ڈسکہ ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کی امید وار کامیاب
- ہفتہ 10 / اپریل / 2021
- 5600
ڈسکہ میں قومی اسمبلی کے حلقہ 75 میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے غیرحتمی و غیرسرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ(ن) کی امیدوار نوشین افتخار نے ایک لاکھ 11 ہزار 220 ووٹ لے کر تحریک انصاف کے علی اسجد ملہی پر شکست دے دی۔
تمام 360 پولنگ اسٹیشنز سے موصول غیرسرکاری و غیرحتمی نتائج کے مطابق مسلم لیگ(ن) کی امیدوار نوشین افتخار ایک لاکھ 11 ہزار 220 ووٹ حاصل کیے۔ ان کے مقابلے میں تحریک انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی نے 92 ہزار 19 ووٹ حاصل کیے ہیں۔ انہیں 19 ہزار 201 ووٹوں کے واضح فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
این اے 75 میں کامیابی پر مسلم لیگ(ن) کے کارکنوں نے رات گئے جشن منانا شروع کردیا تھا۔ سیالکوٹ ڈسکہ کالج روڈ پر مسلم لیگ کے مرکزی الیکشن ہال میں فتح کے بعد جشن کا سماں تھا اور کارکنان نے ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگاتے ہوئے رقص کیا۔
اس سے قبل صبح 8 بجے شروع ہونے والی پولنگ بغیر کسی وقفے کے جاری رہی اور شام 5 بجے پولنگ کے وقت کے اختتام کے ساتھ ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہو گیا تھا۔ ضمنی انتخاب میں اصل مقابلہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے علی اسجد ملہی اور مسلم لیگ (ن) کی نوشین افتخار میں تھا جبکہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے امیدوار خلیل سندھو کو بھی حلقے میں کافی حمایت حاصل تھی۔
حلقے میں ووٹرز کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 94 ہزار ہے جن کے لیے 360 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے جن میں سے 47 کو حساس قرار دیا گیا تھا۔ پورا دن پولیس اور رینجرز نے پولنگ اسٹیشنز پر سختی سے پہرہ دیا اور کہیں سے بھی کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
19 فروری کو گزشتہ ضمنی الیکشن میں پرتشدد واقعات کی وجہ سے اس مرتبہ لوگ خوف و ہراس کا شکار نظر آئے جس کی وجہ سے ووٹنگ ٹرن آؤٹ واضح طور پر کم رہا۔ ضمنی انتخاب کے موقع پر حلقے میں دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی جس کے باعث ہر طرح کے اسلحے کی نمائش پر پابندی عائد تھی۔ شفاف اور پرامن انتخاب کے لیے چیف الیکشن کمشنر خود انتخاب کی نگرانی کر رہے تھے۔
واضح رہے کہ 19 فروری کو قومی اسمبلی کے حلقہ 75 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پرتشدد واقعات ہوئے تھے ۔ 20 پریزائیڈنگ افسران پولنگ بیگز کے ہمراہ لاپتا بھی ہوگئے تھے جو اگلے روز صبح 6 بجے آر او دفتر پہنچے۔
ضمنی انتخاب میں نتائج میں غیر ضروری تاخیر اور عملے کے لاپتا ہونے پر 20 پولنگ اسٹیشن کے نتائج میں ردو بدل کے خدشے کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے متعلقہ افسران کو غیر حتمی نتیجے کے اعلان سے روک دیا تھا۔