوں  کو سیاست  سے  جڑے امتیازی احتساب کی بجائے  موزوں  اداروں کے ذریعے نمٹیں  گے تو  بات بنے گی ورنہ  قیمتوں اور اشیا کی  دستیابی کا جھنجھٹ سیاسی پریس کانفرنسوں کا راتب تو بن سکتا ہے، حل نہیں ہوگا۔  مسابقتی  کمیشن،  اس کے  بھرپور عدالتی  اختیارات ،  بنکنگ کورٹس،  ایف بی آر، کین کمشنر  جیسے اداروں کے ساتھ ساتھ وفاقی اور صوبائی ادارے پالیسی  انفورسمنٹ اور  کڑی نگرانی کا رول تندہی سے انجام دیں تو بات بنے گی۔ ورنہ صبح شام مافیا مافیا کی گردان سے سیاست تو چمکے گی مگر عوام کی مہنگائی سے جان نہیں چھوٹے گی۔ اور شاید حکومت کی بھی جان  اتنی آسانی  سے نہیں چھوٹے گی۔